کیا ورزش کیلئے آپ کا دل نہیں مان رہا! یہ ٹوٹکے اپنائیں

790

ہمارا معمول عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ کام سے گھر آئے اور سیدھا بیڈ پر جاکے لیٹ گئے اور صبح کام پر جانے سے کچھ دیر پہلے اُٹھے اور تیار ہوکر کام پر چلے گئے۔ ہمیں جب موقع ملتا ہے ہمیں آرام چاہئیے ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ جو لوگ ورزش کے عادی نہیں ہوتے اُن کے ایک سے زائد عارضوں میں مبتلا ہونے کے چانسز بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

چونکہ ہمارا دِل ورزش کو اتنا آسانی سے نہیں مانتا تو اس کو منانے کیلئے درجہ ذیل ٹوٹکوں پر عمل کرکے دیکھیں، انشاءالللہ کامیابی ملے گی۔

1) تیاری

اگر آپ صبح کے وقت ورزش کو اپنا معمول بنانا چاہتے ہیں تو اس کیلئے رات کو ہی اہتمام کرلیا کریں۔ وزرش میں پہنے جانے والا لباس، برتن میں محفوظ تیار کردہ کافی اور اگر آپ موسیقی سننے کے شوقین ہیں تو ورزش کے دوران اپنے پسندیدہ فنکاروں  کی لسٹ چُن کر رکھ لیں۔

2) کم سے کم

اپنے آپ کو دلاسا دیں کہ آپ صرف 15 کے لئے جم جائیں گے یا کچھ دیر تک جوگنگ کریں گے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک بار جب آپ ورزش شروع کردیتے ہیں تو پھر آپ زیادہ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر نہیں تو  ہلکی پھلکی ورزش کرنا بھی بالکل نہ کرنے سے بہتر ہے۔

3) سوچیں مت

ایک کارآمد ٹوٹکا یہ بھی ہے کہ آپ ورزش کے بارے میں سوچیں مت بلکہ شروع کردیں اس سے پہلے کہ آپ کا دماغ آپ کو اس سے روکنے کیلئے مختلف قسم کے عذر تراشے اور آپ کے اندر کم ہمتی اور کاہلی پیدا کردے۔

4) کوئی ساتھی

ورزش میں مستقل مزاجی کو قائم رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ کسی ورزش کرنے والے ساتھی کو اپنا دوست بنالیں اور اُس کے ساتھ ورزش کریں اسطرح آپ کبھی بھی ورزش سے ناغہ نہیں کرپائیں گے کیونکہ کوئی آپ کا انتظار کر رہا ہوگا اور اُسے منتظر چھوڑ دینا آپ کیلئے یقیناً باعثِ شرمندگی ہوگا۔

5) لالچ

ورزش کرنے کیلئے اپنے آپ کو کسی اچھی سرگرمی کا لالچ دیں جیسے آپ کہہ سکتے ہیں کہ ورزش کرنے کے بعد میں ٹی وی پر فلاں پروگرام یا فلم دیکھوں گا یا پھر آپ کہیں کہ میں ورزش کرنے کے بعد اچھے سے نہاؤں گا۔ لیکن یاد رہے کہ اس لالچ میں ہائی کولیسٹرول یا کیلوری والے کھانے کا کوئی لالچ نہ ہو جو آپ کی ورزش کے دوران کی گئی محنت کو زائل کردے۔

6) مقصد

ورزش کرنے سے پہلے اپنا کوئی مقصد بنالیں جو آپ کو حاصل کرنا ہو جیسے ورزش میں اتنے ٹائم تک بھاگنا اور پھر اتنے وقت تک چلنا یا دیگر جسمانی سرگرمیوں میں آپ وزرش کو ٹکڑوں میں تقسیم کریں کہ ایک وقت میں آپ 5 یا 10 دفعہ یہ ورزش کریں گے جبکہ دوسرے وقت میں فلاں ورزش کریں گے۔ اسطرح آپ اپنی ورزش پر بھرپور توجہ دے پائیں گے۔