ایشیا میں طاقت کا فیصلہ کن کھیل

510

بھارت ایک طویل عرصے سے پاکستان کو مشرق اور مغرب سے گھیرنے کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔ افغانستان میں بھارت کی دلچسپی اور سرگرمی کا محور مغرب سے گھیرائو کرنے کی سوچ ہے۔ پانچ اگست کو طاقت کے نشے میں نریندر مودی نے مقبوضہ جموں وکشمیر کا ’’اسٹیٹس کو‘‘ توڑ کر خود کو حالات کی دلدل میں دھکیل دیا۔ بھارت نے ایک محاذ ختم کرتے کرتے تین محاذ کھول دیے۔ اب پانچ اگست کا یہ فیصلہ بھارت کے گلے کی ہڈی بن کر رہ گیا ہے۔ اندرونی طور پر حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے بھارت نے لاک ڈائون اور کرفیو اور مواصلاتی نظام کی بندش کی حکمت عملی اپنائی مگر پانچ اگست کے فیصلے سے متاثر ہونے والی بیرونی فالٹ لائن متحرک ہو کر رہ گئی۔ بھارت کے اس فیصلے سے دو ممالک پاکستان اور چین براہ راست متاثر ہوئے۔ نئے فیصلے کو کاغذی شکل دینے کے لیے بھارت کا جو نیا نقشہ جاری کیا اس میں نیپال کے متنازع علاقوں کو بھی اپنا حصہ بتایا گیا اور یوں نیپال کے کان بھی کھڑے ہوگئے۔ پاکستان نے پانچ اگست کے فیصلے کو پوری قوت سے مسترد کرکے باربار اقوام متحدہ سے رجوع کرنے کی کوشش کی۔ چین نے اس اقدام کو فوری طور پر مسترد کرکے اسے اپنی سلامتی کے لیے خطرے کی گھنٹی قرار دیا۔ نئے نقشے کے اجراء کے بعد نیپال بھی میدان میں کود پڑا اور نیپا کی مائو نواز حکمران کمیونسٹ پارٹی نے بھارت کے خلاف سخت لائن اختیار کرلی۔ چین نے لداخ میں عملی پیش قدمی کرکے معاملات پر حاوی ہونے کی کوشش کی تو نیپال کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر ایک ایسا نقشہ جاری کیا جس میں بھارت کے کنٹرول والے کئی علاقے بھی شامل ہیں۔ نیپال کی پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر اس نقشے کی منظوری دے کر بھارت کو حالات کی سچی تصویر دکھا دی۔ اس سے ایک دن پہلے بھارت اور نیپال کی سرحد پر نیپالی پولیس کی فائرنگ سے بھارت کا ایک شہری مارا گیا جبکہ دو زخمی ہوئے۔ اس واقعے پر نیپال اور بھارت کا موقف الگ الگ ہے۔ نیپال پولیس نے مارے جانے والوں کو اسمگلر قرار دیا جبکہ بھارت کا دعویٰ ہے کہ یہ کھیتوں میں کام کرنے والے عام شہری تھے۔ نیپال اپنے حجم اور آبادی کا خیال کیے بغیر بھارت کے مقابلے میں پوری طرح ڈٹ کر کھڑا ہے۔ نیپالی حکومت مسلسل اس عزم کا اعادہ کررہی ہے کہ وہ اپنی زمین کا ایک انچ بھی بھارت کے قبضے میں نہیں رہنے دے گی۔ اس طرح پاکستان کا گھیرائو کرنے کا شوق رکھنے والا بھارت اس وقت چین، نیپال اور پاکستان کے گھیرے میں آرہا ہے۔ بنگلا دیش کی حسینہ واجد حکومت بھارت کے احسانات کا بوجھ اُٹھائے رہی مگر شہریت کے متعصبانہ قانون نے بنگلا دیش کے لیے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں اور بنگلا دیش کی حکومت بھارت کے معاملے میں عوام کے دبائو کا سامنا کر رہی ہے۔ مودی نے بنگلا دیش کی حکومت کو بھی اس بات پر مجبور کیا ہے کہ وہ حالات پر نرم انداز میں سہی مگر اپنی بیزاری ظاہر کرے۔ جلد یا بدیر بھارت کا رویہ بنگلا دیش کو بھی بھارت کے معاملے میں ایک واضح لائن اختیار کرنے پر مجبور کر ے گا۔ اس طرح بھارت چاروں طرف سے غیر مطمئن ہمسایوں میں گھرتا جا رہا ہے۔
