قرطبہ ۔ کراچی ۔ نعمت اللہ خان

338

مظہر اقبال
اسی کی دہائی سے کرپشن کا آتش فشاں پھٹ پڑا ۔ بیورو کریسی کو لہو لگ گیا۔ کرپٹ سیاسی ٹھیکیداروں کی وجہ سے کراچی شہر اپنا تشخص کھو بیٹھا۔ نوجوانوں نسلیں نئی اصلاحات مثلاً بھتہ اور چائناکٹنگ سے روشناس ہونے لگیں۔ لوٹ مار کا بازار گرم تھا۔ لوگ مایوس تھے ایسے میں ایک پر خلوص، شفقت سے معمور چہرہ سامنے آیا۔ کراچی کے لوگوں نے انہیں خوش آمدید کہا یہ چہرہ تھا نعمت اللہ خان صاحب کا ۔
انہیں یقین تھا کہ وہ اس شہر کے لیے ضرور کچھ کریں گے ۔ جب انہوں نے چارج لیا تو سرکاری افسران و عملے کی یہ کیفیت تھی ۔ کام نہ کرنا میرا فرض ہے رشوت میرا حق ہے اور تنخواہ میرا وظیفہ ہے۔ اس منظر نا مے میں انہوں نے حقیقی معنوں میں کام کرنے کا بیڑا اٹھایا ۔
یہ نعمت اللہ صاحب کا ویژن تھا کہ کراچی کے بڑے بڑے ادارے مثلاً KPT اور دیگر کراچی کی سڑکیں استعمال تو کرتے ہیں مگر اپنا حصہ نہیں ملاتے۔ انہوں نے حکومت وقت کو یاور کرایا اور پھر کراچی کی تعمیر و ترقی کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔
یہ وہ مرحلہ ہے جہاں ان کی عقل، فہم و فراست کو داد دینی پڑے گی۔ ان کو حتی الوسع علم تھا کہ پہلے سے موجود بیوروکریسی اور ٹیکنوکریٹس کس پانی میں ہیں۔ لہٰذا انہوں نے باہر سے consultants بلوائے۔ کراچی کا ماسٹر پلان تیار کیا۔ جسے بعد میں ایک اور تنظیم نے own کرنے کی کوشش بھی کی۔ بہرحال ، نعمت اللہ صاحب ویژن سامنے آتا گیا۔ کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ ٹریفک ہے۔ انہوں نے بڑے پیمانے پر انڈر پاسز اور فلائی اورز کا منصوبہ پیش کیا۔ جبکہ ان سے پہلے آنے والی سیاسی جماعتیں کراچی کو ’’منیپاکستان‘‘کہنے کاخالی نعرہ لگاتی رہیں کیا کچھ نہیں ۔ یہاں ایک بات بہت اہم ہے۔ نعمت اللہ صاحب نے ’’میر‘‘ یا ناظم اعلیٰ بن کر کام نہیں کیا بلکہ لیڈر بن کر کام کیا۔ انہوں نے جماعت کے کارکنوں کو اس میں شامل کیا، جنہوں نے بلا اجرت دن رات کام کیا ۔ راقم ایک انویسٹی گیشن کالمسٹ ہے۔ لہٰذا راقم نے خود اس بات کی کھوج لگائی کہ ان کے دور میں کام کیسے ہوتا تھا۔ راشی افسران KICK BACKS لینے کے لیے تیار بیٹھے ہوئے تھے۔ تاہم جماعت کے ممبران اس بات کی کھوج لگاتے تھے کہ میڑیل اصلی ہے یا دو نمبر سیکڑوں مرتبہ ناقص میٹریل کو واپس کر دیا گیا۔ اب آپ دیکھتے جائیے کہ لیڈر نے اس کرپشن کاحل کیسے نکالا۔ کراچی کی فضا میں جب غیر ملکی پائلٹ رات اڑان بھرتے ہیں تو ٹریفک کا بہائو انہیں بتا دیتا ہے کہ کسی امیر شہر نے اس کی خوبصورتی کے لیے بہت جتن کیے ہوں گے۔
ابھی تو راقم نے صرف ایک معاملے پر بات کی ہے۔ کراچی اپنا حسن کھو بیٹھا تھا۔ پارکوں کو مسمار کر دیا گیا تھا۔ نعمت اللہ خان صاحب نے تمام ویران پارکوں کو بحال کیا تنقید کرنے والوں کو بتا دیجیے کہ اپنے ہی گھر صرف چھ گملوں میں پودے لگائیں اور سال بعد ہم ان سے پوچھیں گے بتائیے کتنے رہ گئے۔ انتہائی جانفشانی کے بعد کراچی کے راستے سر سبز نظر آنے لگے۔ اس کے پیچھے بہت گہری سوچ ہے۔ ہندو معاشرے میں لوگ تنگ گلیاں بنانے کے عادی ہوتے ہیں۔ جبکہ مسلمان کشادہ راستے، سبزہ زار اور نہروں اور فواروں کا اہتمام کرتا ہے۔ آپ اندلس کو دیکھیں، قرطبہ کو د یا پھر استنبول اور بخارا کو دیکھیں آپ کو ایک جیسا مزاج ملے گا۔ اندرون سندھ سے کھجوروں کے درخت منگوا کر کراچی کی شاہراہوں کو سرسبز کیا گیا ۔
صرف یہی نہیں بلکہ خان صاحب نے کراچی کی بند لائبریریوں کو بھی بحال کیا، کئی اسکول اور کالج جو باڑے بن چکے تھے ان کو اصلی حالت میں بحال کیا۔ کراچی میں لاکھوں لوگ روزانہ ملازمت اور کاروبار کے لیے سفر کرتے ہیں۔ کراچی میں بسوں کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ نعمت اللہ صاحب نے انتہائی جدید بسیں منگواکر شہریوں کو سفری سہولت میسر کی ۔
ان دنوں ہم جب بھی کراچی شہر سے باہر جاتے تو دوسرے شہروں کے لوگ موسم کے بعد نعمت اللہ صاحب کاہمیں بتاتے کہ TV خبروں سے پتا چلتا ہے کہ انہوں نے کراچی شہر کے لیے بہت اچھے اچھے کام کیے ہیں۔ نعمت اللہ خان اپنے عہدے سے زیادہ اپنے کردار سے یاد رکھے جائیں گے۔ آج کے دور میں دجالیوں اور ان کے حواریوں نے مسلم نوجوانوں کے سامنے مسلم امہ کی نشاط ثانیہ کی تصویر کو دھندلا دیا تھا، تا ہم نعمت صاحب کے کردار و عمل سے مسلمانوں کے اس سنہری دور کی یاد تازہ ہوگی ۔