حکومت کا بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کیلئے نئی پالیسی کا اعلان

416

معاون خصوصی ڈاکٹر معید یوسف نے بیرون ملک پھنسےپاکستانیوں کو واپس لانے کیلئے نئی پالیسی کا اعلان کردیا ہے۔

معاون خصوصی  برائے قومی سلامتی امور ڈاکٹر معید یوسف کا کہنا ہےکہ بیرون ملک میں پھنسے تمام پاکستانیوں کو دو ہفتے میں واپس لائینگے،20 جون سے تقریبا 45 ہزار پاکستانی ہر ہفتے واپس لے کر آئیں گے،بیرون ملک مسافروں کی آمد میں تین گنا اضافہ کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر معید یوسف نے کہا کہ  بیرون ملک سے آمد پر جن میں کرونا کی علامات ہوگی ان کا کرونا ٹیسٹ کیا جائے گا، جن میں کرونا کی علامات نہیں ہوگی ان کو گھر جانے دیا جائے گا،البتہ انہیں گھر میں 14 دن لازمی قرنطینہ کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ جن مسافروں میں کورونا کی علامات ہوگی وہ منفی رزلٹ آنے تک قرنطینہ میں رہیں گے،جس کے بعد انہیں گھر بھیج دیا جائے گا،جبکہ مثبت کیسز کو ہیلتھ پروٹوكول کے مطابق دیکھا جائے گااور صوبوں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم میں ڈالا جائے گا۔

ڈاکٹر معید یوسف  نے کہا کہ میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا صبر سے کام لینے پر شکرگزار ہوں، ہر ہفتے تقریبا 250 پروازیں ہوں گی، مسافر تمام ایئرلائنز کی شیڈول پروازوں کے ٹکٹ لے سکیں گے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ وہ ویسے ہی ٹکٹ لے سکیں گے جیسے وہ کورونا سے پہلے لے رہے تھے، نئی پالیسی بنانے میں وقت لگا کیونکہ صوبوں کو تیاری کرنی تھی،یہ پالیسی صوبوں کی رضامندی سے لائی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں نے بھی نئی پالیسی پر جلد سے جلد سے عمل کا کہا ہے،3 اپریل کو فضائی حدود کھولنے کے بعد سے 75 ہزار سے زائد بیرون ملک سے پاکستانی واپس لے کر آئے ہیں،جن ملکوں کی فضائی حدود بند ہے ادھر خصوصی پرواز جاری رہیں گی۔