مختلف خطوں میں پائے جانے والے توہمات و عقائد

629

دنیا میں بے شمار دلچسپ و عجیب توہمات و عقائد رائج ہیں مگر اُن میں سے چند کا ذکر درجہ ذیل کیا جارہا ہے۔

1) اضطراری افعال

چین میں انسا ن کے اضطراری افعال اور حرکات سے بھی شگون حاصل کیا جاتا ہے،مثلاًاگر کسی کو دوپہر کے وقت چھینک آجائے تو سمجھا جاتا ہے کہ اسے کہیں کسی بڑی ضیافت میں مدعو کیا جائے گا،جہاں اس کی ملاقات کسی بڑے آدمی سے ہوسکتی ہے۔اگر چھینک صبح کے وقت آئے تو خیال کیا جاتا ہے کہ کوئی دوست اس سے قرض مانگے گا۔

2) اعضاء

چین میں سیدھی اور باقاعدہ بھنویں (ابرو)کامیاب اور الجھنوں سے آزاد زندگی کی نشانی تصور کی جاتی ہیں جبکہ خم دار ابرووءں کو الجھن سے لبریز زندگی کی علامت خیال کیا جاتا ہے۔ اگر کسی شخص کے کان تکونے ہو ں تو سمجھا جاتاہے کہ وہ شخص افلاس اور بد بختی کی زندگی بسر کرے گا،ممکن ہے چوری بھی کرے۔

3) پیدائش کا دن

انڈونیشیا میں جوتش اور فلکیات وغیرہ کے موضوع پر ایک قدیم کتاب ’’پریمبون‘‘ملتی ہے۔ اس کے مطابق اگر ایک شخص بدقسمتی سے منگل کے دن پیدا ہو گیا تو وہ زبردست مجرم یا قاتل ثابت ہوگا چنانچہ معاشرہ کے بہت سے لوگ اُسے نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس کے برعکس یورپی ممالک میں عوام الناس کا عقیدہ ہے کہ جوشخص منگل کے دن پیدا ہو، وہ مبارک اور خوش قسمت ہوتا ہے۔ جاوا کے باشندوں کا عقیدہ ہے کہ جو بچہ ان کے مہینے کی سولہ تاریخ کو پیدا ہو تو وہ احمق اور نادان ہوتا ہے۔انڈونیشیا میں صبح کے وقت پیدائش بہت سعید اور مبارک خیال کی جاتی ہے۔
جاپان میں یہ عقیدہ آج بھی موجود ہے کہ انسان کی ذاتی خوش بختی یا بدبختی کا تعلق اس کے پیدائشی وقت،دن، مہینہ اور سال سے ہوتا ہے۔

4) خواب

کوریا میں اگر کوئی شخص خواب میں اپنی موت یا گھر کو آگ میں دیکھ لے تو اُسے نہایت خوش قسمتی کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ کوریا اور بعض دیگر ممالک میں یہ رواج ہے کہ اگر کوئی شخص برا خواب دیکھے تو اس کے اثرات زائل کرنے کے لیے وہ صبح سویرے اپنے گھر کے دروازے پر کھڑا ہوجاتا ہے اور جو پہلا شخص وہاں سے گزرے، اسے مخاطب کرنے کے لیے کہتا ہے ’’میں نے اپنا خواب تمہیں بیچا۔

5) اعداد

ایک عدد ایک خطے میں مبارک خیال کیا جاتا ہے تو دوسرے میں منحوس سمجھا جاتا ہے۔ چین،جاپان کوریا وغیرہ میں آٹھ کا عدد انتہائی مبارک سمجھاجاتاہے، چنانچہ جاپان میں گاڑیوں کے ایسے رجسٹریشن نمبر جن میں آٹھ عدد کا مسلسل آتا ہو (مثلاً88 یا 888 وغیرہ) باقاعدہ نیلام ہوتے ہیں اور لوگ اپنی گاڑیوں کے لیے یہ ’’لکی‘‘ نمبر حاصل کرنے کے لیے ہزاروں ڈالر کی بولی تک لگانے کے لیے تیار رہتے ہیں بالکل اسی طرح وہاں چار کے عدد کو بہت منحوس اور موت کی علامت خیال کیا جاتاہے۔

فلپائن میں عام طور پر 13 کے عدد کو بہت منحوس تصور کیا جاتا ہے اور اگر کسی مہینے کی تیرہ تاریخ کو جمعہ کا روز ہو تو وہ دن سال کا سب سے منحوس اور نامبارک دن خیال کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی اس روز ڈر کے مارے گھر سے با ہر نہیں آتے کہ کہیں کوئی حادثہ پیش نہ آجائے۔

6) ممنوع خواہش

ملائشیا میں اگر کوئی حاملہ عورت کسی ایسی چیز کی خواہش کرے جو عام طور پر ممنوع خیال کی جاتی ہو تو بھی اس کی خواہش کو پورا کرنا ضروری خیال کیا جاتا ہے ورنہ ان کے خیال میں پیدا ہونے والے بچے پر اس کا برا اثر پڑسکتا ہے۔

7) تابوت دیکھنا

کوریا میں صبح سویرے مردے کا تابوت دیکھنا عمدہ شگون تصور ہوتا ہے۔ جاپان میں ہفتے کے ایک خاص دن’’ٹوم بکی‘‘ میں جنازہ لے جانا یا موت کی رسوم ادا کرنا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ اگر کوئی شخص اس روز مرجائے تو اگلے روز تک اس کی لاش کو تابوت میں رکھا جاتا ہے۔

21ویں صدی میں مذکورہ بالا جیسے رجحانات  دنیا میں کیوں پائے جاتے ہیں؟۔ اس کی ایک اہم وجہ یہ کہ آج کے دور میں انسان کو اپنا مستقبل اس قدر غیر یقینی نظر آرہا ہے کہ وہ توہمات و بےبنیاد عقائد کے تاریک دور میں واپس جانا چاہتا ہے جبکہ اسلام نے تمام اوہام باطلہ کی نفی کردی اور انہیں مردہ قرار دیا ہے۔