بجٹ کیسے بنتا ہے

345

بجٹ حساب کتاب ہے کہ حکومت ایک سال میں کہاں کتنا خرچ کرے گی اور کتنے محاصل اکٹھے کرے گی‘ ایک گھریلو بجٹ اور حکومتوں کے بجٹ میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ ایک فرد اپنی آمدنی دیکھ کر اخراجات کی چادر پھیلاتا ہے اور حکومت پہلے اپنے اخراجات کا تخمینہ لگاتی ہے اور پھر یہ اخراجات پورے کرنے کے لیے ٹیکس لگاتی ہے یوں حکومتوں کا بجٹ بنتا ہے۔ جب کوئی سیاسی رہنما یہ بیان دے کہ حکومت سات افراد کے کنبے کا تین ہزار میں بجٹ بناکر دکھائے تو یہ مطالبہ اس رہنما کی حکومتوں کے معاشی اصولوں سے نابلد ہونے کی نشاندہی کرتا ہے، حکومت کا کام کبھی یہ نہیں رہا کہ وہ سات افراد کے کنبے کا بجٹ بنائے، وہ عوام کو معاشی ریلیف دیتے ہوئے افراط زر کی شرح دیکھتی ہے، ملک میں طلب اور رسد کا جائزہ لیتی ہے تب کہیں جاکر وہ عوامی ریلیف کے منصوبوں میں پیسہ لگاتی ہے جس کا براہ راست یا بلواسطہ فائدہ عوام کو ملتا ہے۔
ہمارے ہاںحکومت کا مالیاتی سال یکم جولائی سے شروع ہوتا ہے اور 30 جون کو ختم ہوجاتا ہے۔ جب بجٹ پیش کیا جاتا ہے تو اس وقت بھی گزشتہ سال کا بجٹ بھی چل رہا ہوتا ہے‘ جو تیس جون کو مکمل ہوتا ہے حکومت پچھلے 9 ماہ کا ڈیٹا جاری کیا ہے اس کے مطابق آمدن کا 76 فیصد ملکی آمدن سے حاصل ہوا اور 24 فی صد قرض لے کر پورا کیا گیا جو 76 فی صد آمدن حاصل ہوئی اس میں سے تقریباً 40 فی صد قرضوں اور سود کی ادائیگی میں خرچ ہوئے۔ دفاعی ضرویات پوری کرنے کے بعد 4 فی صد عوامی تحفظ، ثقافت و مذہب اور ماحولیاتی تحفظ وغیرہ پر خرچ کیے‘ صحت پر 0.20 فی صد اور تعلیم پر تقریباً ایک فی صد خرچ کیا، اس طرح بچ جانے والے وسائل 37 فی صد رہے یہ سب صوبوں کو دیے گئے یہ تفصیل بجٹ کی ایک سادہ کی شکل ہے جو سمجھانے کے لیے سامنے رکھی ہے اعداد و شمار ذہن میں رکھیں تو اگلے سال کے لیے بجٹ کا سارا منظر نامہ معلوم ہوجائے گا۔ ہمارے ہاں منی بجٹ کی بھی روایت رہی ہے، اس میں حکومت بجٹ اعدادو شمار میں تبدیلیاں لاتی ہے یوں یہ ایک نیا بجٹ ہی بن جاتا ہے۔ منی بجٹ کی طرح ایس آر اوز ہیں‘ کبھی کبھی ایسا بھی ہوا چند گھنٹے کے لیے رعایت دی گئی اور ایس آر او جاری کرنا پڑا یہ آپشن ہر وقت موجود رہتا ہے اور اسی سے بجٹ کی بنیادیں ہل جاتی ہیں۔ حکومت جو ٹیکس سالانہ بجٹ میں لگاتی ہے یا جو ریلیف دیا جاتا ہے اس میں بھی ردو بدل ہوسکتا ہے یہ سمجھنا کہ بجٹ کا علان کردیا گیا ہے۔ لہٰذا سال بھر کے لیے جو کچھ کہا گیا ہے اسی پر عمل ہوگا‘ یہ درست اندازہ نہیں ہے۔
