تاریخ کے اوراق

637

غزالہ عزیز
یہ ستمبر 1690ء کی بات ہے جب انگریزوں کے دو سفیر مغل بادشاہ اورنگ زیب عالم گیر کے دربار میں حاضری کے لیے کئی ماہ کی کوششوں کے بعد بالآخر رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اُن کی پیشی اس حال میں ہوتی ہے کہ دونوں کے ہاتھ مجرموں کی طرح بندھے ہیں، سر سینے پر جھکا ہے اور حلیہ ایسا ہے کہ وہ کسی ملک کے سفارتی نمائندے کے بجائے بھکاری زیادہ لگ رہے ہیں۔ برطانیہ کے یہ دونوں سفیر جارج ویلڈن اور ابرام نوار تھے۔ یہ جب مغل شہنشاہ کے تخت کے قریب پہنچتے ہیں تو فرش پر سینے کے بل لیٹ جاتے ہیں اور معافی کے خواست گار ہوتے ہیں۔ گڑگڑا کر ایسٹ انڈیا کمپنی کے جرائم کا اعتراف کرتے ہیں۔ مغل شہنشاہ انہیں سخت ڈانٹ پلانے کے بعد پوچھتا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ اُن کی درخواست صرف اتنی ہے کہ اُن کا ضبط شدہ تجارتی لائسنس پھر سے بحال کردیا جائے اور مغل بحری بیڑے کو بمبئی میں اُن کے تجارتی قلعوں کا محاصرہ ختم کرنے کا حکم دے دیا جائے۔ ان کی اس درخواست کو قبولیت اس شرط پر ملتی ہے کہ ایسٹ انڈیا کمپنی مغلوں سے ہونے والی جنگ کا ہرجانہ جو ڈیڑھ لاکھ روپے ہے ادا کرے اور ایسٹ انڈیا کمپنی کا صدر ہندوستان سے نکل جائے اور دوبارہ کبھی یہاں کا رُخ نہ کرے۔ انگریزوں کے پاس ان شرائط کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا اور انہوں نے سر جھکا کر انہیں قبول کیا۔ اورنگ زیب کے عہد میں مغلوں کی حکومت کی سرحدیں ایک طرف کابل سے لے کر ڈھاکا اور کشمیر سے پانڈی میری تک چالیس لاکھ مربع کلو میٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئی تھی۔ اورنگ زیب کی فوجیں دنیا کی طاقت ور ترین فوج تھی۔ معیشت کے لحاظ سے اس قدر مضبوط تھی کہ دنیا کی کل جی ڈی پی کا ایک چوتھائی یہاں ہی پیدا ہوتا تھا۔ مغلوں کے ہاتھوں ایسٹ انڈیا کی اس بے عزتی کو تاریخ کے صفات سے مٹا ڈالنے کی کوششیں انگریزوں نے بھرپور طور پر کیں۔ اس کے لیے انگریزوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے جان اورنگٹن سے جنگ کا احوال لکھوایا جس میں اپنی شکست کا ملبہ مغلوں کی وعدہ خلافی پر ڈالا گیا اور کمپنی نے اُسے ایک بڑی رقم انعام میں دی۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ اپنی تاریخ کو خود لکھنا نہایت اہم ہے۔ اپنی کوتاہیوں، غلطیوں اور کامیابیوں کو اپنی نظر سے دیکھنا اور اُن سے سیکھنا لازم ہے۔ ظاہر ہے فاتح اور مفتوح کے نقطہ نظر میں فرق ہوتا ہے اور پیسے دے کر اپنی
تاریخ کے داغ دھبے دھلوانے کا کام بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن سچ ظاہر ہو کر رہتا ہے۔ ایک اہم سوال اس واقعے سے سب ہی کے ذہنوں میں اُٹھ سکتا ہے کہ اگر مغل شہنشاہ انگریزوں کو معافی دے کر تجارت کی اجازت نہ دیتے تو خطے کی تاریخ کتنی مختلف ہوتی؟؟۔ یہ بھی تو دنیا میں کبھی نہیں ہوا ہوگا کہ ایک کمپنی نے اس طرح دنیا کی ایک عظیم طاقت ور سلطنت پر قبضہ کرلیا اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ جب 1857ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے آخری مغل شہنشاہ بہادر شاہ کو گرفتار کرلیا۔ ان کے بیٹوں کے سر قلم کیے اور انہیں برما کے شہر رنگون میں جلاوطن کردیا۔ یوں ایسٹ انڈیا کمپنی نے جب 1603ء میں ہندوستان کے ساحلوں پر قدم رکھا تو کیا وہ سوچ سکتی تھی کہ محض ڈھائی سو سال بعد سلطنت کا تخت اُس کے قبضے میں ہوگا۔ تاریخ کو اپنی مرضی کا لکھوانے والے لکھواتے رہیں لیکن شواہد کی تبدیلی اُن کے بس میں نہیں ہوتی۔ آج بی جے پی کے وزرا تاج محل کو لٹیروں کی نشانی قرار دیتے ہیں اور مغل بادشاہوں کو لٹیرے اور قاتل قرار دیتے ہیں۔ شاہجہان اور اورنگ زیب کے نام ہندوستان کی تاریخ سے مٹانے کی بات کرتے ہیں۔ لیکن وہ ہندوستان بھر میں پھیلی اُن کی یادگاروں کو کیسے مٹائیں گے۔ اور کیا ہندوستان کے حکمران
آزادی کی تقریب پر لال قلعہ کی فصیل سے جھنڈا لہرانا ترک کردیں گے۔
بات تو یہ ہے کہ گواہی گھر سے مل جائے ہندوستان کے معروف تاریخ دان ’’ہربنس مکھیا‘‘ ہیں جو دہلی میں منعقدہ ’’جشن پختہ‘‘ میں مغلوں کے دور میں مذہبی ہم آہنگی کی روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس دور میں ہندوستان میں سماجی سطح پر مثالی امن وامان قائم تھا۔ آج ہندوستان میں وہ مقام آگیا ہے کہ ہر سال کم از کم پانچ سو فسادات تو ہوتے ہی ہیں ورنہ تو یہ تعداد ہزاروں سے بھی اوپر پہنچ جاتی ہے۔ مغلوں کے دور میں مسلم ہندو فسادات ہوئے تو مغل بادشاہوں کو وہ طاقت حاصل تھی کہ ہندوستان میں ہندئووں کا اکثریت میں رہنا محال تھا لیکن مغل باہمی رواداری اور سلوک کے حامی تھے ان کے درباروں میں مشیروں اور وزیروں کی صورت میں ہندو ہر دور میں موجود رہے۔ فوجوں کے سپہ سالار تک رہے۔ پورے مغل دور میں کوئی ہندو مسلم فساد سماجی سطح پر نہ ہوا۔ اٹھارویں صدی میں آکر انگریزوں کے دور میں ہوئے بھی تو کل پانچ۔ ’’ہربنس مکھیا‘‘ کہتے ہیں کہ تاریخی شواہد اس کے بارے میں مکمل طور پر یک زبان ہیں کہ مغل دور فسادات سے پاک تھا۔ مغل بادشاہوں میں صرف ایک بادشاہ تھا جو ہندوئوں میں مقبولیت حاصل کرنے میں ناکام رہا وہ بھی موجودہ دور کے ہندوئوں میں نہ کہ اپنے دور کے۔ وہ اورنگ زیب تھا۔ حال ہی میں ایک امریکی تاریخ داں ’’آڈرے ٹرسچکی‘‘ نے اپنی
کتاب ’’اورنگ زیب دا مین اینڈ دامتھ‘‘ میں لکھا کہ یہ خیال غلط ہے کہ اورنگ زیب نے مندروں کو مسمار کیا۔ ہندوئوں کے ذہن میں اورنگ زیب کی ہندوئوں کے لیے ایسی منتقمانہ شبہہ کے لیے انگریز مورخ ذمے دار ہیں۔ جو انگریزوں کی ’’پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو‘‘ پالیسی کے تحت ہندو مسلم دشمنی کو فروغ دیتے تھے۔ حالاں کہ حقیقت اس کے برعکس ہے کہ اورنگ زیب نے اپنی حکومت میں بہت سے اہم عہدوں پر ہندوئوں کو تعینات کیا اور مغلوں کے دور میں ہندو مذہبی معاشی اور ثقافتی طور پر آزاد زندگی گزارتا تھا۔ مغلوں کے دور میں تہذیب و ثقافت کس عروج پر تھی اس کے لیے تو بس یہ ایک بات ہی کافی ہے کہ مغل دربار کے مصور ’’عبدالصمد‘‘ نے چوگان کے پورے میدان کو چاول کے دانے پر دکھانے کا کارنامہ انجام دیا۔ جس میں تماشائیوں اور کھلاڑیوں کی گھوڑے سمیت شبہیں شامل تھیں۔