سال 2020 کے ممکنہ سیاسی خطرات

399

بین الاقوامی سیاست میں تیزی کے ساتھ تبدیلی آرہی ہے اور اس کے حتمی نتائج کے حوالے سے کچھ بھی کہنا ممکن نہیں ہے تاہم عالمی سیاست کی تبدیلی میں مرکزی کردار ادا کرنے والے ممالک کے عملی اقدامات اور حالات و واقعات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم مستقبل میں تھوڑا ہی سہی مگر جھانک ضرور سکتے ہیں۔

1) 2020 میں ، امریکی سیاسی اداروں کی پہلے سے زیادہ کڑی آزمائش ہوگی اور نومبر کے انتخابات کے نتائج کو عوام کا ایک بڑا طبقہ غیر منصفانہ قرار دے گا کیونکہ اگر ٹرمپ اپنی حکومتی کی بے ضابطگیوں کے باوجود جیتتے ہیں تو نتائج کو دوبارہ پرکھا جائے گا اور اگر ہارتے ہیں تو ایک طویل عرصہ عدالتوں میں مقدمات کی نذر ہوگا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2020 کے امریکی انتخابات کے نتائج اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہیں جتنا لوگوں کی اس بےیقینی سے پیدا ہوگا کہ آخر انہوں نے ووٹ کس مقصد سے ڈالے۔

2) امریکہ اور چین کے تکنیکی سیکٹروں کے درمیان بڑھتے فاصلے عالمی سطح پر جاری مشترکہ ٹیکنالوجی، سرمایہ اور ٹیلنٹ کی دنیا میں بگاڑ کا سبب بن رہے ہیں۔ دونوں فریق اس شعبے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ 2020 میں ٹیکنالوجی کی اہم پیشرفت سیمی کنڈکٹرز، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، اور 5 جی جیسے اسٹریٹجک ٹیکنالوجیکل شعبوں سے آگے بڑھ کر وسیع تر معاشی سرگرمیوں میں داخلے کا انہیں اہل بنا دے گا اور اس اقدام سے نہ صرف 5 ٹریلین ڈالر کے عالمی ٹیک سیکٹر بلکہ دیگر صنعتیں اور ادارے بھی شدید متاثر ہوں گے۔

3) امریکہ اور چین کے درمیان جاری کشیدگی قومی سلامتی، اثر و رسوخ اور اقدار کی ہوس کو بھی بڑھاوا دے گی اور ایک واضح تصادم کا ماحول پیدا کردے گی۔ دونوں فریق اس تصادم میں اپنے اپنے اقتصادی وسائل کا بھرپور استعمال کریں گے۔ پابندیاں ، برآمدات کنٹرول اور بائیکاٹ جیسے اختیارات کا استعمال کریں گے جس سے دوسرے ممالک بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔

4) آب و ہوا میں تبدیلی کو مستحکم کرنے، عالمی سطح پر غربت میں کمی کیلئے کوشاں، اور تجارتی سرگرمیوں میں پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے والے ادارے ملٹی نیشنل کارپوریشنز (ایم این سی) کو منتخب اور غیر منتخب سیاسی عہدیداروں کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایسے سیاسی عہدیدار جو عالمی سطح پر انسانی نمو و معیشت میں کمی اور عدم مساوات کے محرک ہیں، اپنے مقاصد کیلئے ایم این سی ادارے کو بھرپور طریقے سے استعمال کریں گے۔

5) 2019 میں ، وزیر اعظم مودی اور ان کی حکومت نے جموں و کشمیر کے لئے خصوصی حیثیت کو کالعدم قرار دیا اور ایسا قانون متعارف کروایا جس میں 1.9 ملین افراد اپنی شہریت سے محروم ہوگئے۔ مختلف قسم کے مظاہرے پورے ہندوستان میں پھیل چکے ہیں لیکن مودی پیچھے نہیں ہٹیں گے جسکی وجہ سے 2020 میں حکومت کی ہٹ دھرمی مظاہروں کو مزید بھڑکانے کا سبب بنے گی۔ متعدد ہندوستانی اپوزیشن لیڈرز مودی سرکار کو براہ راست چیلنج کریں گے جسکی وجہ سے مودی اپنی حکومت کو چلانے کیلئے معاشی اصلاحات پر بظاہر بھی کام نہیں کر پائیں گے۔

