بخار اور ٹائیفائڈ کون پھیلارہا ہے؟

752

رننگ کمنٹری جاری ہے لیکن نامکمل ہے۔ ایک وزیر نے کہا کہ جولائی میں کورونا کیسز 12 لاکھ تک ہوجائیں گے۔ یہ بات وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے فرمائی ہے۔ جن صاحب کی ذمے داری صحت کے شعبے کی ہے وہ ڈاکٹر ظفر مرزا ہیں۔ ان حضرات کا حساب کیا ہے وہی بتائیں گے کہ ایک لاکھ اکتالیس ہزار کیسز 15دن میں 12 لاکھ کیسے ہوجائیں گے۔ ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ جولائی تک دس لاکھ کیسز ہوجائیں گے۔ اسد عمر منصوبہ بندی کے وزیر ہیں یقینا اس کی روک تھام کے لیے انہوں نے کوئی نہ کوئی منصوبہ بندی کی ہوگی۔ یا پھر ان کی ساری منصوبہ بندی یہی ہے کہ قوم کو گنتی کرکے ڈراتے رہیں۔ وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بھی یہی بات کی ہے۔ بات صرف ان دونوں کی نہیں ہے۔ ساری عمر بڑی بڑی خبریں دینے والے شیخ رشید نے بھی یہی کہا ہے کہ عوام کورونا کو سنجیدہ لیں۔ شیخ رشید کا معاملہ یہ ہے کہ آج تک لوگ ان کی اپنی کسی بات کو سنجیدہ نہیں لیتے اب وہ کورونا میں مبتلا ہوگئے تو کیا ان کی بات کو اب سنجیدہ لیا جائے گا۔ معاملہ یہ نہیں کہ وفاقی وزیر کیا کررہے ہیں اور صوبائی وزرا کیا کہہ رہے ہیں۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے بھی عوام ہی کو متنبہ کیا ہے کہ عوام حکومتی احکامات پر عمل کریں۔ کورونا وائرس کے حوالے سے ایس او پیز کی پابندی نہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ اور یہ کارروائی شروع بھی کردی گئی ہے، ٹریفک پولیس نے ماسک نہ پہننے والوں کے خلاف کریک ڈائون شروع کردیا ہے۔
بات دراصل یہ ہے کہ ہم نے اس رننگ کمنٹری کو نامکمل قرار دیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ قوم یہ بھی سننا چاہتی ہے کہ سیکڑوں ارب روپے کورونا کے نام پر حاصل اور خرچ کردیے گئے ہیں لیکن ایسی رننگ کمنٹری سننے کو نہیں ملتی کہ جون میں ملک بھر کے اسپتالوں میں کتنے وینٹی لیٹرز تھے اور جولائی میں کتنے ہوجائیں گے۔ عوام یہ سننا چاہتے ہیں کہ پہلے کورونا متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے ہر شہر میں جتنے اسپتال اور خصوصی مراکز تھے جولائی تک ان کی تعداد اور استعداد دس گنا بڑھ جائے گی۔ حکومت جو بجٹ دے رہی ہے اور جو غیر ملکی امداد آرہی ہے وہ عوام کی فلاح کے لیے استعمال ہورہی ہے۔ اور طبی ماہرین نے جو مطالبات کیے ہیں ان کے مطابق بھی عمل کیا جائے گا۔ جب ان میں طبی ماہرین نے حکومتی ایجنڈے کے مطابق قوم کو دو ڈھائی ماہ قبل خوفزدہ کیا تھا کہ سڑکوں پر علاج کرنا پڑے گا۔ تو نجی ٹی وی چینلز نے خوفناک موسیقی کے ساتھ یہ خبر نشر کی تھی اور عوام خوفزدہ ہوگئے تھے۔ سڑکوں پر علاج کیا ہوتا آج حالت یہ ہے کہ بھٹو کے شہر لاڑکانہ کے قریب بھٹو کے سپاہی آغا سراج درانی کے حلقے گڑھی یٰسین میں مزدور کی موت واقع ہوگئی تو اس کی لاش لے جانے کے لیے اسپتال میں ایمبولینس نہیں تھی۔ چناں چہ ورثا میت کو گدھا گاڑی پر ڈال کر گھر تک لے گئے۔ لیکن ایسی خبروں اور تصویروں سے گدھوں کی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے۔
