وہ سائنس داں، جس کی مثل مغربی دنیا آج تک پیدا نہ کرسکی

1302

مغربی دنیا نے انسانی تاریخ میں کئی نامور سئنسدان پیدا کئیے جو اپنے اپنے علوم میں حددرجہ مہارت رکھتے تھے اور جنہوں نے انسانی ارتقا میں اہم کردار بھی ادا کیا لیکن ایک خامی جس پر مغربی دنیا نے پردے دال دئیے وہ یہ ہے کہ مغربی دنیا میں جتنے بھی سائسدان آئے انہوں نے مسلمان سائنسدانوں کے تحقیقات و تجربات اور اس کے ذریعے ثابت کئیے گئے حقائق کی بنیاد پر اپنے علوم کی عمارت کھڑی کی اور ہماری کوتاہی یہ کہ ہم نے اپنی سنہری تاریخ کو زندہ جاوید رکھنے کے بجائے غیر مسلموں کو اپنا محسن گردانا لیکن انسانی تاریخ میں واحد سائنسدان ایسا ہے جس کی مثل مغربی دنیا آج تک پیدا نہیں کرسکی اور وہ ہیں ابو ریحان محمد بن احمد البیرونی۔

کون سے علوم نہیں ہیں جس میں البیرونی نے تحقیقات و دریافت نہ کیں ہوں اور اُس موضوع پر لکھا نہ ہو۔ البیرونی کی تقریباً 150 تصانیف ہیں جس میں سے 95 کتابیں علمِ فلکیات، ریاضی اور ریاضی برائے جغرافیہ کے موضوع پر لکھی گئی ہیں۔ وہ پہلے سائسدان تھے جنہوں نے دنیا کی پیمائش بغیر کسی آلات کے تقریباً صحیح کی تھی۔ انہوں نے دنیا کا اپنے مدار میں گھومنا بھی ثابت کیا اور ارسطو کے کئی طبیعات سے متعلق نظریات کو عام تجربات سے غلط ثابت کیا۔

البیرونی بیک وقت ایک جراح اور طبیب بھی تھے اور شاعر و ادیب بھی۔ایک طرف انہوں نے طبعیات و کیمیا جیسے علوم کو نئی وسعتیں عطا کیں تو دوسری طرف ظرافت و لسانیات میں کمال کر دکھایا۔ انہیں عربی،فارسی،عبرانی اور سنسکرت سمیت اس وقت کی دس مشہور زبانوں پر عبور حاصل تھا۔

مورخین یہ طے کرنے سے قاصر ہیں کہ انہیں ماہر فلکیات کہیں ،جغرافیہ اور فلسفے کا بانی قرار دیں ،ریاضی دانوں کی فہرست میں شمار کریں یا پھر علم الادویہ و علم الادیان اور علم الاقوام کا خوگر تسلیم کریں۔

البیرونی سلطان محمود غزنوی کے دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس دور میں ایک اور سائسدان بوعلی سینا جنہیں جدید علم الادویہ کا بانی کہا جاتا ہے، وہ بھی اس دور میں موجود تھے اور البیرونی کے ہم عصر تھے۔البیرونی خوارزم کے مضافات میں ایک قریہ، بیرون میں پیدا ہوئے اور اسی کی نسبت سے البیرونی کہلائے۔ خوارزم میں البیرونی کے سرپرستوں یعنی آلِ عراق کی حکومت ختم ہوئی تو انہوں نے جرجان کی جانب رخت سفر باندھا وہیں اپنی عظیم کتاب “آثار الباقیہ عن القرون الخالیہ” مکمل کی۔ حالات سازگار ہونے پر البیرونی دوبارہ وطن لوٹے اور وہیں دربار میں عظیم بو علی سینا سے ملاقات ہوئی۔