حکمران کوئی بھی ہو‘ اسے مشورہ کبھی اچھا معلوم نہیں ہوتا کیونکہ ہر حکمران مشورے کو اپنی عقل کل کے منافی اور اس راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے‘ اس طرح کے عقل کل صرف حکمران ہی نہیں بلکہ ہر ادارے میں پائے جاتے ہیں‘ اسی لیے تو واپڈا‘ ریلوے‘ پی آئی اے‘ اسٹیل ملز‘ او جی ڈی سی ایل‘ سوئی گیس‘ جیسے قومی ادارے تباہی کے دہانے پر جاکھڑے ہوئے ہیں۔ ان تمام اداروں میں خوشامد کا راج ہے اور خوشامد کی کوکھ سے نااہلیت جنم دیتی ہے‘ مگر مجال ہے آج کوئی بھی ادارہ اس سے بچا ہوا ہو‘ یہ کیسا نظام ہے کہ خود مختار اداروں میں پالیسی ساز افراد من مانیاں کرتے ہیں‘ اپنی ریٹائرمنٹ سے بھی ایک روز قبل بھرتیاں کرتے ہیں‘ یہ تو انفرادی فعل ہے‘ پیپلزپارٹی کی حکومت نے اپنے آخری روز رات بارہ بجے تک کام کیا‘ اور تمام بینکوں کی سربراہوں کو بھی ایک ٹانگ پر کھڑا کیے رکھا‘ مسلم لیگ(ن) آئی تو اس نے ایک لمحے کے لیے بھی پیپلزپارٹی کے احتساب کا نہیں سوچا‘ یہی حال دیگر قومی اداروں کا ہے‘ بے شمار آفیسرز ہیں جو جاتے جاتے‘ میرٹ کی ایسی تیسی کرجاتے ہیں۔ وزارت پٹرولیم کو خیر کچھ نہیں کرنا‘ وزیر اعظم کو خود جائزہ لینا چاہیے کہ او جی ڈی سی ایل اور پی آئی اے کے علاوہ ریلوے میں کیا چل رہا ہے۔
او جی ڈی سی ایل میں خوشاب کے ایک ہی محلے لوگ بھرتی کیوں ہوئے؟ بس اگر یہی بات معلوم کرلی جائے تو سارا کچا چھٹا باہر آسکتا ہے‘ وزیر اعظم نوجوانوںکی امید ہیں لیکن ان دوسال میں کتنے نوجوان ہیں جو مطمئن نظر آتے ہیں پاکستان کو سالانہ 25 لاکھ ملازمتوں کی ضرورت ہے جو صرف اسی صورت حاصل ہوسکتی ہیں۔ جب شرح نمو 7 فی صد ہو یہ شرح اسی صورت مل سکتی ہے کہ جب قومی اداروں میں میرٹ پر کام کیا جائے ورنہ تو ہماری شرح نمو نیچے ہی جائے گی اور نوجوان نوکریوں کے لیے مارے مارے پھریں گے۔ آئی ایم ایف جو چاہے کہے لیکن حقائق سے نظریں چرانا مسائل کو جنم دے گا چونکہ معیشت تقریباً ایک تھائی سکڑ گئی ہے۔ لہٰذا آمدنی کا ہدف بھی حقیقت کے قریب ہونا چاہیے۔ پچھلے سال آئی ایم ایف کا ٹیکس آمدن کا ہدف 5 ہزار 500 کھرب روپے تھا 3 ہزار 900 ارب روپے ٹیکس اکٹھا ہوا اور 1400 ارب روپے کا شارٹ فال آیا اس سال 5 ہزار 100 ارب روپے کا ٹیکس آمدن ہدف مقرر کرنے کی خواہش ہے جسے پورا کرنا تقریباً ناممکن ہوگا کیونکہ حکومتی اخراجات بڑھیں گے۔ حکومت اگلے سال تقریباً ایک کھرب روپے کورونا کی وجہ سے متاثر ہونے والے لوگوں پر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جو روپیہ بچایا جاتا ہے وہی روپیہ آپ کی آمدن ہوتی ہے بجٹ کا فوکس روپیہ بچانے پر ہونا چاہیے جہاں عوام کو ریلیف ملے گا وہیں حکومت کو بھی فائدہ ہوگا۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گرنے سے پاکستان کی تقریباً 4 ارب ڈالر کی درآمدات میں کمی ہوئی ہے کچھ فائدہ عوام کو منتقل کرنے کی ضرورت ہے جو ادارے کھربوں روپے سالانہ نقصان پر چل رہے ہیں انہیں بھی دیکھا جائے‘ اور او جی ڈی سی ایل جیسے قومی اداروں میں میرٹ کو نظام بنایا جائے۔