سمندر میں نمک کیوں ہے؟

1232

سمندر میں نمک کیوں ہے؟، یہ سوال علمائے طبعی کے ہاں صدیوں زیرِ بحث رہا۔ حال ہی میں ایک مغربی سائنسدان نے اس کی ایک دل چسپ وجہ بیان کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ نمک میں یہ خاصیت ہے کہ وہ گوشت کو گلنے سڑنے سے محفوظ رکھتا ہے۔

قدیم مصری اقوام اپنے فرمانرواؤں کی لاشوں کو نمک سوء کردیتے تھے تاکہ قبروں میں گَل سڑ نہ جائیں۔ ہم بھی اپنے گھروں میں آئے دن رات کے گوشت کو صبح تک محفوظ رکھنے کیلئے نمک لگا دیا کرتے ہیں۔ چونکہ سمندر میں کروڑوں مچھلیوں اور دیگر آبی جانوروں کی موت واقع ہوتی رہتی ہے اور ایام جنگ میں لاکھوں انسان سمندر کی بھینٹ چڑھتے ہیں اس لئیے اللہ نے سمندر کو تعفن سے محفوظ رکھنے کیلئے نمک کی کثیر مقدار پانی میں شامل کردی۔ قدرت کا کامل ملاخطہ فرمائیے کہ سمندر میں کروڑہا آبی جانور موجود ہیں اور وہ آئے دن مرتے بھی ہیں اور اگر کوئی مردہ مچھلی سمندر سے خشکی پر آجائے تو اُسے بھی کھانا احادیث و قرآن کی رو سے جائز قرار دیا گیا ہے۔  کیونکہ سمندری جانور خراب نہیں ہوتے۔

اللہ تعالی سورہ فاطر، آیت 12 میں فرماتا ہے کہ،

“اور تم سمندروں سے تازہ گوشت حاصل کرتے ہو”۔

ایک دن حضرت عبدالرحمٰن بن ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ نے سیدنا ابنِ عمر رضی اللہ عنہُ سے سوال کیا کہ، “سمندر نے بہت سئ مچھلیاں کنارے پر پھینک دی ہیں۔ کیا ہم انہیں کھاسکتے ہیں؟”۔

ابن عمر نے فرمایا نہیں۔ مگر جب انہوں نے قرآن پڑھا اور سورہ المائدہ کی آیت 96 پر پہنچے جس میں اللہ نے فرمایا تھا کہ،

“تمہارے لیے دریا کا شکار کرنا اور اس کا کھانا حلال کیا گیا ہے تمہارے اور مسافروں کے فائدہ کے لیے، اور تم پر جنگل کا شکار کرنا حرام کیا گیا ہے جب تک کہ تم احرام میں ہو، اور اس اللہ سے ڈرو جس کی طرف جمع کیے جاؤ گے”۔

تو عبداللہ نے فوراً ایک شخص کو سوال کرنے والے کی جانب دوڑایا اور اُس سے کہا کہ سمندر سے نکلی مردہ مچھلیاں کھا لیں، یہ بحری طعام ہے۔ کیونکہ طعام اُن آبی جانوروں کو کہا جاتا ہے جو مردہ ہوتے ہیں اور اور سمندر انہیں خشکی پر پھینک دیتا ہے۔