“تبدیلی کی ہوائیں “

461

اعظم علی ۔ سنگاپور

لانے والے ہمیشہ سدہائے ہوئے گھوڑے لے کر آتے ہیں جو ان کے  اشارے پر ہارس اینڈ کیٹل شو میں رقص کر سکیں بعض واقعی تابعداری کےساتھ  رقص کرکے تماشائیوں کو لبھا کر چلے جاتے ہیں۔

دراصل اصیل گھوڑے سدھانا مشکل اور اوپر سے وہ سب فوجی اصطبل میں فوج کے اپنے کام ہی لئے کافی ہوتے ہیں ، سیاسی ہارس اینڈ کیٹل شو میں زیادہ تر گھوڑا نما خچر ہی ہوتے ہیں جن سے گھوڑے کی اداکاری کراکر کام چلایا جاسکے۔

لیکن بعض ایسے ہوتے ہیں جو گھوڑے کی کھال میں خچر تو کیا گدھے ہی ثابت ہوتے ہیں۔۔ یہ ٹرینرز کی نااہلی ہوتی ہے کہ دوران تربیت ایسے غیر اصیل کو پہلے  سے ہی ریجکٹ کی بجائے سرکس کے پنڈال میں لانچ کردیا۔

اب یہ ٹرینرز کی نااہلی یا اناپرستی ہے اور غلطی کا اعتراف ہماری قوم کی سرشت ہی میں نہیں ہے اس لئے اسی خچر نما گھوڑے ہی کو پنڈال میں ڈانس کرانا چاہ رہے ہیں اور تماشائیوں کو حکم ہے کہ تالیاں بھی بجاؤ لیکن تابکہ۔۔

ابھی تک تو ٹرینر اپنے بھیجے ہوئے گدھے کو تماشائیوں کی آنکھوں میں دھول دیکر اسکرین پر اور اپنی مرضی کے کامینٹیٹرز کے ذریعے یقین دلا رہا ہے کہ یہ اصیل گھوڑا ہے۔ لیکن کیا کریں اس میں دو خصوصیات ہے جن کی وجہ گھوڑے کی اداکاری بھی نہیں کرسکتا۔ ایک تو یہ اڑیل بہت ہے دوسرا جب بھی بولتا ہے ڈھیچوں ہی کی آواز نکلتی ہے۔

جب گھوڑا  خچر نہیں بلکہ گدھا ثابت ہو رہا تو بدلنا پڑتا ہے شاید ٹرینر کو بھی ، لیکن ٹرینر کی سیٹ ابھی تک تو تین سال کے لئے پکّی ہو چکی ہے۔اگر میں غلط نہیں تو متبادل گھوڑے  کی تلاش  بھی شروع ہوگئی ہے ہارس شو لمبا ہے گھوڑے بھی  ابھی بہت باقی ہیں یہ نہیں تو اور سہی۔

ہمیشہ کی طرح آخر میں ٹرینر معصوم ہی ہوتا ہے قصور تماشائیوں ہی کا نکلے گا۔بات صرف اتنی سی ہے کہ اگر غلط کمپنی کے شیئر خرید لیں تو عقلمند اپنے نقصان کو کم کرکے باہر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں  ممکن ہے کہ ٹرینر کے لئے بھی نقصان کو کم از کم کرنے کا موقع ہے۔

ایک بات یادرکھیں  کہ انتخابات میں تقریبا تین سال باقی ہیں۔۔ یعنی اگر کوئی کام کرنے والا خچر بھی  لایا جائے اور وہ واقعی “تبدیلی “ لاسکے تو تین سال  کےاندر وہ گھوڑا بھی بن سکتا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو اسکندر مرزا سے لیکر جنرل ایوب خان کا خچر تھا۔۔ نواز شریف کو بھی جنرل جیلانی بطور خچر لایا تھا جو گھوڑا بن گیا ۔ جنرل ضیاء و مشرف بھی لانے والوں کو بطور خچر لائے تھے لیکن اپنے سواروں کو پچھاڑیاں مارنے والے گھوڑے بن گئے۔

