حج بند، قیامت کی ایک اور واضح نشانی پوری ہوگئی

1828

کوروناوائرس وبا کے حوالے سے اب تک پوری دنیا کے عوام متحد نہیں ہو پائے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت جیسے اور دیگر آرگنائزیشنز، ڈاکٹرز، حکمران اور افواج کوروناوائرس کی حمایت میں ہے جبکہ عوام اس وبا کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے اور اب کوروناوائرس کے جان لیوا وبائی خطرات کو جھوٹا قرار دے رہی ہے۔

کوروناوائرس سے کسی ملک کو اتنا نقصان نہیں ہوا جتنا مسلم ممالک کو ہوا ہے اور یہ محض دعویٰ نہیں ہے۔ اگر کوئی باشعور و ذی علم مسلمان بین الاقوام سطح پر نظر دوڑائے تو حقیقت منکشف ہے کہ معاشی طور پر مسلمان ممالک بالخصوص پاکستان بے بس ہیں اور ورلڈ بینک کی امداد برائے قرض کے رحم و کرم پر ہیں جس کا ثبوت امریکہ کا ڈالر ہے کہ اس وبا کے نتیجے میں عالمی معاشی بحران میں صرف ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہورہا ہے۔ اسی طرح عالمی ادارہ صحت بھی اس وبا کے خطرات کو صرف مسلمان ممالک پر زیادہ موثر بتانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کی دلیل حالیہ دنوں میں امریکہ میں سیاہ فام کی ہلاکت پر پرتشدد مظاہرے اور احتجاج ہیں جس میں ہزاروں افراد شرکت کرتے ہیں لیکن ڈبلیو ایچ او امریکہ کو ڈھکے چھپے لفظوں میں بھی نہیں کہتا کہ اس کثیر تعداد میں افراد کا جمع ہونا خطرے سے خالی نہیں حالانکہ امریکہ اس وقت کوروناوائرس کا گڑھ بنا ہوا ہے جبکہ یہی نام نہاد ادارہ پنجاب، پاکستان کو خط لکھتا ہے کہ کوروناوائرس کیسز کی تعداد بڑھ رہی ہے لاک داؤن سخت کیا جائے۔

ان حقیقتوں کے باوجود دنیا بھر کے مسلمان انگریزوں کی باتوں پر آنکھیں بند کر کے یقین کرتے جارہے ہیں اور اس کی وجہ سے اپنے دینی شعائر سے اجتناب برت رہے ہیں۔ فرض نمازوں پر، صفوں میں فاصلے کو لازمی قرار دینا، عید کے دنوں میں، تراویح میں اور اب حج پر بھی پابندی لگادی گئی۔ حج پر پابندی کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قربِ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔

ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُحَجَّ الْبَيْتُ

ترجمہ: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک بیت اللہ کا حج موقوف نہ ہو جائے۔

(صحیح بخاری،كتاب الحج،حدیث: 1593)

اب اس حدیث کی روشنی میں اگر حالات کا جائزہ لیا جائے تو اس کے 2 مطالب سامنے آئیں گے۔  ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک مدت تک جنگوں اور فسادات کی وجہ سے بیت اللہ کا حج موقوف رہے گا اور پھر جاری ہوجائے گا، یا اس کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ کچھ قومیں لوگوں کو بیت اللہ کا حج کرنے سے زبردستی روک دیں گی۔ لیکن اس کا یہ بھی تو مطلب ہوسکتا ہے کہ ایک وبا کے نام پر بین الاقوامی سطح پر  سازش برپا کی جائے گی جس کی وجہ سے حج بند کردیا جائے گا۔

کوئی اس حدیث کے موجودہ حالات پر اطلاق کے حوالے سے یہ کہہ سکتا ہے کہ حج اس سے قبل بھی موقوف کیا جاچکا ہے لیکن تاریخ دیکھی جائے تو معلوم ہوگا یا تو حج کے دوران کوئی معاملہ درپیش آیا اور حج معطل ہوگیا یا حج کی پبندی مخصوص خطوں کیلئے محدود تھی۔ مثال کے طور پر 930ء میں اہل تشعیوں کے فرقے قرمطیان نے حج کے دوران حاجیون پر دھاوا بولا اور کئی حاجیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

اسی طرح ماضی میں کچھ سیاسی اختلافات و تنازعات کی بنا پر مخصوص علاقوں سے آنے والے افراد کو بھی حج سے روک دیا گیا کیونکہ وہ زمینی راستے جو حجاز تک آتے تھے وہاں سیکورٹی نامکمل تھی۔

983ء میں بغداد و مصر حالتِ جنگ میں تھے اور مصر کی فاطمی خلافت کے بادشاہ نے مسلمانوں کا اصل حکمران ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور عراق و شام کی عباسی خلافت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس جنگ کا نتیجیہ ہوا تھا کہ اس میں شامل ممالک کی عوام 8 سال تک حج کی سعادت سے محروم رہی تھی۔

لیکن کوروناوائرس کے دوران حج کا موقوف ہونا مذکورہ بالا واقعات سے اس لئیے جداگانہ معاملہ رکھتا ہے کیونکہ اس میں دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو حج سے روک دیا گیا ہے جو کہ واقعی تشویش ناک ہے۔ جیسا کہ اوپر گزر چکا ہے کہ دنیا بھر کی عوام بشمول امریکی، کوروناوائرس کو ایک سازش قرار دے چکے ہیں اور  اس کے ثبوت بھی پیش کئیے جاچکے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایسی سازش میں داکٹرز کلیدی کردار ادا کرہے ہیں جو کہ عام مریض کو بھی کورونا کے مریض کی فہرست میں داخل کرہے ہیں جس کی مثالیں پاکستان میں بھی سامنے آچکی ہیں۔

اس سازش کا سعودی عرب بھی شکار ہوا ہےکیونکہ حدیث میں ایک ایسے فعل کی جانب اشارہ کیا گیا ہے جو کہ نہیں ہونا چاہئیے اور سعودی حکام نے وہی کام کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اگر کوروناوائرس  واقعی ایک خطرناک وبا ہوتی اور اس کی وجہ سے حج کا موقوف ہونا جائز ہوتا تو لازماً نبی صلی اللہ علیہ وسلم مذکورہ بالا حدیث میں اس کی جانب اشارہ فرماتے کہ وبا ظاہر ہوگی جس کی وجہ سے حج کو بند کا جائے گا لیکن حدیث میں ایسا کسی وبا کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ حج ایک دینی فریضہ ہے اور کسی شخص کو دینی فریضے سے روکنا بغیر کسی شرعی عُذر کے ناجائز ہے۔ اور کوروناوائرس کی آڑ میں تو ہر وہ کام کرنے کا کہا جارہا ہے جو دینی شعائر و شرعی احکامات کیخلاف ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مذہب اسلام کو ہی نشانہ بنانے کیلئے کوروناوائرس کو جان لیوا وبا کہہ کر مسلمان عوام کو دینِ اسلام سے دور کردیا گیا ہے کیونکہ دینِ حق صرف اسلام ہی ہے جس کا ادراک دشمنِ اسلام کو بھی ہے۔