لداخ میں ذلت آمیز شکست، سابق فوجیوں کا آرمی چیف کو کھلا خط

572

نئی دہلی: چین کے ہاتھوں لداخ میں ذلت آمیز شکست پر ہندوستانی عوام میں مایوسی اوربددلی کا ماحول پیدا ہوگیا۔

بھارت کے سابق ورحاضر سروس فوجیوں کے خاندانوں کا کھلا خط لکھا گیا ہے جس میں بھارتی فوج کی رہی سہی کسربھی نکال کررکھ دی ہے ۔

خط میں کہا گیا ہےکہ ہم مسلح افواج کےحاضرسروس اورریٹائرڈ اہلکاروں کے اہل خانہ اپنے فوجیوں ، اپنی فوج کے ساتھ ثابت قدم ہیں۔ آرمی چیف صاحب یہ ٹھیک ہے کہ بھارت کو گیلوان اورلداخ کے محاذ پرسخت ہزیمت اورشکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہم اس کے باوجود بھی خوفزدہ نہیں۔

ہم تو اس مشکل وقت میں اپنے پیارے فوجیوں کی سلامتی کے لئے دعاگو ہیں لیکن ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ وادی گیلوان میں کیا ہوا ہے۔ ہم آپ کی اس بات سے بھی اتفاق کرتے ہیں کہ گیلوان اورلداخ کے محاذ پرآپ نے کوئی حکمت عملی اپنائی ہوگی لیکن یہ تو بتایا جائے کہ پھردونوں محاذوں  پراس قدربری شکست کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟۔

خط میں  بھارت آرمی چیف سے کچھ سوالات کے جوابات بھی مانگے گئے ہیں ان میں :

اگر چین کی طرف سے مداخلت نہیں کی گئی تو پھر کمانڈنگ آفیسر سمیت بہت سے فوجیوں کا جانی نقصان کیسے ہوگیا ؟۔

– نہ صرف ہمارے فوجیوں کو وحشیانہ طور پر ہلاک کیا گیا بلکہ ان کی لاشیں مسخ کردی گئیں۔ کیوں؟

– کیا وہ اپنے طور پر دشمن کے علاقے میں داخل ہوئے (جیسا کہ چین نے دعویٰ کیا ہے) اور دفاع میں حملہ ہوا؟

– ہم لداخ ڈیزاسٹر میں روزانہ ایک نیا ڈراما کیوں دیکھ رہے ہیں ؟

– کیا ہمیں کبھی حقیقت معلوم ہوگی؟

– کیا ہمارے فوجی اپنے ہی بچھائے ہوئے جال میں گر گئے؟

No Indian troops missing in action post China faceoff | India News ...

خط میں مزید کہا گیا کہ جناب آرمی چیف صاحب جس طرح چینی فوجیوں نے ہمارے فوجیوں کی درگت بنائی اوروحشیانہ طریقے سے ان کا قتل کیا یہ آپ ہی ہیں جو ہم سے زیادہ سخت ہیں اوراتنا بڑا نقصان برداشت کرگئے ہیں ہم سے یہ برداشت نہیں ہورہا ۔ ہم پریشان تو اس لیے ہیں کہ آپ کی پالیسی دشمن کو گھرمیں گھس مارنا ہے اور آپ الٹا صفائیاں پیش کررہے ہیں ۔

جناب آرمی چیف صاحب بتائیں کہ ہماری نیوی ، ہماری فضائیہ اورہماری بری افواج کا رعب اوردبدبہ دکھلاوے کا ہے کہنے کو تو ہم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس دنیا کی بڑی فضائیہ ، بحریہ اوربری افواج ہیں لیکن وہ کدھرہیں ۔ ہمیں داخلی اور بیرونی طور پر ایک مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگرچہ ملک کا ہر شہری ہمارے فوجیوں کے ساتھ کھڑا ہے ، لداخ کی تباہی نے یہ واضح کر دیا کہ ہمارا کوئی میکنزم نہیں ، کوئی ہماری کمانڈر نہیں اور فوج نے ہندوستانی قوم کا پیسہ کھانے کا ایک بہانہ بنا رکھا ہے۔

خط میں بھارتی آرمی چیف کی مزید درگت بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بڑی عجیب بات ہے کہ ہندوستانی کی حفاظت کرنے والے چینی فوج سے بچتے ہوئے پناہ کی تلاش میں ہیں۔

– کیا آپ نے جو ذمہ داریوں اور مراعات آپ سے دی ہیں ان کے ساتھ انصاف کیا؟

– کیا آپ اپنے فوجیوں کی مدد کے لیے پہنچے ؟

– کیا آپ نے لداخ میں ہمارے فوجیوں کو ہلاک نہیں کرایا ، کیاان کی لاشوں کے ساتھ بے حرمتی نہیں کی گئی ؟

ہمیں یقین ہے کہ آپ کو یہ باتیں بہت دکھ دیتی ہوں گی اوریہ بھی یقین ہے کہ آپ ان سوالات کے جوابات بہتردے سکتے ہیں لیکن کیا حکومت میں‌بیٹھے ہوئے لوگوں کو اخلاقی طورپرمستعفی نہیں ہوجانا چاہیے تھا۔

India-China Highlights (June 18): No soldier critical as of now ...

ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ چین کی طرف سے ہندوستانی فوجیوں کے ساتھ جوسلوک کیا گیا آپ کویہ برداشت نہیں لیکن یہ کیا ہےکہ دشمن نے ہمیں ہمارے گھر میں آکرگھس کرمارا ہےاورہم پھربھی یہ ماننے کےلیے تیارنہیں ایسے ملک کی حفاظت نہیں کی جاسکے گی۔

ہم نے اپنے پیارے ملک کی حفاظت کیلئے قربان کیے لیکن اگریہی حال رہا توپھرتوتمہیں اپنی جان کے خطرہ لاحق ہوجائے گا۔

ہمیں یہ بتایا جائے کہ کیا ہمارے فوجیوں کو اسی طرح مروایا جائے گا یہ پھرہمت ہارتی فوج کو پھرسے حوصلہ دے کردشمن سے بدلہ لینے کے لیے تیارکیا جائے گا اب یہ آپ پرمنحصر ہے؟۔

آخرمیں ہم آپ سے یہ بھی سوال کرتے ہیں کہ پورے ہندوستان کا بجٹ کھا کراورمراعات لے کرپھربھی اگرہمارے فوجیوں کوبڑی بری طرح قتل کیا جانا ہی ہے تو پھراس سے بڑھ کراورذلت کیا ہوسکتی ہے آگے بڑھیں  ہم آپ کے ساتھ ہیں ۔ جب پوری قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہوگی تو امید ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