اسوقت بَلّے اور شیر والوں کے اصطبل میں ایک ایسے تابعدار گھوڑے کی تلاش ہے جو جمہوری ہارس شو میں کرتب بھی دکھا سکے اور تماشائیوں کو لبھا بھی سکے، ریس کے ٹریک پر دوڑ بھی اور اس وقت مسافروں و سامان سے بھری معیشت کی گھوڑا و گدھا گاڑی بھی گھسیٹ سکے۔

ہائے ایسا ہمہ  صفت گھوڑا/گدھا/خچر کہاں سے لائیں؟ سنا ہے کہ خچر گھوڑے اور گدھے کے ملاپ سے  پیدا ہونے والی ہائی بریڈ نسل ہوتی ہے۔ اب اس ہائی بریڈ کو مزید جینیٹکل انجینئرنگ کی ضرورت لگتی۔

ویسے تو اصطبل میں اصیل سے لیکر جینٹک انجینئرنگ کےشاہکار گھوڑے ، خچّر ،گائیں بلکہ کتّے تک ملتے ہیں۔ اور سنا ہے تربیت گاہوں میں انسان کی کھال تو کیا اسکا دل ودماغ تک بدل جاتا ہے کہ اچانک ہی اپنے کھیتوں، کھلیانوں و سڑکوں میں گھومتا ہو نوجوان بیرکس میں جاکر خود کو الگ ہی مخلوق اور باقی کو بلڈی سولین سمجھنے لگتا ہے۔

بھول گئے اپنے گیتوں کو پی کر میس کی “چائے”، لیکن سیاسی خچّروں کے معاملے میں فوجی اصطبل کی  ناکامی لمحہ فکریہ ہے۔ مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہماری سیاست کے اس “میلہ اسپاں و مویشیاں” میں تبدیلی  صرف گھوڑوں، گدھوں اور خچروں کی آتی ہے، صاحبان اصطبل جو اس میلے کے ہدایتکار اور چیف سلیکٹر و “ایمپائیر” بھی، ہمیشہ  “مقدس گائے” ہیں۔

پہلے ایسا لگتا تھا کہ موجودہ گھوڑے یا گھوڑا نما کے پاس محدود امکانات اب بھی ہیں۔ ممکن ہے اس میں گھوڑے پن کے جو ہارمون انجیکٹ کئے گئے ہیں وہ کام کرنے لگیں۔لیکن باجوہ کی توسیع سے لیکر قاضی فائز عیسی اور رہی سہی کسر کورونا نے “مقدس گائے “ کے غلط انتخاب پر مہر ثبت کردی ہے۔اب ایسا لگتا ہے کہ “انہیں” بھی اپنے “ تقدس” کا صدقہ دینا ہی پڑے گا اور ’’ تبدیلی کی تبدیلی‘‘  نوشتہ دیوار ہے۔

انتہائی باریک دھاگےسے ٹنگی ہوئی حکومت اپنے چند اتحادیوں اور اپنے چیف ڈیل میکر سے محرومی کے بعد گری تو نہیں لیکن لڑکھڑا ضرور رہی ہے، اب اگر “وہ” طاقت کا انجیکشن لگا دیں تو اور بات ہے ورنہ اب گری کہ تب گری۔

سوال یہ بھی اُٹھتا ہے کہ جس قسم کی عالیشان “گورنینس” کا مظاہرہ کیا ہے ان کی حکومت کا ہر دن انکے “ٹرینرز و ایمپائیرز” کے لئے شرم اور رسوائی  کا باعث ہے۔تو پھر “وہ” کیوں انہیں مزید انجیکشن لگائیں گے؟

انکے کریڈٹ پر صرف اور صرف ایک ہی کارنامہ ہے اب تک جتنے بھی “خچّر یا گھوڑے نما “ لانچ کئے گئے ان میں انکی اطاعت شعاری بے مثال ہے، لیکن پھر یاد آیا کہ میر ظفر اللہ جمالی بھر پرویز مشرف کو “باس” کہتے تھے لیکن انکے بھی “کمال نَے نوازی” کسی کام نہیں آیا۔