اُن کا ایک اور عظیم کارنامہ ‘کتاب الہند’ ہے  جس میں البیرونی نے ہندو‎ؤں کے مذہبی عقائد، ان کی تاریخ اور برصغیر پاک و ہند کے جغرافیائی حالات بڑی تحقیق سے لکھے ہیں۔ اس کتاب سے ہندو‎ؤں کی تاریخ سے متعلق جو معلومات حاصل ہوتی ہیں ان میں بہت سی معلومات ایسی ہیں جو اور کہیں سے حاصل نہیں ہوسکتیں۔ اس کتاب کو لکھنے میں البیرونی نے بڑی محنت کی۔ ہندو برہمن اپنا علم کسی دوسرے کو نہیں سکھاتے تھے لیکن البیرونی نے کئی سال ہندوستان میں رہ کر سنسکرت زبان سیکھی اور ہندوئوں کے علوم میں ایسی مہارت پیدا کی کہ برہمن تعجب کرنے لگے۔ اس کے علاوہ البیرونی کی ایک اور مشہور کتاب “قانون مسعودی” ہے جو انہوں نے محمود غزنوی کے لڑکے سلطان مسعود کے نام پر لکھی۔ اور یہی علم فلکیات اور ریاضی کی وہ کتاب ہے جس کی وجہ سے البیرونی کو ایک عظیم سائنس دان اور ریاضی دان سمجھا جاتا ہے۔

البیرونی نے نوعیتی وزن متعین کرنے کا طریقہ دریافت کیا، زاویہ کو تین برابر حصوں میں تقسیم کیا، نظری اور عملی طور پر مائع پر دباؤ اور ان کے توازن پر ریسرچ کی، انہوں نے بتایا کہ فواروں کا پانی نیچے سے اوپر کس طرح جاتا ہے، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایک دوسرے سے متصل مختلف الاشکال برتنوں میں پانی اپنی سطح کیونکر برقرار رکھتا ہے، انہوں نے محیطِ ارض نکالنے کا نظریہ وضع کیا اور ثابت کیا کہ زمین اپنے محور کے گرد گھوم رہی ہے۔

علمِ نجوم میں اُن کی مہارت کا ایک واقع تاریخ کی کتابوں میں ملتا ہے کہ ایک دن بادشاہ نے البیرونی کو بلوا کر کہا کہ بتائو آج میں کس دروازے سے باہر جائوں گا؟۔ البیرونی نے کچھ دیر حساب لگایا اور ایک کاغذ پر جواب لکھ کر بادشاہ کو تھما دیا۔ بادشاہ نے ملازموں کو حکم دیا کہ میرے باہر نکلنے کیلئے دیوار توڑ دی جائے۔ اُس کے بعد بادشاہ نے جب البیرونی کی پرچی کھولی تو اُس میں یہی درج تھا کہ بادشاہ سلامت کسی دروازے سے نہیں جائیں گے بلکہ اُن کے باہر نکلنے کیلئے الگ سے دیوار توڑی جائے گی۔ یہ جواب دیکھ کر بادشاہ حیرت زدہ رہ گیا۔

البیرونی اپنے آخری وقت میں بھی علم کی جستجو میں لگے رہے۔ البیرونی جب بستر مرگ پر تھے تو اُن کے ہم عصر ابوالحسن علی بن عیسیٰ الوالجی اُن کی عیادت کو آئے۔ نحیف و لاغر ہونے کے باوجود البیرونی نے علم الہیت سے متعلق ایک مسئلے پر بات کرنا چاہی تو ابوالحسن نے حیرت سے تکتے ہوئے کہا،ارے او بندہِ خدا،تم اپنی حالت تو دیکھو، یہ وقت ہے بھلا ایسے مباحث میں الجھنے کا۔

البیرونی نے جواب دیا،حیرت کی کیا بات ہے؟کیا تم چاہتے ہو میں جہالت کی موت مروں یا ایک اور گتھی سلجھا کر اطمینان سے کوچ کروں اس دنیا سے؟ اس بے نظیر سائنسدان کے اصرار پر ابو الحسن نے اس معاملے پر اپنا نقطہ نظر پیش کردیا اور رخصت کی اجازت لیکر چوکھٹ چھوڑی ہی تھی کہ البیرونی کا انتقال ہوگیا۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)