بے حس حکمراں

322

محمد اقبال جا معی
گزشتہ دنوں اخبارات کا مطالعہ کررہا تھا کہ اچانک ایک خبر نظروں سے گزری گو کہ اخبار نے تو اس خبر کو بڑے موثر انداز میں لگا یا تھا خبر کچھ یوں تھی درس گاہوں کی بندش پر اساتذہ نے ٹھیلے پر کاروبار شروع کردیا۔ استاد نے تین ماہ بے روزگار رہنے کے بعد ٹھیلے پر چپس کا کاروبار شروع کردیا ساتھ ہی یہ بھی تحریر تھا کہ مذکورہ استاد سات سال سے نجی کالج اور ٹیوشن سینٹر میں تدریسی عمل میں حصہ لے رہے تھے۔ رپورٹر نے تحریر کیا کے مذکورہ فرد نے بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک مثال قائم کردی لیکن میں اس خبر کو پڑھ کر سوچتا رہ گیا کہ ہمارا حکمراں طبقہ کتنا بے حس ہے کہ یہ اپنے معاشرے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور مثالی کرداروں کی طرف سے غافل ہو کر کس طرح علامہ اقبال کے شاہین صفت افراد سے غافل ہے آخر یہ وزیروں اور مشیروں کی ناکارہ ٹیم شب و روز نجانے کن فرشتوں کے مسائل حل کرنے کی جدوجہد میں مصروف رہتی ہے۔ ہمارے ملک میں تعلیم سے وابستہ افراد کی کسی کو کوئی فکر نہیں غیر ذمے دار حکمرانوں نے ہمارے ملک کے تعلیمی ادارے بند کر کے ایک جانب تو طالب علموں کے مستقبل کو دائو پر لگا دیا ہے اور دوسری طرف ہمارے ان بے شمار طالب علموں کو مشکلا ت سے دوچار کردیا ہے جو اپنی تعلیم کے ساتھ نجی تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دے کر اپنے مستقبل کی گاڑی کو کسی نہ کسی طرح کھینچ رہے تھے۔ اس کے علاوہ ایسے بھی بے شمار اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کی کمی نہیں جو سرکاری ملازمتوں کے حصول میں ناکامی کے بعد نجی تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دے رہے تھے اور ساتھ ہی ٹیوشن پڑھا کر اپنا اور اپنے اہل خانہ کے مسائل حل کرنے کی کوششوں میں دن ورات مصروف تھے لیکن سرکاری سطح پر ایسے افراد کے مسائل پر کسی نے کوئی توجہ نہ دی۔ کیا ملک کے وسائل پر صرف سرکاری ملازمین، وزرا، سفرا اور مشیروں کا ہی حق ہے؟ یہ کیسی قانون کی بالا دستی ہے کہ اس مملکت کے وسائل سے کچھ لو گ انگور اور
میوے کھائیں اور اس کے ملک کے ضرورت مندوں کو صرف ماہانہ تین ہزار روپے امداد کے نام پر دے کر سرکاری وسائل پر لوگ حاتم طائی بننے کی کوشش کریں۔ کیا ان عقل مندوں کو اس بات کا ادراک نہیں کہ تین ہزار کی ’’خطیر‘‘ رقم سے یہ ضرورت مند کیا کچھ خرید سکیں گے اور ان ضروت مندوں کا گزارا کیسے ہوگا۔ اس دور میں تو تین ہزار میں کسی کے گھر کا ایک ماہ کا ناشتہ بھی پو را نہیں ہو سکتا۔ یہ بات تو ضرورت مندوں کی تھی۔ ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کا کیا اس مملکت کے وسائل پر کوئی حق نہیں؟؟ کیا ہمارے شاہین صفت جوان اس لیے زیور علم کے حصول میں ہمہ وقت لگن کے ساتھ مشغول رہتے ہیں کہ اگر کوئی کٹھن وقت آجائے تو ارباب اختیار ان کو یکسر نظر انداز کریں، حالانکہ یہی جواں ہیں قبیلہ کی آنکھ کا تارا کیوں کہ انہیں کسی مدد کی ضرورت نہیں کیا ملک کے کثیر وسائل میں سے ان کو سہولتیں نہیں فراہم کی جاسکتیں۔ کیا انہوں نے اپنے دن اور رات اس لیے تعلیم کے لیے نہیں لگائے تھے کہ انہیں چپس کے ٹھیلے لگانے پڑ جائیں۔ اس مملکت کے ذمے داروں کو شاید اس بات کا ادراک نہیں کہ یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہوگی۔
