لداخ کے بعد چین کی بحرہند میں پیش قدمی

1031

بیجنگ: چین نے بھارتی افواج کو چکرا کر رکھ دیا، چین اور بھارت کے مابین لداخ سرحدی کشیدگی جاری ہے، ایسے میں چین نے بحرہند میں بھی فوج بڑھانا شروع کردی ہے جس سے مودی سرکار مزید بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی ہے۔

چین نے لداخ کے محاذ پر بھارتی فوج کو زیر کیا تو بھارت نے چین کو سبق سیکھانے کا اعلان کیالیکن اب چین نے بحر ہند میں فوجی قوت میں اضافہ شروع کر دیا ہے، رواں برس مئی  کی سیٹلایٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ جبوتی میں چین فوجی اڈے کو جدید بنا رہا ہے،لاجسٹک سپورٹ یونٹ کی حیثیت سے 2017 میں قائم کئے جانے والے اس اڈے کو ایک بڑے بحری اڈے میں بدلا جارہا ہے۔

The Simmering Boundary: A “new normal” at the India–China border ...

دوسری جانب خود بھارتی میڈیا دعویٰ کررہا ہے کہ چین پاکستان میں گوادر بندرگاہ کو مضبوط بنانے کی مہم پر گامزن ہے، بندرگاہ کے اندر اینٹی وہیکل بیر ، حفاظتی باڑ ، سیکنڈری پوسٹس اور ایلیویٹڈ گارڈ ٹاور لگائے گئے ہیں  جبکہ چین بنگلادیش کے” کوکس بازار” میں بحریہ کا اڈہ بنانے میں مدد فراہم کررہا ہے۔

چین کی پیپلز لبریشن آرمی کا کہنا ہے کہ چین کا جبوتی کمپاؤنڈ کوئی معمولی فوجی اڈہ نہیں ہے۔ اس اڈے میں چین کے 10 ہزار کے قریب فوجی رہ سکتے ہیں تاہم تجزیہ کاروں اور میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ اڈہ دیگر اہم مشنوں جیسے انٹلیجنس اکٹھا کرنے ،اور دیگر عسکری کاروائیوں کے لئے ہے۔

Galwan: A valley named after famed Kashmiri warrior tribe which ...

واضح رہے کہ چین نے بحری قزاقی گشت کیلئے صومالیہ کے ساحل پر پہلی بار جنگی جہاز تعینات کرنا شروع کیے تھے، تو بھارتی تجزیہ کاروں کا خیال تھا کہ چین کے سمندری سلامتی کے مفادات بنیادی طور پر تجارتی ہیں اور پیپلز لبریشن آرمی نیوی یا پی ایل اے بنیادی طور پر بیجنگ کے تحفظ کے لئے ایسا کر رہی ہے۔

Defence News | Chinese Military Base In The Indian Ocean Near ...

بھارتی تجزیہ کاروں کاکہناہے کہ چین نے آبدوزوں، انٹیلیجنس اور بحری جہازوں  کی بڑی تعداد کو بحر ہند کے مختلف علاقوں میں بھجوایا ہے جبکہ بھارت کے لیفٹ ونگ کے میڈیا نے بھارتی حکومت پر شدید تنقید کی ہے کہ مودی سرکار دباؤ کا شکار ہے اور چین کو جواب دینے سے قاصر ہے ۔

 

 

بھارتی میڈیا نے اپنی فوج کا پول بھی کھولتے ہوئے کہا کہ بھارتی بحریہ سے چینی بحریہ زیادہ طاقتور ہے، بھارتی بحریہ کے پاس وہ صلاحیت نہیں جو چین کے پاس ہے۔.