سانحہ ماڈل ٹاؤن کو 6 برس بیت گئے

586

لاہور: قوموں کی تاریخ حادثات اور سانحات سے بھری پڑی ہے، سانحہ ماڈل ٹاؤن بھی ایسا ہی واقعہ ہے جو الم اورغم بھری داستان چھوڑ گیا مگر 6 سال کا طویل عرصہ بیت جانے کے بعد بھی ملزمان کے خلاف کارروائی اب تک عمل میں نہیں لائی جاسکی۔

لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 17 جون 2014 کو عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے سامنے قائم تجاوزات کو ختم کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا لیکن پولیس اورپاکستان عوامی تحریک ( پی اے ٹی) کے کارکنوں کے درمیان بات تلخ کلامی سے بڑھتی بڑھتی فائرنگ تک جا پہنچی۔

SC summons Model Town case report

سانحہ ماڈل ٹاؤن میں گولیوں کا نشانہ بننے سے 2 خواتین سمیت 14 افراد زندگی کی بازی ہار گئے جبکہ 90 افراد زخمی ہوئےتھے۔ واقعے کے بعدڈاکٹر طاہرالقادری نے سابق وزیراعظم نواز شریف،سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف، حمزہ شہباز اوراس وقت کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ سمیت متعدد سیاستدانوں کو ملزم ٹھہرایا۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کیلئے  اب تک 3 جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیمیں بنائی گئیں جبکہ 2 ٹیموں نے اپنی اپنی رپورٹس جمع کروائیں مگر کیس کا تاحال کوئی فیصلہ نہ ہوسکا۔