بل گیٹس اور حیاتیاتی دہشت گردی

952

اس سال کے آغاز میں مائیکرو سوفٹ کے شریک بانی بل گیٹس نے خبردار کیا تھا کہ اگلی وبا کچھ ایسی ہوسکتی ہے جسے ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ تجویز دی تھی کہ ہمیں اس وائرس کے پھوٹنے سے قبل تیاری کرلینی چاہیے کیوں کہ یہ جنگ ہمیں لڑنی ہوگی۔ اس سے قبل 2015ء میں بل گیٹس ایک اسٹیج شو میں کورونا وائرس کے موضوع پر بات کرنے کے لیے شو کے مہمان بنے۔ اس شو میں انہوں نے خبردار کیا کہ ’’اگلے چند عشروں میں کوئی چیز ایک کروڑ سے زیادہ لوگوں کو ہلاک کرتی ہے تو وہ جنگ نہیں بلکہ کوئی خطرناک وائرس ہوگا‘‘۔
اُس وقت ان کی اس بات پر لوگوں نے زیادہ توجہ نہیں دی لیکن حالیہ دنوں میں اس کی ویڈیو کو چھ کروڑ چالیس لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھا جاچکا ہے۔ لوگوں کی دلچسپی کی وجہ بل گیٹس سے محبت نہیں تھی بلکہ لوگ جاننا چاہتے تھے کہ اتنے برس پہلے بل گیٹس نے کیسے اس کے بارے میں پیش گوئی کی… یعنی انہیں کیسے پتا تھا کہ کوئی خطرناک وائرس آنے والا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ کا ادارہ صحت WHO اپنے اداروں کے تحت مختلف بیماریوں کے جراثیم ٹیسٹ کے لیے پیش کرتا ہے۔ ایڈز، ایبولا، زیکا، ملیریا، پولیو یہ ساری بیماریوں کے جراثیم وہاں تیار کیے گئے۔ ان بیماریوں کو پھیلانے والے مچھروں میں جینیاتی تبدیلی کرکے برازیل اور جزائر کیریبین میں چھوڑے گئے ان مچھروں کے کاٹنے سے زیکا وائرس ہی نہیں ڈینگی اور پیلا بخار بھی پھیلا۔ آج بھی یہ بیماریاں اپنی پوری شدت کے ساتھ آبادیوں پر حملہ آور ہیں۔ ان جراثیم کے لیے تحقیق کرنے کے لیے سب سے زیادہ فنڈ دینے والا ادارہ ملنڈا اور بل گیٹس فائونڈیشن ہی ہے۔ لہٰذا کورونا وائرس اور دیگر وبائی بیماریوں کے سلسلے میں بل گیٹس کو مورد الزام ٹھیرایا جارہا ہے۔ جی ہاں یہ ابھی الزام ہے۔ جرم قرار دینے کے لیے شواہد درکار ہوتے ہیں۔ اگرچہ اٹلی کی پارلیمنٹ کی رکن نے اپنی حکومت سے بل گیٹس کو گرفتار کرنے اور مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ بل گیٹس اپنے ایک انٹرویو میں ان باتوں پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں ’’ہم تو صرف پیسہ دے رہے ہیں… ہم تو صرف چیک لکھتے ہیں… اور اگر ویکسین بن جائے تو ہم چاہیں گے کہ دنیا کی 80 فی صد آبادی یہ استعمال کرے۔ ہاں اس بارے میں سوچتے ضرور ہیں کہ بچوں کو بیماری سے محفوظ کیسے رکھا جائے، لیکن اس کا مائیکرو چپ یا اس قسم کی کسی چیز سے لینا دینا نہیں ہے‘‘۔
بچوں کی صحت کے بارے میں بل گیٹس عالمی ادارہ صحت کے ساتھ مل کر مہم چلاسکتے ہیں۔ پولیو مہم کی طرح… پیلا بخار ڈینگی اور زیکا وائرس مچھر میں جینیاتی تبدیلی کے ذریعے پھیلائے گئے۔ برازیل میں اس کا شکار ہونے والی خواتین کے زیکا سے متاثر بچے پیدا ہوئے جن کے سر چھوٹے تھے اور وہ ایبنارمل تھے۔ زیکا وائرس اگرچہ 1947ء میں دریافت ہو چکا تھا… اور اس کے دریافت کرنے والے راک فیلر فائونڈیشن کے مالی تعاون سے تحقیقات کررہے تھے۔ یہ راک فیلر فائونڈیشن اقوام متحدہ کی جانب سے آبادی کو کم کرنے کے پروگرام کے لیے سب سے بڑی اسپانسر ہے۔ یہ بھی کیا ایک اتفاق ہے کہ برازیل اور کیریبین جزائر میں زیکا وائرس، پیلا بخار اور ڈینگی کے لیے مچھروں میں تحقیق اور جینیاتی تبدیلی کے لیے مالی امداد دینے والا ادارہ بھی ملنڈا اور بل گیٹس فائونڈیشن میں تھا۔ آج بل گیٹس اور ان کی اہلیہ کی فائونڈیشن پر خاصے الزامات عائد کیے جارہے ہیں جن میں کہا جارہا ہے کہ ان کی تنظیم نے افریقا اور انڈیا میں بچوں پر ویکسین کے تجربے کیے… جن کے نتیجے میں ہزاروں بچے مر گئے یا انہیں ایسے زخم آئے جو کبھی ٹھیک نہیں ہوئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کینیا میں ایسی ویکسین متعارف کروائی جس میں مانع حمل مواد شامل تھا۔ ویکسین اور مانع حمل ادویات کے ذریعے دنیا کی آبادی کو کم کرنے کا پروجیکٹ اقوام متحدہ کے عالمی ادارے صحت کے ذریعے چلایا گیا۔ جس کو سب سے زیادہ مالی امداد دینے والا بھی یہی ادارہ ہے۔
اس کے علاوہ بل گیٹس کے بارے میں یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وہ لوگوں کے جسم میں مائیکرو چپ لگوانا چاہتے ہیں۔ یہ اور اس جیسے الزامات پہلے بھی لگائے گئے ہیں۔ بل گیٹس سے پہلے جارج سورس، کوک برادران روتھ شیلڈ اور راک فیلرز وغیرہ پر بھی یہ الزام ہے مگر کبھی ان الزامات کے جوابات نہیں دیے گئے۔ بس یہ ہی کہا گیا کہ امیر اور مشہور لوگوں کے خلاف اس طرح کی باتیں کی ہی جاتی ہیں۔ البتہ یہ بات بالکل ٹھیک ہے کہ بل اینڈ ملنڈا گیٹس فائونڈیشن نے اس تحقیق کے لیے بھی مالی معاونت کی کہ کیا یہ ممکن ہے کہ کسی شخص کو ایک مائیکرو چپ لگائی جائے جس میں اُس کو دی جانے والی ویکسین کی تفصیل درج ہو۔ یہ مائیکرو چپ جلد کے اندر ڈالی جائے اور وہ باہر سے نظر نہ آئے۔ بھلا بتائیے کہ جس تفصیل کو ویکسین کارڈ میں درج کیا جاسکتا ہے اور کیا جاتا ہے اُسے مائیکرو چپ کے ذریعے جسم کے اندر داخل کیوں کیا جائے۔ اور بھاری فنڈ کے ذریعے اس پر تحقیق کیوں کی جائے؟؟
کچھ لوگ اس بارے میں مطالبہ کررہے ہیں کہ تحقیق کی جائے کہ کورونا انسانی تخلیق ہے یا وبا؟ لیکن مطالبہ بھی بل گیٹس سے کیا جارہا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری پر زور دیں کہ وہ کورونا پر تحقیقاتی کمیشن بنائے یہ تو گویا ملزم کو منصف بنانے کی بات ہوئی۔ بھلا وہ جو خود ملوث نظر آرہے ہیں کیسے شفاف تحقیق کرسکتے ہیں؟ تحقیق تو ہونی چاہیے… لیکن جن پر شک ہے ان کے ذریعے نہیں… غیر جانب دار کمیشن بنانا چاہیے جو یہ معلوم کرے کہ کورونا وائرس قدرتی ہے یا ایسے بطور حیاتیاتی ہتھیار کے تیار کیا گیا۔ کووڈ 19 کے مطابق قیاس آرائیاں اور متنازع نظریات جنم لے چکے ہیں۔ دنیا بھر میں خوف و ہراس کی فضا ہے۔ ایسے میں بل گیٹس 2015ء کی طرح پھر خبردار کررہے ہیں کہ کورونا کے بعد آنے والی وبائیں کہیں زیادہ ہلاکت خیز ہوسکتی ہیں۔ بل گیٹس کورونا کو قدرتی وبا قرار دیتے ہیں۔ حالاں کہ اس بارے میں دنیا کی متفقہ رائے ہے کہ یہ انجینئرڈ ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے کورونا سے اموات کی شرح کم ہے۔ البتہ اگلی وبائیں قدرتی کے ساتھ حیاتیاتی دہشت گردی سے بھی آسکتی ہیں۔ پانچ سال پہلے بھی بل گیٹس نے کورونا وائرس کی پیش گوئی کی تھی اور بار بار حیاتیاتی دہشت گردی کے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ جو کہ ہوئی… لہٰذا اب اس سے پہلے کہ کوئی اور ایسی خطرناک وبا پھیلے ایک غیر جانب دار کمیشن کے ذریعے اس سارے معاملے کی تحقیق ہونی چاہیے۔