نایاب دریافتیں جو آپ کو تاریخ کی کتابوں میں نہیں ملیں گی

1498

دنیا میں کئی دریافتیں ہوچکی ہیں اور ہوتی رہیں گے لیکن آج جن دریافتوں کے بارے میں ہم آپ کو بتانے جارہے ہیں اُن کے بارے میں شائد ہی آپ کو تاریخی کتابوں میں پڑھنے کو مِلے۔

1) راہب کی لاش بیٹھے یوئے بُت کے اندر

2015 میں، ہالینڈ کے محققین نے بیٹھے ہوئے ایک بدھ کے مجسمے کو چین میں دریافت کیا جو کہ ہزار سال پرانا تھا۔ اس مجسمے کا سی ٹی اسکین کیا تو اندر انہیں وہ دِکھا جس کی انہیں توقع نہیں تھی۔ اس بیٹھے ہوئے بُت میں ایک راہب کی لاش ہزار سال سے رکھی ہوئی تھی۔

2) خلافتِ عثمانیہ کی ریل گاڑیاں

خلافتِ عثمانیہ کے دور میں لارنس نامی ایجنٹ ایک عیسائی جسے لارنس آف عربیہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کو 1917 میں مشرق وسطی میں تعینات کیا گیا تھا تاکہ وہ سلطنتِ عثمانیہ کیخلاف عربوں کے ساتھ مِل کر ترک خلافت کو مدد پہچانے والی ٹرینوں کو نقصان پہنچائے۔ جب جنگ ختم ہوگئی تو انہوں نے تمام سلطنتِ عثامانیہ کے زیرِ دست ریل کی پٹریوں اور ٹرینوں کو تباہ کردیا اور ترکی نے بھی اُن ٹرینوں کو واپس نہیں لیا اور صحرا میں ہی چھوڑ دیا۔

3) میکسیکو کا گرین ماسک

یہ حیرت انگیز سبز رنگ کا ماسک 2011 میں میکسیکو میں موجود اہرام ک بنیادوں کی کھدائی کے دوران مِلی لیکن صرف یہی چیز ماہر آثار قدیمہ کو نہیں مِلی بلکہ انہوں نے اُس کے ساتھ خزانے بھی دریافت کئیے۔ ان چیزوں کو 2000 پزار قبل کسی کو پیش کرنے کیلئے چھپایا گیا تھا۔

ماہرین آثار قدیمہ کا گرین ماسک کے حوالے سے کہنا ہے کہ ماسک غالباً کسی تقریب کا حصہ رہا ہوگا جس میں کسی کو خزانے پیش کئیے جاتے تھے۔

4) دیوہیکل جاپانی کیکڑا

بظاہر ان کیکڑوں کی ساخت ناقابلِ یقین ہے لیکن یہ واقعی کسی زمانے میں جاپان کے ارد گرد سمندر میں وافر مقدار میں پائے جاتے تھے۔ یہ سمندر کی گہرائی میں رہتے ہیں اور یہی وجہ ہے بہت کم دِکھنے میں آتے ہیں۔ ان کی لمبائی 18 فٹ تک ہوسکتی ہے اور 42 پونڈ وزن ہوسکتا ہے۔ یہ دیوہیکل کیکڑے اسی وقت باہر نکلتے ہیں جب انہیں کھانا چاہئیے ہوتا  ہے مگر کئی دہائیوں سے جاپانیوں  کا حد سے زیادہ مچھلیاں پکڑنے کی وجہ سے کیکڑے کی یہ قسم ناپید ہونے کے قریب ہے۔ یہ تصویر 1904 کی ہے۔

5) رومی بادشاہ کے فولادی دستانے

رومی بادشاہ میکسمیلن I نے ان فولادی دستانوں کو 1519 عیسوی میں مرنے تک پہنا یہ دستانے قرون وسطیٰ کے دوران دنیا کے مختلف حصوں سے آئے افسران یا سپاہیوں کی جانب سے تحفہ دیا گیا تھا۔ دنیا میں مختلف قسم کے فولادی دستانے ہیں لیکن یہ اُن میں سب سے زیادہ خوبصورت ہے۔

6) دنیا کے پہلے دھوپ سے بچنے کیلئے چشمے

دھوپ سے بچنے کیلئے عینک تیار کرنے والے  پہلے لوگ انوئٹس تھے جو قدیم شمالی امریکا میں 4000 سال قبل بستے تھے۔ یہ چشمے انہوں نے ہاتھوں سے تیار کئیے تھے جو انہیں الٹرا وائلیٹ شعاؤں سے محفوظ رکھتے تھے۔

7) سونے کا بڑا پتھر

برنہارڈ اوٹو ہولٹرمین 1838 میں جرمنی میں پیدا ہوا تھا۔ اُس نے سالوں سونے کی تلاش میں کھدائی کی اور فوج میں شمولیت سے بچنے کیلئے چھپتا پھرتا رہا لیکن سونے کو پانے کیلئے اُس نے اپنی جستجو جاری رکھی اور ملک کے مختلف زمینی حصوں پر کھدائی کرتا رہا اور آخر کار کامیاب ہوگیا۔ اوپر دی گئی تصویر میں برنہارڈ کے بغل میں سونے کا پتھر کھڑا ہے۔ برنہارڈ 1882 میں سینٹ لیونارڈ کی پارلیمنٹ کے ممبر منتخب ہوئے اور 47 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔

8) دنیا کی خوبصورت اور پیچیدہ ترین گھڑی

یہ دنیا کی پانچویں خوبصورت اور پیچیدہ ترین گھڑی 1783 کی ملکہ فرانس میری اینٹوئنیٹ کیلئے تیار کی گئی تھی۔ ملکہ سے شادی کے طلبگار ایک گمنام شخص نے اسکو تیار کیا تھا جسکی لاگت تقریباً 30 ملین ڈالر ہے۔ اِسے سونے سے تیار کیا گیا تھا لیکن بدقسمتی سے ملکہ اس گھڑی کو دیکھ نہیں پائی کیونکہ یہ گھڑی 1827 میں تیار ہوئی، ملکہ کے سر قلم کرنے کے 34 سال بعد۔

9) سونے کی زرہ

19ویں صدی میں نیپولین جنگوں میں ایک نوجوان سپاہی اینٹونیو فریویو نے اس زرہ کو جنگ کے دوران پہنا تھا۔ یہ زرہ سونے سے بنی ہوئی ہے۔ اس قسم کی زرہ بندوقوں اور تلواروں کے حملے کو تو جھیل سکتی تھیں لیکن بارودی گولے کو نہیں۔ جنگ کے دوران انٹینیو کو ایک بارودی گولہ آکے لگا جس نے اس زرہ میں چھید کردیا اور نوجوان موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔ دُکھ کی بات یہ تھی کہ جنگ کے بعد اینٹونیو کی شادی ہونے والی تھی۔

10) فراعنئہ کے فیشن

فرعون بھی ہماری طرح سے چپلیں یا سینڈل پہنتے تھے لیکن اُن میں بھی فیشن کا رواج تھا۔ فراعنئہ کے لباس اور جوتیاں عام عوام سے زیادہ اچھی اور خوبصورت ہوتی تھیں۔ اس چپل کو فرعون ٹوٹن خمون استعمال کرتا تھا۔