نریندر مودی نے ہندو قوم پرستی کا جن بوتل سے نکال کر حقیقت میں خود کو حالات کے جزیرے میں قید کر لیا ہے۔ وہ ایسا کرتے ہوئے یہ بات فراموش کر بیٹھے کہ ہندو قوم پرست انڈیا کے دائیں بائیں دوسرے قوموں کا ایک وسیع سمندر ہے اور یہ منظر کسی طور پر بھارت کے حق میں نہیں۔ پنڈت نہرو اور کانگریس نے کچھ سوچ کر بھارت کو سیکولرازم کا نقاب اوڑھایا تھا۔ مودی نے برسوں بعد وہ نقاب نوچ کر پھینک دیا ہے۔ اس لیے اب بھارت اپنے گردوپیش میں تصادم کے شعلوں بھڑکاتا اور انگاروں سے کھیلتا نظر آتا ہے۔ جس کشمیر کو بہت خاموشی اور آسانی سے بھارت نے ہضم اور ہڑپ کرنے کی واردات کی تھی وہ اس کے گلے میں اٹک کر رہ گیا ہے اور پانچ اگست کو بھڑکائے جانے والے شعلے اب بہت دور تک پھیلتے جا رہے ہیں۔ چین کے ایک سفارت کار کا ایک ٹویٹ بھی اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ آج خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کا اصل محرک کشمیر کے حوالے سے ’’اسٹیٹس کو‘‘ کے خاتمے کا یک طرفہ فیصلہ ہے۔ بھارت نے اسٹیٹس کو نہیں بلکہ اپنا وجود توڑنے کی بنیاد رکھ دی ہے۔
افواج پاکستان کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایک کابل کے ایک روزہ دورے میں صدر اشرف غنی اور ان کے قریب ترین حریف عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی تھی۔ اس دورے میں آئی ایس آئی کے ڈی جی جنرل فیض حمید اور افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندے محمد صادق بھی آرمی چیف کے ہمراہ تھے۔ بظاہر تو اس دورے اور مذاکرات کا مقصد افغان امن عمل، انٹرا افغان ڈائیلاگ اور بارڈر مینجمنٹ جیسے مسائل تھے مگر یوں لگتا ہے کہ اس کے مقاصد خالص فوجی تھے اور اس کا تعلق خطے میں اُبھرنے والی حالیہ کشیدگی سے تھا۔ جنرل باجوہ کی کابل میں ملاقاتوں میں ان کے افغان ہم منصب کہیں نظر نہ آئے اور اگر آئے بھی تو کسی کونے کھدرے میں۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ افغانستان میں فوج کی کوئی اہمیت اور مقام نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ تھی کہ افغان فوج خطے میں جاری کھیل میں ایک واضح لائن لیے بیٹھی ہے۔ دونوں ملکوں میں فوجی سطح پر تعاون اور اشتراک ایک انہونی سی بات ہے۔ یہ دورہ اس لحاظ سے اہم تھا کہ پاک بھارت کشیدگی پورے عروج پر ہے اور دفاعی تجزیہ نگار دونوں ملکوں کو جنگ کے دہانے پر کھڑا دیکھ رہے ہیں۔
پاک بھارت روایتی کشیدگی میں ایک تیسرا اور طاقتور فریق بھی کود پڑا ہے اور وہ فریق عوامی جمہوریہ چین ہے جس کی فوجوں نے لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر پیش قدمی کرکے بھارت کو ورطۂ حیر ت میں مبتلا کر دیا ہے۔ بھارت چین کے اس اچانک قدم سے نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن والی صورت حال کا شکار ہو کر پھنس کر رہ گیا ہے۔ چین سے لڑائی مول لیتا ہے تو اس کا بہت کچھ دائو پر لگ سکتا ہے اور لڑائی سے گریز کرتا ہے تو عوام میں مودی کا ٹارزن کا مصنوعی امیج کرچی کرچی ہو کر بکھر سکتا ہے۔ فی الحال پاکستان کے مقابلے میں شیر بن کر دھاڑنے والے بھارتی حکام اور میڈیا چین کے معاملے میں بکری بن کر رہ گئے ہیں۔ ایسے میں کچھ اطلاعات یہ ہیں کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی نے بھارت میں ایک ایسے منصوبے کا بلو پرنٹ حاصل کیا ہے جس کے تحت بھارت کو آزادکشمیر اور گلگت بلتستان پر حملہ کرنا تھا اور اس حملے میں بھارت کو تین دوسرے ممالک کی حمایت ہونا تھی۔ ان ملکوں کی فہرست تو سامنے نہیں آئی مگر گمان غالب ہے کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحانہ کارروائی میں امریکا، اسرائیل اور افغان حکومت شامل ہو سکتی ہے۔ افغانستان بھی بھارت کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے میں بندھا ہے۔ پاکستان اور بھارت کی جنگ میں جن دو ملکوں کا کردار اہم ہو جاتا ہے ان میں چین اور افغانستان شامل ہیں۔ افغانستان ایک طویل پاکستانی سرحد کو گرم رکھ کر پاکستان کے لیے شدید مشکلات پیدا کر سکتا ہے شاید افغانستان کا یہی پوٹینشل بھارت کے لیے اس سرزمین کو پرکشش بنارہا ہے۔