وفاقی بجٹ 2020-21ء اور پاکستانی عوام

360

ڈاکٹر رضوان الحسن انصاری
پچھلے ہفتے وفاقی وزیر پیداوار و صنعت نے آنے والے مالی سال 2020-21 کے لیے قومی اسمبلی ہال میں آٹا چور، چینی چور کے شور میں وفاقی بجٹ کا اعلان کیا جس کے مطابق اگلے سال کے لیے کُل اخراجات کا تخمینہ 7136 ارب روپے لگایا گیا ہے جس میں سے قرضوں اور سود کی ادائیگی کے لیے 2946 ارب روپے، دفاع کے لیے 1289 ارب روپے، گرانٹس کی صوبوں کو منتقلی 905 ارب روپے، حکومتی اخراجات 476 ارب اور عوام پر خرچ ہونے والے ترقیاتی اخراجات (PSDP) کے لیے 650 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ایف بی آر کو 4963 ارب روپے کے ٹیکس جمع کرنے کا ہدف دیا گیا ہے۔ عوام کو دی جانے والی سبسڈیز میں 48 فی صد کمی کی گئی ہے اور پٹرولیم مصنوعات پر وفاقی حکومت کا ٹیکس جسے پٹرولیم لیوی کہا جاتا ہے اس میں 73 فی صد اضافہ کیا گیا ہے۔
حکومت کا کہنا یہ ہے کہ موجودہ کورونا وبا کے پھیلنے کے حالات میں یہ ریلیف بجٹ ہے اور اس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا ہے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ آسانی فراہم کی گئی ہے۔ لیکن پٹرولیم لیوی میں اضافے سے آئندہ سال پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا یا اگر عالمی سطح پر تیل کے نرخ گر گئے تو اس کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچ سکے گا۔ اسی طرح کئی شعبوں میں اُن کی ضرورت سے بہت کم رقم دی گئی ہے۔ مثلاً چند دن پہلے سرکاری یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز نے ایک مشترکہ اجلاس میں شکایت کی کہ ہمارے ضروری اخراجات کا تخمینہ 104 ارب روپے ہے جب کہ 64 ارب روپے تفویض کیے گئے ہیں۔ اسی طرح مختلف زراعتی اور کسانوں کی تنظیموں نے زراعت کی ترقی پر رقم کی سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان جیسے زرعی ملک میں زراعت کے لیے 10 ارب روپے کی رقم رکھنا ایک مذاق ہے۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے سینیٹرز کو اعتراض ہے کہ اُن کے صوبے کی ترقی کے لیے انہوں نے جن جن ترقیاتی اسکیموں کی تجاویز دی تھیں اُن میں سے ایک کو بھی شامل نہیں کیا گیا اور ہم سے آئندہ تجاویز نہ مانگی جائیں۔
یوں بھی پاکستان میں بجٹ سازی کو ایک سالانہ معمول کی مشق سمجھا جاتا ہے جس سے نہ تو حکومت کو دلچسپی ہوتی ہے اور نہ ہی اپوزیشن کو۔ اپوزیشن اسے ایک سیاسی پوائنٹ اسکورننگ کا ذریعہ سمجھتی ہے اور حکومت کا ہدف یہ ہوتا ہے کہ کس طرح عوام کی جیبوں سے زیادہ سے زیادہ ٹیکس نکلوایا جائے اور اپنے سیاسی حلقوں اور سیاسی لوگوں کو فائدہ پہنچایا جائے۔ شوگر مافیا اور شوگر انڈسٹری کا بڑا چرچا ہے اور اس مافیا کے خلاف سخت ایکشن لینے کی بہت تقریریں اور پریس کانفرنسیں ہوئیں مگر ابھی تک کوئی ایکشن عوام کو نظر نہیں آیا اور چینی کی قیمت میں جو اضافہ ہوا تھا اس میں کوئی کمی نہ ہوئی اور ابھی تک 85 سے 90 روپے کلو بک رہی ہے۔ اس طرح آٹے کا معاملہ ہے وہ صوبے جہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے یعنی خیبر پختون خوا اور پنجاب وہاں آٹا مسلسل مہنگا ہورہا ہے اور اب اسے کنٹرول کرنے کے لیے پاکستان جیسے گندم پیدا کرنے والے ملک میں امپورٹ کی باتیں ہورہی ہیں۔ یہی معاملہ پٹرول کی قلت کا ہے جس میں کئی نجی پٹرول مارکیٹنگ کمپنیاں ملوث ہیں لیکن اس سے متعلقہ محکمہ اوگرا (OGRA) کوئی دلچسپی نہیں لے رہا۔ پچھلے دنوں عدالت نے اوگرا کی چیئرپرسن کو سماعت کے دوران طلب کیا مگر وہ کورونا وائرس کا بہانہ کرکے عدالت میں پیش نہ ہوئیں۔ آٹا اور چینی کا تو یہ معاملہ ہے کہ دونوں اہم ترین اشیا یوٹیلیٹی اسٹورز پر بھی دستیاب نہیں ہیں۔ ملکی معیشت کی بہتری، زرمبادلہ کی آمدنی اور روزگار کی فراہمی میں برآمدات کا اہم ترین کردار ہے۔ ملک سے صنعت کاروں اور برآمدکنندگان کا مطالبہ تھا کہ پانچ اہم ملکی برآمدات کو زیرو ریٹڈ کردیا جائے۔ مطلب یہ کہ برآمد کرتے وقت تاجر حضرات 17 فی صد کے حساب سے سیلز ٹیکس سرکاری خزانے میں جمع کراتے ہیں اور بعد میں یہ ریفنڈ کردیا جاتا ہے لیکن اس ریفنڈ میں کئی ماہ لگ جاتے ہیں اور اس طرح ان کا سرمایہ ایف بی آر کے پاس پھنسا رہتا ہے۔ دوسری طرح ایف بی آر کا عملہ اس غیر ضروری کام میں اُلجھا رہتا ہے کہ پہلے ٹیکس کی وصولی اور بعد میں واپسی۔ دوسرے یہ کہ سیلز ٹیکس کی شرح میں بہت زیادہ ہے اور ملکی برآمدات مارچ کے مہینے سے مسلسل گر رہی ہیں اور ٹیکسٹائل ایکسپورٹس میں 36 فی صد کمی ہوچکی ہے۔ اس موقع پر برآمدات میں اضافے کے لیے حکومت کی طرف سے مراعات دینا ضروری تھا۔ لیکن حکومت نے اس مطالبے پر کان نہیں دھرا اور اگلے سال وہی سیلز ٹیکس اور اس کے ریفنڈ کا سلسلہ جاری رہے گا۔
اس وقت کورونا وائرس کے پھیلائو کی وجہ سے ملکی معیشت شدید دبائو میں ہے۔ مختلف تخمینوں کے مطابق 60 سے 70 لاکھ افراد کے بیروزگار ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس لیے چھوٹے کاروبار کو متحرک کرنے کے لیے مختلف اسکیموں کے اجرا کی ضرورت ہے، ساتھ ہی ساتھ اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں کنٹرول اور آسان فراہمی پر بھی حکومت کی توجہ ہونی چاہیے۔