ایک اور اتحادی جماعت حکومت پر برس پڑی

381

حکومتی اتحادی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر بھی حکومت پر برس پڑے،سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے بجٹ پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تنخواہیں نہیں بڑھیں پنشن میں اضافہ نہیں ہوا، بجٹ تو غریب کے لیئے بننا چاہیئے، لیکن اس میں ایسا کچھ نہیں ہے۔

سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا،بجٹ پر بحث کے دوران بلوچستان عوامی پارٹی کے سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے کہا کہ تنخواہیں نہیں بڑھیں پنشن میں اضافہ نہیں ہوا، احساس پروگرام اچھا پروگرام ہے، بجٹ تو غریب کے لیئے بننا چاہیئے تھا،بلوچستان کی محرومیاں سب کے سامنے ہیں، بلوچستان میں کوئی فیکٹری دکھائیں، ہم بھیک نہیں مانگ رہے اپنے حقوق کی بات کر رہے ہیں۔

سینیٹر منظور احمد کاکڑ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کروں گا، بلوچستان کو تیس ارب روپے کا کٹ لگاہے،بلوچستان کی شاہراہیں سب کے سامنے ہیں، زراعت میں بلوچستان کو کیا دیا؟ ایک ہزار ارب روپیہ ایف بی آر میں چوری ہوتا ہے کہاں ہے نیب؟۔

انہوں نے کہا کہ تمام صوبوں کو ساتھ لیکرچلنا چاہیئے، واپڈا میں کچھ بھرتیاں ہوئی ہیں، 2 بندے بلوچستان سے لگے ہیں باقی کسی کا تعلق بلوچستان سے نہیں ہے۔

بجٹ پر بحث کرتے ہوئے سینیٹر اورنگزیب نے کہاکہ اپوزیشن کو چاہیئے ہر وقت سیاست نہ کرے،ہم حقائق سامنے رکھ کر بات کریں گے، میں فاٹا کے انضمام کے حق میں نہیں تھا، این ایف سی میں تبدیلی ہونی چاہیئے،سابقہ فاٹا میں فیکٹریاں اور انڈسٹریاں لگائی جائیں۔