لرزتا ہوا سرمایہ دارانہ نظام

635

پچھلے پچاس برسوں میں امریکا میںایک ساتھ، اتنے شہروں میں، اتنی بڑی تعداد میں،ایسے پر تشدد ہنگا مے، دیکھنے میں نہیں آئے۔ امریکا میں ہرسطح پر ہونے والی نا انصافی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ ان ہنگاموں کو تیونس میں بو عزیزی کی خود سوزی کے واقعے کی مثل کہا جا سکتا ہے جس نے عرب بہار کی صورت بے شمار نا انصافیوں کے خلاف ابلتے ہوئے غصے کے لیے راستہ کھول دیا تھا ۔امریکا میں اس قسم کے ہنگامے محدود سطح تک محض سفید اور سیاہ فام امریکنوں تک جھڑپوں اور نفرت کے واقعات تک محدود رہتے تھے۔اس کی بڑی وجہ سیاہ فاموں کے ساتھ پو یس کا متعصبانہ کردار رہا ہے جو کہ کسی ایک علاقے یا شہر تک محدود نہیں تھا بلکہ پورے امریکا میں پو لیس سیاہ فا موں کے ساتھ ناروا سلوک کرنے میں بدنا م تھی ۔تقریبا 75فیصد پولیس کیسز میں سیاہ فاموں کے خلاف پو یس کے ظلم وجبر کے مظاہر سامنے آتے رہے ہیں ۔حالیہ کیس میں جارج فلا ئیڈ فریاد کرتا رہا کہ میں بے گناہ ہوں ،میرے پاس ہتھیار ہیں اور نہ ہی میں نے کسی جرم کا ارتکاب کیا ہے ۔میرا سانس گھٹ رہا ہے لیکن اس کے باوجود پو لیس والے نے اپنا گھٹنا اس کی گردن پر سے نہیں ہٹایا یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوگیا۔پہلے اس طرح کے مظالم کے خلاف علاقائی سطح پر محدود احتجاج ہوتا تھا۔ جب سے سوشل میڈیا آیا ہے اس طرح کے مظالم وائرل ہونے لگے ہیں۔ ہنگامے ملک گیر وسعت اختیار کر لیتے ہیں۔حالیہ ہنگامے اب محض سیاہ فاموں کی لڑائی نہیں رہی ۔یہ امریکا کے پچاس ساٹھ شہروں تک بھی محدود نہیں رہے ۔یہ بر طانیہ میں بھی ہورہے ہیں ،جرمنی اور فرانس میں بھی ہورہے ہیں۔یہ ہنگامے امریکا ،امریکی صدر ٹرمپ اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف ایک عالمی تحریک کی صورت اختیار کرتے چلے جارہے ہیں۔اس تحریک میں ہر طرح کے لوگ شامل ہیں ۔نوجوان طبقہ ہے ،بوڑھے ہیں،خواتین ہیں ،سفید فام ہیں ،ہسپانوی ہیں۔ جو لوگ ماحو ل دشمن رویوں کے خلاف احتجاج کرتے تھے وہ بھی اس تحریک میں شامل ہوگئے ہیں،جولو گ صحت کی سہو لیات کی عدم دستیابی کے خلاف نعرے لگاتے تھے وہ بھی آگئے ہیںجو ٹرمپ کے خلاف تھے وہ بھی شامل ہوگئے ہیں ۔اس قسم کے ہنگاموں میں پہلے سیاہ فاموں کے علاقوں میں تھوڑی بہت لوٹ مار ہوجاتی تھی اب سرمایہ دارانہ نظام کی علامت ایک ایک بڑے اسٹور کو لوٹا جا رہا ہے۔
امریکا میں ہر حکومت سیاہ فاموں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتی رہی ہے ۔ امریکا میں اگر کوئی طبقہ بدترین غربت ،افلاس اور معاشی بد حالی کا شکار ہے تو وہ سیاہ فام ہیں ۔سیاہ فاموں کے لیے روزگارکے مواقع کم ہیں ،تعلیمی اعتبار سے بھی وہ بہت پیچھے ہیں،ان کے علاقوں میں امن وامان کی صورتحال بھی عموماخراب ہی رہتی ہے ۔امریکا میں بظاہر غلامی کا خاتمہ کردیا گیا لیکن تھوڑے تھوڑے عرصے کے بعد ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جو احساس دلاتے ہیں کہ آج بھی سیاہ فاموں کو غلام ہی سمجھا جاتا ہے ۔پو لیس کا سیاہ فاموں کے ساتھ سلوک اس ماحول کو بدترین صورت حال سے دوچار کردیتا ہے ۔
صدر ٹرمپ کی آمد کے بعدسیاہ فاموں کے ساتھ متعصبانہ سلوک میں اضافہ ہوا ہے ۔صدر ٹرمپ امریکا میںسفید فام اکثریت کے نمائندے تصور کیے جاتے ہیں۔اس طرح کے واقعات میں
