مسلمان نوجوانوں کو 21ویں صدی میں درپیش چیلنجز

577

ہمیں روز مرہ کے معمولات میں آئے دن نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اُن سے نمٹنے کیلئے سنجیدگی، قابلیت، قوتِ ارادی، لگن اور مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہمارے اندر کسی چیلنج سے نمٹنے کیلئے اِن 5 چیزوں میں سے کسی ایک کی بھی کمی ہوگی تو ہم اُس چیلنج کا سامنا نہیں کر پائیں گے اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہمارے معمولات میں عدم توازن پیدا ہوجائے گا اور ہماری خود اعتمادی شدید متاثر ہوگی۔

21ویں صدی کے مسلم نوجوانوں کے حال کا اگر مشاہدہ کیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمان نوجوانوں کو معاشرتی، سیاسی، اخلاقی اور مذہبی شعبوں میں بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے جس میں وہ پورے اترتے دکھائی نہیں دے رہے۔

آج کے مسلمان نوجوانوں کو جو سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنے ارد گرد کے ماحول سے ناآشنا ہیں جس کی مدد سے وہ اپنی شخصیت اور فطری صلاحیتوں میں مزید نکھار پیدا کرسکیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام بچوں کی نفسیات کے مطابق بچوں کی پرورش کے طریقوں پر زیادہ زور دیتا ہے جسے پر آج کَل کے والدین سنجیدگی سے غور نہیں کرتے۔

والدین کا اپنے بچوں کو شروع سے ہی اسلام کی بنیادی تعلیمات کے ساتھ ساتھ اچھی عادات، نظم و ضبط، خودمختاری، احسان، دوسروں کا احترام، وقت کے انتظام کی تربیت دینا اور آپس میں بہترین communication کرنے سے یہ فائدہ ہوگا کہ جب وہ جوانی کے مراحل میں داخل ہوں گے تو اُنہیں باہر اپنے ارد گرد کے ماحول کو سمجھنے میں یقینا مدد ملے گی۔

دوسرا بڑا چیلنج جو آج مسلم نوجوانوں کے سامنے ہے وہ یہ کہ اسلام کی سلیم الفطرت شکل کو بھی بگاڑ کے پیش کیا جارہا ہے۔ اس کے علاوہ غلط بیانی اور یہاں تک کہ غلط تشریحات بھی کی جارہی ہیں جس میں غیر متعلقہ مباحثے کو بڑھاوا دیا  جارہا ہے اور اس میں بالخصوص مغربی میڈیا  مرکزی کردار ادا کررہا ہے جو مسلم نوجوانوں میں ذہنی انتشار اور بیگانگی کا احساس پیدا کرنے کا سبب ہے۔

9/11 کے بعد میڈیا کے ذریعے Islamophobia کو جس تیزی کے ساتھ پھیلایا گیا، اُس نے نوجوانوں کے پریشان اذہان پر جلتی پر تیل کا کام کیا۔

یہ ایک مسلسل جاری رہنے والی جدوجہد ہے جس میں مسلمان نوجوانوں کو تن دہی سے آگے بڑھنے اور لوگوں تک رسائی حاصل کرکے انہیں قرآن و احادیث میں پیش کئیے گئے اسلام کی صحیح تعلیمات سے روشناس کرانا ہوگا اور بوقت ضرورت اسلام کو سمجھنے اور تحقیق کرنے میں اُن کی مدد بھی کرنی ہوگی۔ لیکن پھر یہ چیلنج ایک اور چیلنج کو جنم دیتا ہے کہ اس مادیت پرستی کے دور میں غیر مسلم دنیا کو اسلام کے انقلابی اور بنی نوع انسان کی کامیابی کیلئے واحد نظامِ زندگی کو ثابت کرنے کیلئے تمام اسلامی و سیاسی مکتبہ فکر، اسلامی معاشرتی، معاشی و سیاسی نظام، اسلامی فکر کی جدید دور سے مطابقت، تاریخ اسلام، جہاد اور اسلام میں عورتوں کے حقوق سے متعلقہ علوم سے آراستہ ہونا پڑے گا۔ جب تک وہ ان علوم میں مہارت حاصل نہیں کریں گے انھیں ہر علمی میدان میں شکست سے دو چار ہونا پڑے گا اور انہیں زندگی کے ہر شعبے میں پیچھے دھکیلا جائے گا۔