تاریخ گواہ ہے کہ صاحبان علم کو ہمیشہ اہل اقتدار نے عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھا اساتذہ کے وظائف مقرر کیے گئے کے ایک تو ان کی عزت اور توقیر میں اضافہ ہو اور دوسرے انہیں کسی بھی قسم کے معاشی مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے لیکن افسوس
زمانے کے انداز بدلے گئے۔ آج ہمارے سب سے معزز طبقہ کے بارے میں ہمارے حکمران کچھ سوچنے کے لیے تیار نہیں۔۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہنگامی بنیادوں پر نجی تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دینے والے اور ٹیوشن پڑھانے والے اساتذہ کا ڈیٹا مرتب کیا جائے اور انہیں ہر ممکن سہولت کی فراہمی یقینی بنانے کے اقدامات کیے جائیں کیوں کہ یہ اساتذہ ہی ہیں جو ہمارے معاشرے سے جہالت کے بدنما داغ کو مٹانے اور ہمارے طالب علموں کو مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے شب و روز مصروف ہیں اس کے علاوہ بورڈز اور یونیورسٹیز سے بھی نوجوان طالب علموں کا ڈیٹا حاصل کیا جائے اور ان کے معاشی مسائل حل کرنے کے انتظامات کیے جائیں کیوںکہ اگر ہمارے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد نے ٹھیلے لگانے شروع کردیے تو ملکی ترقی کا عمل رُک جائے گا۔ آج بھی ایک طبقہ ایسا ہے جو ہمارے طالب علموں کو کہتا ہے پڑھ لکھ کر کیا کرو گے۔ ملازمت تو ملے گی نہیں کوئی ہنر سیکھ لو کا م آئے گا۔ اگر شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ ہمارے بے شمار نوجوان جنہیں تعلیم حاصل کر کے اپنا اور اس قوم کے مستقبل کو سنوارنے میں حصہ ڈالنا تھا ہماری ناقص حکمت عملی کی وجہ کہیں چپس کے کیبن لگائے اپنے مستقبل سے بے نیاز اپنے کام میں مگن ہیں اور کہیں روڈ کے کنارے پنکچر لگانے میں ہمارے اداروں اور اربا ب اختیار نے کبھی بھی قومی بھلائی اور ترقی کے بارے میں سوچنے اور سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی ہاں عوام کی بھلائی اور بہتری کے لیے نمائشی اسکیمیں متعارف کرائی گئیں لیکن کبھی اس بات پر توجہ نہیں دی گئی کہ اپنے انسانی وسائل کو اتنی بہترین بنیادووں پر منظم کیا جائے کہ ملک کی تقدیر بدلنے کا کوئی سامان ہوجائے۔
ہمیں اپنے طالب علموں کو حو صلہ دینا ہو گا اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے کے مسائل کو اولیت دینا ہوگی اگر ہمیں ایک مہذب قوم بننا ہے تو ہمارا مقصد اولین ہونا چاہیے سب سے پہلے تعلیم آج ہم جن مسائل کا شکار ہیں اس کی بڑی وجہ بھی یہ ہی ہے کہ ہم نے تعلیم کے شعبہ کو بری طرح نظر انداز کیا ہے۔ ہمارا نظام تعلیم کمزور بنیادوں پر کھڑا ہے، سیاسی بنیادووں پر تعلیمی اداروں میں ملا زمت حاصل کرنے والے بے شمار افراد ان صلاحیتوں کے حامل ہی نہیں جو اساتذہ کا طرہ امتیاز ہوتا ہے، اس کا نتیجہ ہے کہ ہمارے ہاں طالب علموں کی کئی اقسام ہیں کچھ طلبہ تو ایسے ہیں جنہیں علم حاصل کرنے کا شوق کسی پل چین نہیں لینے دیتا وہ کتب سے استفادہ کرتے ہیں اساتذہ سے گفتگوکر کے اپنے تعلیمی معاملات میں رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ دراصل یہ ہی ایسے طالب علم ہیں جن کے بارے میں علامہ اقبال نے کہا تھا ’محبت مجھے ان جوانوں سے ہے ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند‘ اور جو ہر مشکل میں بھی قلم اور کتاب سنبھالے آگے بڑھنے کی جستجومیں شب و روز لگے رہتے ہیں جو خود بھی علم حا صل کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں اور اپنی مہارتوں سے اپنے اردگرد کے افراد کو بھی زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں۔ اس طرح کے نوجوان اس قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں ان کی یہ خواہش نہیں ہوتی کہ کوئی اقتدار حاصل کرلیں کیونکہ علم والے اقتدار کی راہ داریوں سے دور رہ کر ملک اور قوم کے لیے وہ کچھ کر گزر تے ہیں جو قتدار کے اعلیٰ ترین عہدے پر پہنچ جانے والے افراد بھی نہیں کر پاتے، اور رہی بات عزت کی تو جو عزت استاد بن جانے کے بعد مل جاتی ہی وہ صرف صاحبان علم کے ہی حصہ میں آتی ہے جس کے لیے نہ پروٹوکول درکار ہو تا ہے اور نہ آگے پیچھے دوڑتی گا ڑیاں بلکہ اساتذہ جہاں نکل جاتے ہیں،
وہیں ان کے چاہنے والے جاننے والے سلام و آداب کہتے دکھائی دیتے ہیں اور یہ وہ عظمت ہے جو کم ہی لوگوں کے نصیب میں آتی ہے اور جو اس عظمت کے حق دار ٹھیرتے ہیں وہ اپنی دھن میں مگن قومی بھلائی کی خاطر اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے درس و تدریس کو اپنی زندگی کا مشن سمجھتے ہوئے اسی کام میں لگے رہتے ہیں کیوںکہ وہ جانتے ہیں علم دینا ہمارے عظیم بزرگوں کو شیوہ رہا ہے لیکن ہر دور میں ایسے افراد کی ہمیشہ کمی رہی ہے کہ جو فروغ علم کو اپنی زندگی کا مقصد اولین بنا کر سفر زندگی جاری رکھتے ہیں۔ ایسے محبان علم اپنے اخلاق اور کردار سے معاشرے میں اپنی ایک الگ شناخت رکھتے ہیں کیونکہ معاشرتی اصلاح ان کا درس اول ہو تا ہے وہ اپنے طلبہ کو ہمیشہ معاشرتی خرابیوں سے آگاہ کر کے انہیں ان سے بچنے کی ترغیب دیتے ہیں اور اپنے قول و عمل سے بھی اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ معاشرتی خرابیاں کس طرح معاشرے کے لیے زہر قاتل ہیں جب طلبہ کا ایسے اساتذہ کے ساتھ جوڑ ہو جائے تو معاشرہ میں ازخو د مثبت تبدیلیاں رونما ہونے لگتی ہیں موجودہ تعلیمی ماحول میں جب ہر طرف نقل اور کاپی کلچر کی وبا عام ہے ہمارے معاشرے میں آج بھی ایسے مثالی اساتذہ اور طلبہ موجود ہیں جو سمجھتے ہیں کہ نقل اور کاپی کلچر نے ہمارے تعلیمی نظام کو کو کھلا کردیا ہے، ہمیں ایسے طلبہ اور ان کے مثالی اساتذہ کی قدر کرنا چاہیے۔ ہمارے نجی تعلیمی اداروں سے وابستہ ہزاروں اساتذہ محدود وظائف حاصل کرنے کے باوجود اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ قومی خدمت میں مصروف عمل ہیں ان اداروں سے وابستہ اساتذہ اپنے مالی مسائل کو حل کرنے کے لیے کسی امداد کے متلاشی نہیں ہوتے اپنے وظائف بڑھوانے کے لیے ہڑتالیں نہیں کرتے ٹائم اسکیل کا مطالبہ نہیں کرتے اس کے باوجود اپنے طلبہ کو بہترین تعلیم دینے کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔ کورونا نے جہاں پورے عالم کو متاثر کیا ہے وہیں نجی تعلیمی ادارے بھی بندش کا شکار ہونے کی وجہ سے بے پناہ مسائل میں گھر گئے ہیں، لیکن سرکاری سطح سے ان اداروں سے وابستہ افراد کے بحالی کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ قومی خدمت میں حصہ لینے والوں کا اس ملک اور قوم پر سب سے خطیر قرض ہے اور ارباب اقتدار کی یہ اولین ذمے داری ہے کہ ان اساتذہ کے مالی مسائل حل کرنے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ آئندہ کسی بھی صاحب علم فرد کو کسی معاشی مسائل حل کرنے کے لیے نہ تو جھا ڑو لگانا پڑے اور نہ ٹھیلہ لگانا پڑے۔