رینجرز پر حملوں میں روسی ساختہ دستی بم استعمال کیا گیا

456

کراچی:سکیورٹی اداروں نے کراچی اور گھوٹکی حملوں کی ابتدائی تحقیقات رپورٹ تیار کرلی، جس کے مطابق کراچی میں رینجرز پر حملے کیلئے روسی ساختہ دستی بم استعمال کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے کراچی اور گھوٹکی میں پیش آنے والے دہشتگردی کے واقعات کی ابتدائی رپورٹ تیار کرلی ہے، کے مطابق گھوٹکی میں رینجرز کی گاڑی کے قریب آئی ای ڈی استعمال نہیں کی گئی بلکہ ایسا لگتا ہے گھوٹکی میں حملہ دستی بم سے کیا گیا۔

اس سے قبل 10 جون کو شہر قائد میں رینجرز پر ہونے والے 2 حملوں میں بھی دستی بم کے استعمال کے شواہد ملے ہیں، حملے کے ایک مقام سے تفتیش کاروں کو روسی ساختہ دستی بم کی پلیٹ ملی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ  اور ان  حملوں میں مماثلت ہے، دہشتگردوں کی جانب سے دستی بم کے استعمال کی خاص وجہ ہوسکتی ہے، دستی بم کی پن نکال کر پھینکنے اور فرار کی کوشش میں 8 سے 10 سیکنڈز لگتے ہیں،دستی بم پھینکنے کے بعد فوری نہیں پھٹتا، جس سےبھاگنے میں آسانی ہوتی ہے۔

اس سے قبل اس طرح کے دستی بم بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سلیپر سیلز سے برآمد کیے گئے تھے، ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملوں کے تانے بانے بھی وہیں سے ملتے ہیں۔