‘ Dejavu ‘….. وَہم، مَرض یا پُراسرار صلاحیت؟

545

آپ نے کبھی نہ کبھی یہ محسوس کیا ہوگا  کہ ہمارے سامنے ہونے والا واقعہ، ہماری زندگی میں پہلے بھی رونما ہوچکا ہے،  یا آپ جو کچھ دیکھ رہے ہیں یا جو کچھ اب بیت رہا ہے   یہ آپ پہلے بھی دیکھ چکے ہیں یا  پھر آپ نے جو کچھ کہا  یا سُنا ہے ، یہ سب آپ پہلے بھی کہہ اور سن چکے ہیں یا کسی انجان اجنبی جگہ جاکر آپ کو محسوس ہوتا ہو  کہ آپ وہاں پہلے بھی جاچکے ہیں، حالانکہ آپ  کبھی نہیں گئے ہوتے۔ کیا  یہ باتیں ہم نے پہلے سے خواب میں دیکھی ہوتی ہیں یا  یہ پہلے سے جان لینے کی ہماری کوئی باطنی صلاحیت ہے یا پھر یہ کوئی واہمہ، ذہنی خلل یا نفسیاتی مرض ہے؟

ماہرینِ نفسیات اور سائنسدان اس پر عرصہ دراز سے تحقیق کر رہے ہیں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔

یونانی مفکر ارسطو سمیت قدیم زمانے  کے  لوگ اس بات پر یقین کرتے تھے کہ ہماری روح ہماری پیدائش سے قبل بھی کہیں وجود رکھتی تھی اور موت کے بعد  بھی اس کا وجود قائم رہتاہے۔ اس کے علاوہ  دورانِ خواب  ہماری اس جسم کے باہر  سفر کرتی ہے،  خواب میں سوتے وقت ہماری روحیں  گھومتی پھرتی ہیں تو وہ جس جس جگہ جاتی ہیں اور جس جس سے ملتی ہیں جب ہم جاگنے پر وہ دیکھتے ہیں یا ان میں سے کسی سے ملتے ہیں تو ہمیں لگتا ہے کہ یہ سب ہمارے ساتھ پہلے بھی ہوا ہے۔

1876ء میں فرانسیسی سائنسدان  ایمل بوراک Emile Boirac  نے اس پراسرار کیفیت پر تحقیق کی اور اس ایک انوکھے احساس اور کیفیت کو Déjà vu کا نام دیا جسے اردو میں ڈیژاوو لکھا جاتا ہے۔  Déjà کے معنی ، پہلے سے، قبل اور ابتداء سے وغیرہ کے ہوتے ہیں جبکہ vu کے معنی مشاہدے یا دیکھنے کے آتے ہیں۔ اردو میں اس کے معنی ‘‘پہلے سے دیکھا ہوا’’ ہیں اور انگریزی میں اس کا ترجمہ Already Seen کیا جاتا ہے۔

تحقیق کے مطابق ہم میں سے دو تہائی لوگوں کو زندگی میں ایک مرتبہ ڈیژاوُو ضرور ہوتا ہے، تاہم ابھی تک پوری طرح معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ کیفیت ہوتی کیوں ہے۔   1973ء میں شکاگو یونیورسٹی کی National Opinion Research Council  کے ایک سروے  میں 58 فیصد امریکیوں نے  ڈیژاوُو کی کیفیت سے گزرنے کا اقرار کیا، 1986 ء کے سروے میں یہ تعداد بڑھ کر 67 فیصد ہوگئی ، ایک  حالیہ  سروے کے مطابق دنیا میں تقریباً 70 فیصد افراد اس کا صورتحال کا سامنا کر چکے ہیں اور اس کے بارے میں اکثر کنفیوز رہتے ہیں۔

امریکی ریاست ڈیلاس میں ساؤتھرن میتھڈسٹ یونیورسٹی، ڈیڈمن کالج میں شعبہ نفسیات کے پروفیسر ایلن براؤن کا کہنا ہے کہ   ڈیژاوُو زیادہ تر نوجوانوں کو ہوتا ہے۔ لوگوں کو پہلی مرتبہ ڈیژاوُو   کی کیفیت تقریباً چھ، سات برس کی عمر میں ہوتی ہے، تاہم 15 سے 25 سال کی عمر کے دوران یہ زیادہ مرتبہ ہوتا ہے، اور پھر جوں جوں آپ کی عمر بڑھتی جاتی ہے یہ کیفیت کم اور بہت ہو جاتی ہے۔

ایسے واقعات کا مشاہدہ زیادہ تر خواتین کو ہوتا ہے کیونکہ خواتین زیادہ  receptive ہوتی ہیں یعنی ان میں روزمرہ کے واقعات کو جذب کرنے کی صلاحیت اور خفیف سے خفیف تر اشارہ اور بات سمجھنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے۔ اس لئے خواتین کو اس قسم کے تجربات زیادہ ہوتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں خواتین کی چھٹی حس زیادہ بہتر ہوتی ہے۔