نجی تعلیمی ادارے سالانہ اوراسٹیشنری فیس کی مد میں ہزاروں روپے بٹورنے لگے

704

کراچی(حماد حسین) نجی اسکولوںکی جانب سے والدین سے سالانہ فیس اوراسٹیشنری فیس کی مد میںہزاروںروپے بٹورنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ڈائریکٹوریٹ پرائیوٹ انسٹیٹیوشنز کی اجازت کے بغیر اضافی فیس وصولی خلاف قانون ہے۔

ذرائع کے مطابق کورونا وائرس کے باعث لاک ڈائون کی وجہ سے تعلیمی اداروں کی بندش کے دوران نجی اسکولوں نے والدین کو لوٹنے کا ایک اور طریقہ اپنا لیا ہے ،نجی اسکولوں نے سالانہ فیس اور اسٹیشنری کی فیس مد میں والدین سے ہزاروں روپے بٹور رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیوشن فیس یا ماہانہ فیس کے علاوہ اسکول کوئی بھی فیس چاہے وہ سالانہ فیس ہو یا اسٹیشنری فیس ہو اس کی منظور ی حکومت سندھ یا پرائیوٹ انسٹیٹیوشنز سے لینا ضروری ہے اگر نجی اسکول نے منظوری لے لی تو پھر سالانہ فیس یا اسٹیشنری فیس کے نام پر فیس وصول کر رہے ہیں تو یہ درست ہے اور اگر اس کی منظوری متعلقہ اداروں سے نہیں لی گئی تو یہ اقدام خلاف قانون ہے اس حوالے والدین کا کہنا ہے کہ عدالت کے احکامات پر 20فیصد رعایت دینے کا کوئی فائدہ نہیں ہوا نجی تعلیمی اداروں نے مختلف اقسام کے چارجز لگا کر رعایتی فیس سے زاید فیسوں کی وصولی شروع کردی ہے جس میں سالانہ فیس اور اسٹیشنری فیس شامل ہیں۔

والدین کا مزید کہنا تھا کہ اسکولوں کو اسٹیشنری فیس اورسالانہ فیس لینے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ بچہ تو اب گھر میں ہی پڑھ رہا ہے اور والدین بچے کو اسٹیشنری گھر پر ہی دے ر ہے ہیںاور اس صورتحال میں اسکول کب کھلیں گے کچھ پتا نہیں ہے۔

کورونا کے باعث ڈائریکٹیوریٹ پرائیوٹ انسٹیٹیوشنزکے دفاتر بند ہونے سے اسکول مالکان اور شیرہوگئے ہیںکیونکہ ہم اس بات کی شکایت کہاں کر یں ہمیں سمجھ نہیں آرہا ۔اس ضمن میں چیئرمین پرائیوٹ اسکولز اینڈ کالجز حیدر علی کا کہنا تھاکہ اگر کوئی اسکول اس طرح کوئی فیس لے رہا ہے تو ناجائزہے اور ہم اسکی مذمت کرتے ہیں۔