انڈہ پہلے آیا یا مرغی؟ سائنس نے جواب تلاش کرلیا

1598
مختلف ادوار میں بچے اور بعض اوقات بڑے بھی صدیوں سے یہ سوال کرتے آئے ہیں کہ پہلے مرغی آئی یا انڈہ آیا؟ مگر حیران کُن بات یہ ہے کہ عام لوگ ہی نہیں بلکہ سائسدان بھی اس پہیلی کو حل کرنے کی کوشش میں لگے رہے اور آج حالیہ عرصے میں کامیاب بھی ہوگئے۔

 

اس پہلیلی کا جواب تلاش کرنے کیلئے انگلینڈ میں شیفیلڈ اور واروک یونیورسٹیوں کے ماہرین نے حیاتیاتی تحقیق کے شعبے میں استعمال ہونے والی جدید ترین ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر پروگراموں سے استفادہ کیا۔ تحیقیق سے پتہ چلا کہ  مرغی اور انڈے کے بارے میں صدیوں پرانے سوال کے جواب میں فیصلہ کن حیثیت انڈے کے چھلکے کی ہے جسکی تیاری میں ایک خاص قسم کا پروٹین اہم کردار ادا کرتا ہے۔

یہ بات تو پہلے ہی سے ماہرین حیاتیات کے علم میں تھی کہ انڈے کے چھلکے کی تیاری میں سب سے اہم کام OC-17 نامی پروٹین کا ہوتا ہے لیکن اب سائنسدان جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد سے یہ پتہ چلانے میں کامیاب ہو گئے ہیں کہ اس پروٹین سے مرغی کے انڈے کا چھلکا جسے انگریزی میں Eggshell کہتے ہیں، کیسے بنتا ہے۔

مرغی کے جسم میں موجود OC-17  پروٹین کیلشیئم کاربونیٹ کے ذرات کو ایسے crystals میں تبدیل کرنا شروع کر دیتا ہے جو انڈے کے اردگرد حفاظتی چھلکے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں اور اسی جواز کی بنا پر سائنسدان کا کہنا ہے کہ دنیا میں پہلی مرتبہ انڈہ نہیں آسکتا کیونکہ انڈے کے چھلکے کی تیاری میں مرغی کے جسم میں پائی جانے والی یہ خاص پروٹین لازمی طور پر درکار ہوتی ہے۔