سائنس و ٹیکنالوجی کے اس تجدیدی دور میں مسلمان نوجوانوں کو اپنی سنہری تاریخ کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے بجائے اُن غیر مسلم سائنسدانوں سے متاثر ہوا جائے اور اُن کی تقلید کی جائے جنہوں نے مسلم اسکالرز کی تحقیقات کی بنیاد پر اپنے علوم کی عمارت کھڑی کی۔ مسلم نوجوانوں کو چاہئے کہ اپنے ماضی کے سنہرے ادوار سے سبق حاصل کریں اور اپنی کھوئی ہوئی قدر و منزلت کو دوبارہ حاصل کرنے کی جدو جہد کریں۔

ہم میں سے کتنے ابن الہیثھم (جنہوں نے طبیعیات ، نظریات، اور فلکیات کے شعبوں کی بنیاد فراہم کی)، ابن خلدون (ایک ماہر معاشیات اور سیاسی فلسفی)، الخوارزمی (جنہوں نے جدید ریاضی کے اصولوں کی بنیا فراہم کی اور فلکیات میں  گراں قدر خدمات انجام دیں) کو جانتے ہیں؟

ہم میں سے کتنے افراد نے الزاہروی (سرجری، طب اور نفسیات کے اولین ماہر)، البیرونی (ایک تاریخ دان، شاعر، ریاضی دان اور ماہر فلکیات)، ابن نفیس (جنہوں نے سب سے پہلے خون کی گردش کو دریافت کیا اور ادوایات کا مطالعہ کیا ) اور ابن سینا (جدید طب کی بنیاد فراہم کرنے والے طبیب) کا مطالعہ کیا؟۔

کیا ہم نے الکندی (جس نے فلکیات، ریاضی، اور فلسفے کے علوم میں مہارت حاصل کی)، الفارابی (ماہر طب)، الغزالی (ایک عظیم فلسفی)، ابن رشد (فلسفی، طب اور ارسطو کے سب سے بڑا تنقید نگار) کو پڑھا ہے؟

اسلامی دنیا کی اس وراثت کا خود مسلم نوجوانوں کو موجودہ دور میں احترام کرنے اور اسے دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔

مسلم نوجوانوں کے سامنے حتمی چیلنج یہ ہے کہ اپنے اندر اسلام کی حقیقی روح کو کس طرح اجاگر کریں اور یہ یاد رکھیں کہ وہ جو بھی اپنا مقصد بنائیں گے اور اُس کے حصول کیلئے کاوش کریں گے، وہ براہ راست اللہ تعالی کی نگرانی میں ہیں۔ آپ جتنی زیادہ اسلامی اصولوں کے مطابق بامعنی زندگی گزاریں گے، آپ خود کو اللہ کے فضل و کرم سے بہتر انسان، مظبوط ارادے کا حامل اور خود اعتماد پائیں گے۔

چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے طاقت اور مضبوط ارادیت کی ضرورت ہوتی ہے اور طاقت اور مضبوط ارادے نظم و ضبط سے وجود میں آتے ہیں (جس میں خواہشات، خیالات، جذبات اور افعال سبھی شامل ہیں) اور یاد رکھیں کہ نظم و ضبط میں استقامت اُن خرافات سے بچنے کے بعد ہی حاصل ہوگی جن میں ہم آج پھنسے ہوئے ہیں جیسے سوشل میڈیا، دنیاوی تفریحات اور اس کی رونقیں، کھیل کود اور فلمیں وغیرہ۔ لہذا اس کے بجائے اپنی جسمانی و ذہنی اور روحانی نشوونما پر توجہ دیں۔

ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ایک مومن کے ایمان کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ ایسی تمام چیزوں سے پرہیز کرتا ہے جن سے اسے کوئی سروکار نہیں ہوتا ہے۔

اللہ پاک آپ کو مذکورہ بالا چیلنجز سے نمٹنے کیلئے طاقت اور اس عظیم مقصد کے حصول کیلئے قوتِ ارادی عطا فرمائے اور اس امت کی آنے والی نسلوں کے لئے آپ کو بہترین معیار بنائے۔