اوپر سے کورونا کی بڑہتی ہوئی اموات نظام صحت اور گورنینس کی بدترین ناکامیاں ، معاشی ناہمواری و عوام کی دشواریوں کے نتیجے میں ۔ صدقے کےبکرے کی شدید ضرورت ہے، ابھی تک تو درباریوں کا صدقہ دیکر بلا ٹالی جارہی ہے لیکن کب تک۔بادشاہ کی گردن کا بھی نمبر آہی جائے گا۔

ایک اور صاحبِ “بوم بوم” کے سر پر دست شفقت پھیرا جارہا ہے۔ لیکن نہ تو اس میں وہ Charisma  ہے اور نہ ہی  وہ افسانوی شہرت کہ وہ چل سکیں۔ ویسےبھی اسے دشت سیاست میں  بائیس سال نہ تو گیارہ سال صحرا نوردی کی ضرورت ہے، لیکن یہ پُوت تو ابھی گھٹنوں کے بل چلنے کے قابل بھی نہیں ہوا اور اسکے پاؤں پالنے میں ہی نظر آرہے ہیں  یہ فلم تو شاید چلنے سے پہلے ہی ڈبّے میں بند ہوتی نظر آرہی ہے۔

ٹرینرز کو بھی یاد رکھنا چاہیے گدھا کتنا ہی ہینڈسم  ہو گھوڑا تو نہ بن سکا لیکن دولتیاں مارنا اسے آتا ہے۔ جب شہید ہی ہونا ہے کہ تو ایک دولتی جوکہ شاید آخری دولتی ثابت ہو۔۔ (پارلیمنٹ توڑ کر) نہ کھیڈیں گے نہ کھیڈنے دیں گے کی کو شش ضرور کرے گا۔اب دیکھتے ہیں کہ جعلی گھوڑے اور ٹرینر میں سے پہلے کون پھونک مارتا ہے؟

دوسری عراق جنگ کی تیاریوں کے   دوران امریکی میڈیا کسی فلم whack the dog کا ذکر کررہا تھا جس میں ایک کمزور صدر اپنی کمزور حکمرانی سے توجہ بٹانے کے لئے جنگ چھیڑ دیتا ہے۔اس وقت یہ کہاجارہا تھا کہ بُش اپنے اندرونی مسائل کو چھپانے کے لئے عراق پر حملہ کرنا چاہ رہا ہے اور واقعتاً وہ اس جنگ کے کاندھوں پر دوسری مرتبہ بھی منتخب ہو گیا تھا۔

مجھے ڈر ہے کہ یہ صاحب بھی ایسا ہی کوئی کام نہ کر دیں اسٹیج  تو بحر حال تیار ہے۔۔لداخ میں چینی کاروائیاں 56  انچ کے غبارے والے چائے والے کی ہوا نکالنے کے لئے کافی ہیں۔چین تو انکے بس کی چیز نہیں لیکن غریب کی جورو کے ناطے سارا نزلہ اس عضو ضعیف پر ہی پڑنا ہے۔ تاکہ 56 انچ کے غبارے میں بھرنے کے لئےکچھ ہوا کا انتظام ہو سکے۔

دوسری طرف اس قوم کی توجہ بھوک اور نااہلی کے اس نہ ختم ہونے والے تماشے سے ہٹانے کے لئے ایک نئے کھیل  کی بھی ضرورت ہے۔ اس لئے کشمیر اور لائن آف کنٹرول پر کچھ بےضرر قسم کے کھیل تماشے پھر دونوں اپنے “محب وطن “ میڈیا کے ذریعے فتح کے بگل اور اپنی اپنی بغلیں بناکر عوام کو مدہوش کرکے اپنا اپنا کام نکالنا ہے۔

لیکن تاریخ یہی بتاتی ہے کہ آپریشن گرینڈ سلام سے کارگل تک جوان خون کی قربانیاں بہادریوں کے تمغے لیکن ان ساری شہادتوں کا حاصل مشرقی پاکستان سے لیکر سیاچن تک ۔۔آخری حساب ۔۔ خسارہ اور بس خسارہ  ہی ہے۔

اللہ خیر کرے۔۔۔