حافظ نعیم الرحمان کی گرینڈ ہیلتھ الائنس سے اظہار یکجہتی

664

کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کی گرینڈ ہیلتھ الائنس سے اظہار یکجہتی کیلئے کیمپ آمد، ڈاکٹر پر پولیس اہلکار کی فائرنگ پر مذمت کی۔

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان  نے گرینڈ ہیلتھ الائنس اظہار  یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی ڈاکٹرز کے ساتھ کھڑی ہے، کسی سرکاری اہلکار یہاں نہیں آنا افسوس کی بات ہے ، وبائی صورتحال شروع ہوئی ہم نے اختلافات بالائے طاق رکھ کر اپنی خدمات پیش کیں، بدقسمتی کی بات ہے ہم نے اپنے حصے کا کام ایک پارٹی اور این جی او کی حیثیت سے کیا، حکومتی پارٹیوں نے پارٹی اور حکومت کی سطح پر کوئی کام نہیں کیا۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے جتنے وعدے کیے ان کا آغاز اسپتالوں سے کرتی، سیکورٹی اور پی پی ایز تک فراہم نہیں کئے اس سے زیادہ شرم کی کیا بات ہوگی، پی پی ایز جماعت اسلامی کو مل گئے لیکن اقتدار کی حامل جماعتوں کو نہیں مل سکے،وبا کی صورتحال کے باعث اسپتالوں میں جگہ موجود نہیں، حکومت پر عوام کا اعتماد ختم ہوچکا ہے۔

Image may contain: 1 person, crowd and outdoor

امیر جماعت اسلامی کراچی نے ڈاکٹرز پر فائرنگ کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹرز کو سیکورٹی فراہم کی جائے، اسپتالوں میں رینجرز تعینات کی جائے ان لوگوں کو تحفظ فراہم کیا جائے، ڈاکٹرز پر حملہ کرنے والے مجرم کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔

حافظ نعیم الرحمن نے وفاق اور صوبائی حکومتوں  پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا ن لیگ ایم کیو ایم اور پی پی اور پی ٹی آئی خدمات کے کام انجام دیتی ہیں؟؟؟، اپوزیشن جماعتوں نے ان مسائل کے حل کے لیے کیا کیا، اس کے نتیجے میں عوام اپنا غصہ طبی عملے پر نکالتے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ اپنے اداروں کی نگرانی عوام اور ڈاکٹرز کو خود کرنی ہے، جماعت اسلامی آپ سب کے ساتھ ہے، آپ کو حق ملنا چاہیئے آپ کے مطالبات حل ہونے چاہیے، اس وقت ان ڈاکٹرز کو اسپتال میں ہونا چاہیے اور وہ اس شدید گرمی میں بیٹھے احتجاج کررہے ہیں ، بدقسمتی سے ڈاکٹر کو اپنا حق مانگنے کے لیے کیمپ لگانا پڑے۔

انہوں کہا کہ سندھ حکومت اور وفاقی حکومت کے بیچ بلیم گیم چل رہا ہے،ڈاکٹرز کو سیکورٹی رسک ہےجبکہ  الاؤنسز اور پی پی ایز نہیں مل رہے، ان کے جائز مطالبات حل ہونے چاہیے،ساڑھے 3 مہینے میں صرف 300 ایچ ڈی یوز بنا سکے ہیں، آئیسولیشن مراکز قائم کیے جہاں  آکسیجن تک موجود نہیں اب کیسز بڑھ رہے ہیں  تو صرف نمبرز بتا کر لوگوں کو خوفزدہ کرتے ہیں۔