ایک غلط فہمی تو یہ ہے کہ جب بھی حکومتی دعوئوں کا پوسٹ مارٹم کیا جاتا ہے اور یہ سوال کیا جاتا ہے کہ کورونا سے نمٹنے کے لیے حکومت کیا کررہی ہے۔ فنڈز کہاں جارہے ہیں۔ وینٹی لیٹرز کیوں بڑھ نہیں رہے۔ ڈاکٹروں کے لیے حفاظتی کٹس اب تک کیوں مسئلہ بنی ہوئی ہیں، وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا دو کروڑ ماسک درآمد کیس سے کیسے بری ہو گئے۔ ان کے خلاف ثبوت لانا ینگ فارماسسٹ کی ذمے داری قرار پائی اور شہباز، سلمان شہباز اور دوسروں کے خلاف محض الزام پر گرفتاریاں، بے گناہی خود ثابت کرو۔ تو یہ قوالی شروع ہوجاتی ہے کہ کورونا کو سیریس لیا جائے۔ اس پر یقین کرلیں جو یقین نہ کرے اسے سزا دی جائے گی۔ لیکن کوئی یہ بتائے کہ طبی ماہرین نے لاک ڈائون کے ساتھ طبی سہولتوں کی فراہمی کا جو مطالبہ کیا ہے حکومت نے اس پر کس حد تک عمل کیا ہے۔ ڈاکٹروں کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔ سندھ حکومت خوفزدہ کرنے میں سب سے آگے ہے اور غلط اقدامات میں اس سے بھی آگے ہے۔ اسی حکومت نے کراچی و حیدر آباد میں سخت لاک ڈائون کے دوران گندم کی کٹائی شروع کردی۔ شہریوں پر جمعے، ہفتے اور اتوار کو سختی کی گئی اور عیدالفطر سے چند روز قبل اچانک رجسٹرار آفس کھول دیا جہاں کھڑے ہونے کی جگہ نہیں ہوتی، وہاں اچانک تین چار دن کام ہوا۔ باقی تمام سرکاری دفاتر بند پڑے ہوئے ہیں۔ اسی صوبائی حکومت نے چند روز قبل عیدالاضحی کے لیے قربانی کے جانوروں کے لیے مویشی منڈیاں قائم کرنے کا ٹھیکا جاری کیا اور پھر اچانک اتوار کے روز یہ نوٹیفکیشن واپس لے لیا گیا۔ محکمہ بلدیات اور ٹائون پلاننگ چھٹیوں اور لاک ڈائون کے دوران اس قدر فعال ہوگیا کہ متعلقہ حکام کو خطوط لکھ مارے۔ اب دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ منڈیاں لگانے کی اجازت کس بنیاد پر دی گئی تھی۔ اس پر کیا فیس وصول کی گئی تھی یا وصول کی جانی تھی اور اب کیا ہوگا۔ کیا یہ منڈیاں لگانے کی اجازت دی جائے گی یا نہیں۔ قرائن اور صوبائی حکومت کا ماضی تو یہ بتاتا ہے کہ آنے والے چند ہی روز میں یہ اجازت نامے نئی شان کے ساتھ جاری ہوجائیں گے۔
اب ایک سوال سندھ کی حکومت سے خصوصیت کے ساتھ اور مرکزی حکومت کے رننگ کمنٹری کرنے والے وزرا اور ذمے داران سے… کہ عوام کی نالائقی سے کورونا پھیل رہا ہے۔ لیکن صرف کراچی میں ہزارہا لوگ ٹائیفائڈ اور وائرل بخار کا شکار ہیں۔ یہ کس کی غلطی سے بیمار ہورہے ہیں؟ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ پانی صاف نہیں آرہا اس لیے بخار پھیل رہا ہے۔ کچرا نہیں اٹھوایا اس لیے بخار پھیل رہا ہے، یہ رننگ کمنٹری کرنے والے بتائیں کہ کچرا اٹھانا کس کی ذمے داری ہے۔ صاف پانی کی فراہمی کس کی ذمے داری ہے۔ سبزی منڈی اور دیگر مارکیٹوں میں صفائی کس کی ذمے داری ہے۔ جابجا گٹر بہہ رہے ہیں ان کی صفائی کس کی ذمے داری ہے۔ ذرا اسد عمر، ڈاکٹر ظفر مرزا اور شیخ رشید وغیرہ یہ بھی بتادیں کہ حکومت عام بیماریوں کو بھی سیریس لے۔ غیر سنجیدہ رویے کی وجہ سے بیماری پھیل رہی ہے۔ عوام کو تو جرمانے اور سزائیں اور یہ بیماریاں پھیلانے والوں کے لیے کیا سزا تجویز کی گئی ہے۔ رننگ کمنٹری مکمل کی جائے۔