6) یوروپی عہدیداروں کو اب یقین ہوچلا ہے کہ یورپی یونین کو معاشی اور سیاسی میدان میں اب زیادہ جارحانہ انداز میں اپنا دفاع کرنے کی ضرورت ہے۔ اصول و ضوابط کے حوالے سے، یورپی عہدیدار شمالی امریکہ کی تکنیکی کمپنیوں سے مقابلے میں سختی لائیں گے۔ تجارت کے حوالے سے، یورپی یونین قوانین کے نفاذ اور انتقامی محصولات پر مزید پابندی لگائے گی جبکہ سیکیورٹی کے حوالے سے، یورپی عہدیدار عسکری تجارت اور ٹیکنالوجی کی ترقی کیلئے سرحد پار تمام رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لئے دنیا کی سب سے بڑی منڈی کو استعمال کرنے کی کوشش کریں گے جسکے باعث یورپ کا چین اور امریکا سے براہِ راست آمنا سامنا ہوگا۔

7) موسمیاتی تبدیلی حکومتوں ، سرمایہ کاروں اور معاشرے کا آپس میں تصادم کا باعث بنے گی۔ سِول سوسائٹی ان سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کو معاف نہیں کرے گی جو ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کیلئے اپنی مصنوعات کی تیاری کے طریقوں کو تبدیل نہیں کر رہے۔ تیل اور گیس کی کمپنیاں، ایئر لائنز اور گاڑی ساز جیسی متعدد کمپنیوں اور صنعتوں کے اثاثے اور معیشت متاثر ہوگی۔ سرمایہ کار ایسی کمنیواں میں سرمایہ کاری کرنا پسند نہیں کریں گے جو اپنی مصنوعات میں زیادہ مقدار میں کاربن استعمال کرتی ہے جس سے ایک معاشی بحران جیسی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

8) مشرق وسطی میں اہل تشیع کی زیرقیادت اہم ممالک ایران ، عراق ، اور شام کے بارے میں امریکی پالیسی کی ناکامی علاقائی استحکام کیلئے نمایاں خطرات پیدا کررہی ہے جو کہ ایران کے ساتھ مہلک تنازع اختیار کرسکتا ہے۔ نہ تو ڈونلڈ ٹرمپ اور نہ ہی ایران کے قائدین جنگ چاہتے ہیں لیکن عراق، امریکہ اور ایرانی فوجیوں کے مابین مہلک تصادم کا امکان ہے۔ ایران خلیج فارس میں ٹینکرز کی آمد و رفت میں خلل ڈالے گا اور امریکہ پر سائبراسپیس کے ذریعے حملہ کرے گا۔ اس کے قوی امکان ہیں کہ عراقی حکومت رواں سال امریکی فوجیوں کو ملک سے نکال دے گی اور ایران کے اثر و رسوخ کے خلاف کچھ عراقیوں کی مزاحمت سے عراقی ریاست اوپیک کے تحت تیل پیدا کرنے والا دوسرا سب سے بڑا ملک بن جائے گا۔ شام میں بھی امریکہ کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں کی وجہ سے 2020 میں علاقائی خطرہ پیدا ہوگا۔

9) ترک صدر رجب طیب اردوان – جو دھمکیوں کے جواب میں اشتعال انگیز سلوک کی ایک لمبی تاریخ رکھتے ہیں جو کہ بعض اوقات بیرونی و اندرونی ناقدین کے ساتھ محاذ آرائی پر منتج ہوتی ہے، زوال کے دور میں داخل ہوچکے ہیں۔ وہ حکمران جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی طرف سے ناراضگی کا شکار ہیں کیونکہ سابق اتحادیوں نے نئی جماعتیں تشکیل دے دی ہیں۔ اردوان کے اتحادی تذبذب کا شکار ہیں۔ اس سال کے پہلے نصف حصے میں امریکی پابندیوں کے نافذ ہونے کے نتیجے میں ترکی کے امریکہ کے ساتھ تعلقات مزید خراب ہوں گے اور اس کا اثر ملک کی ساکھ اور سرمایہ کاری پر منفی پڑے گا۔ ان مختلف وجوہات کی بنا پر اردوان کی حکومت میں معیشت کو مزید نقصان پہنچے گا۔