لاک ڈائون شوق یا مجبوری؟

389

\وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے ملک دوبارہ لاک ڈائون کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ آگے بھی بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے اور ان چیلنجز میں معاشی حالات سب سے اہم ہیں۔ عمران خان نے تسلیم کیا کہ مساجد کی وجہ سے کورونا نہیں پھیلا لوگ ایس او پیز پر عمل کریں تو اسپتالوں پر لوڈ کم ہو سکتا ہے۔ بھارت میں لاک ڈائون سے غربت میں اضافہ ہوا۔
وزیر اعظم نے لاک ڈائون کے جو نقصانات بیان کیے ہیں نقصانات کی فہرست اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ظاہر ہے پورے نظام زندگی کا پہیہ اچانک جام ہوجانا اور زندگی کا سمٹ اوردبک کر گھروں تک محدود ہوجانا از خود ایک سنگین صورت حال ہے۔ لاک ڈائون کے دوران سائیں سائیں کرتی شاہراہیں اور بازار خوف کی ایک جھر جھری جسم میں دوڑا دینے کا باعث بنتی تھیں۔ زندگی کو غیر معینہ مدت تک اس قدر بے نور،بے کیف اور بدمزہ اس سے پہلے شاید ہی چشم فلک نے دیکھا ہو۔ یوں بھی جدید ایجادات اور انداز واطوار نے زندگی کو معمول سے زیادہ مصروف اور برق رفتار بنا دیا تھا۔ بہت سی غیر ضروری چیزیں رسم ورواج ایسے تھے جو قطعی طور پر زندگی کے لیے ضروری نہیں تھے مگر ہم نے یہ تصور کر لیا تھا کہ اس کے بغیر تو انسانی حیات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ہے کاررگاہِ دہر میں کوئی شے ناگزیر نہیں ہوتی۔ یہاں ثبات ایک تغیر کوہے۔ زمانے میں کا اصول ہی سب سے بڑی سچائی ہوتا ہے۔ انسان جیسی اہم ترین تخلیق اگر بے ثبات اور عارضی ہے اور دنیا کے اسٹیج پر ایک مخصوص مدت تک اپنا پارٹ پلے کرکے رخصت ہونے پر مجبور ہے تو
انسانوں کے بنائے ہوئے رسم ورواج اور سماجی اور ثقافتی قدروں کی کیا اہمیت ہے۔ یہ بھی منجمد اور ناگزیر کیوں کر ہو سکتے ہیں۔ معاشرے میں اپنی پگ اونچی کرنے کے شوق اور مونچھ نیچی ہوجانے کے خوف اور انا کے پرچم کو اونچا رکھنے کے لیے زندگی کو ایک شوریدہ سر ندی کاروپ دے دیاگیا تھا۔ کورونا نے اس شوریدہ سری کو ہلکی سی لگام دی ہے۔ اس فراٹے بھرتی گاڑی کے آگے ہلکا سا سپیڈ بریکر لگا دیا ہے۔ اب جب ہم نے یہ جان لیا کہ بہت سی باتیں جنہیں ہمیں روز مرہ کے معاملات کا جزو لاینفک سمجھتے تھے۔ انسان کا فریب نظر اور غلط فہمی کا شاخسانہ تھے۔ ان رواجات کو اب واپس اپنی ڈگر پر آنا ہوگا۔
یہ تو لاک ڈائون کا پہلا نقصان ہے۔ اس کے بعد نقصانات کی ایک زنجیر سی بنتی چلی جاتی ہے۔ تجارت، سیاحت اور ٹرانسپورٹ سمیت ہر چیز رک جاتی ہے اور اس سے دہاڑی دار انسان حالات کی چکی میں پس کر رہ جاتا ہے۔ عام آدمی دہاڑی دار مزدور سے اوپر جاتے جائیں اس صورت حال کا سب سے زیادہ نقصان بطور مجموعی ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔ مضبوط معیشتیں یہ جھٹکا جیسے تیسے سہہ جاتی ہیں مگر پاکستان جیسے ممالک جہاں قرض کی مئے سے ہمارے معاشی میکدے کی رونقیںبحال رہتی ہیں، وہاں یوں نظام حیات کا ٹھپ ہوجانا ملکی معیشت کی رگوں کا خون نچوڑ لینے کا باعث بنتا ہے۔
کورونا نے دنیا بھر کو بری طرح متاثر کیا ہے اور اس کے نتیجے میں بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے۔ بیرونی دنیا میں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانیوں کے سر پر بے روزگاری کی تلوار لٹک رہی ہے اور کئی ممالک سے پاکستانی بے روزگار ہو کر واپس لوٹ رہے ہیں۔ اس سے ایک تو زرمبادلہ پر اثر پڑ رہا ہے دوسرا یہ کہ ملک میں بے روزگاروں کی فوج میں تیزی سے اضافہ ہور ہا ہے۔ ایسے میں لاک ڈائون کسی معاشرے کا مطلوب ومقصود نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں جس ملک نے زندگی کا پہیہ جام کیا تو اس کے پیچھے زندگی کو رواں دواں رکھنے کی ہی خواہش اور مجبوری تھی۔ خد ا کرے کہ ملک کو دوبارہ لاک ڈائون کی طرف جانا ہی نہ پڑے مگر اس کا کیا کیجیے کہ عوام کا رویہ حکومتوں کو اس انتہائی قدم پر مجبور کرتا ہے۔ لوگ رضاکارانہ طور پر احتیاط کا دامن پکڑے رکھنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ اس لیے چار وناچار حکومتوں کو اپنے نظام صحت کو دیکھتے ہوئے زندگی کو گھروں میں سمیٹ اور لپیٹ کر رکھنا پڑتا ہے ۔یہ بات بجا کہ ملک دوبارہ لاک ڈائون کا متحمل نہیں ہو سکتا مگر یہ ایک ایسا جبر ہے جو خود اپنا وجود منواتا ہے۔ اس ساری صورت حال کی کنجی حکومت کے پاس نہیں عام آدمی کے پاس ہے۔ عام آدمی اپنی ذمہ داری کا احساس کرکے خود کو، ملک وقوم کوحالات کے بھنور سے نکال بھی سکتا ہے اورلاک ڈائون لگنے اور ختم ہونے جیسی بے مقصد آنکھ مچولی کی دلدل میں دھنسا رہنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ وقت نے ثابت کیا کہ لاک ڈائون شوق نہیں مجبوری ہے۔ زہر کا ایسا جام ہے جسے شفاء کی امید پر حلق میں انڈیلا جارہا ہے۔ ایسا اینٹی بائیوٹک ہے جس سے ایک مرض تو ٹھیک ہوتا ہے مگر چار نئے امراض کی بنیاد پڑجاتی ہے۔ روزاول کی طرح آج بھی حالات عوام سے یہی کہتے ہیں کہ فیصلہ تیرا تیرے ہاتھوں میں ہے دل یا شکم؟ یہاں دل یا شکم کی بات نہیں بلکہ لمحہ موجود اور آنے والے دنوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے ۔