صدر ٹرمپ کی ہمدردی پو لیس اور سفید فام اکثریت کے ساتھ ہوتی ہے ۔سیاہ فاموں کو وہ بر ملا جرائم پیشہ اور بدمعاش کہتے نظر آتے ہیں ۔جارج فلائیڈ کی المناک موت پر تعزیت کرنے کے بجائے انھوں نے کہا جارج کوئی اچھا آدمی نہیں تھا۔امریکا میں سیاہ فام اور انصاف پسندلبرل سفید فام بھی صدر ٹرمپ کو پسند نہیں کرتے ۔خواتین کی اکثریت پہلے ہی صدر ٹرمپ کو نا پسند کرتی ہے اپنے عمومی رویوں سے وہ جس طرح مردانہ برتری کا اظہار کرتے ہیں امریکی خواتین کے لئے وہ کچھ پسندیدہ نہیں ہے۔ری پبلکن پارٹی بھی ان کی حرکتوں سے نا خوش ہے ۔ان کی شہرت کا گراف ویسے ہی نیچے کی طرف جارہا تھا حالیہ ہنگا موں نے اس گراف کو پست ترین سطح پر پہنچادیا ہے ۔
ینٹاگون سے جاری ہونے والے غیرمعمولی احکامات میں متعدد اڈوں پر ملٹری پولیس اور فوجی دستوں کو ہوشیار رہنے کا کہا گیا۔ شمالی کیرولائنا کے فورٹ براگ اور نیویارک کے فورٹ ڈرم کے سپاہیوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ان کو بلایا جائے تو چار گھنٹے کے اندر اندر تعیناتی کے لیے خود کو تیار رکھیں۔ ان افواج کو 1807ء کے بغاوت کے قانون کے مطابق استعمال کیا جائے گا، جو صدر کو اختیار دیتا ہے کہ ’’کسی بھی بغاوت، کسی ریاست میں تشدد قابو سے باہر ہو جانے، غیر قانونی اجتماع، یا سازش‘‘ سے نمٹنے کے لیے وفاقی فوجی دستوں کو کسی بھی ریاست میں تعینات کیا جا سکتا ہے۔ آخری دفعہ اس قانون کو 1992ء میں عوامی مزاحمت کو دبانے کے لیے نافذ کیا گیا تھا جب لاس اینجلس میں روڈنی کنگ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد پولیس کو بری کر دیا گیا تھا۔امریکا جیسے ملک میں جہاں ہر شخص کے پاس اسلحہ ہے تصور کیجیے اگر لوگوں نے فوجی دستوں پر فا ئر کھول دیا تو ؟
کورونا کی وبا نے امریکی سرمایہ دارانہ نظام کا پول جس طرح کھولا ہے اس کے بعد اس نظام کے دفاع میں کہنے کے لیے کسی کے پاس کچھ بھی نہیں رہا۔ابتدا میں صدر ٹرمپ نے وبا کو اہمیت نہیں دی ۔حکمران طبقہ عوام کی صحت کی بجائے ہر قیمت پر پیداوار کو جاری رکھنا چا ہتاتھا۔ان کا اولین مقصد انسانی جا نوں کی بجائے بینکوں اور بڑی بڑی اجارہ داریوں کے سرمائے کا تحفظ کرنا تھا۔امریکی سرمایہ دارانہ نظام کورونا متاثرین کو انصاف اور برابری کی بنیاد پر علاج معالجے کی سہو لیات دینے میں نا کام رہا ہے ۔امریکامیں کورونا کی وجہ سے جو اموات ہوئی ہیں ان میں سے ساٹھ سے ستر فیصد غریب لوگ ہیں جن میں اکثریت سیاہ فا موں کی ہے ۔کورونا نے سب سے زیادہ سیاہ فا موں کو متاثر کیا ہے یا ہسپا نویوں کو۔یہی وجہ ہے کہ سیاہ فاموں میں دن بدن حکومت اور اس نظام کے خلاف غصہ جنونی شکل اختیار کرتا جارہا ہے ۔سیاہ فاموں میں یہ خیال پختہ تر ہوگیا ہے کہ کورونا کی وبا میں حکومت نے انھیں بے یارومددگار چھوڑ دیا ہے۔ حکومت نے غربت کے خاتمے کے لیے جو ریلیف پیکج اعلان کیے تھے ان میں سے سیاہ فاموں کے حصے میں کچھ نہیں آیا۔سیاہ فاموں میںبے روزگاری بے حدوحساب ہے ،غربت بھی بہت زیادہ ہے ،حکومت کے خلاف غصہ بھی بہت زیادہ ہے ۔کورونا نے ان عوامل کو بڑی بے دردی سے ننگا کردیا ۔سیاہ فاموں میں یہ احساس شدت اختیار کرتا چلا گیا کہ اس نظام میں ان کے لیے کچھ نہیں۔وہ ایک فیصدسرمایہ دار جن کے پاس امریکی دولت کا چا لیس فیصد ہے ان ہنگاموں میں ان کا کردار بھی مو ضوع بحث ہے ۔2008میں جب امریکی بینک دیوالیہ ہوئے تھے تو امریکی حکومت نے کھربوں ڈالرزانھیں سہارا دینے کے لیے خرچ کردیے تھے لیکن کورونا کے سیاہ فام متاثرین کے لیے وہ کچھ بھی خرچ کرنے کوتیار نہیں۔کروڑوں امریکی بے روزگار ہیں کورونا کی وبا نے انھیں بدترین صورت حال سے دوچار کردیا ۔ان ہنگاموں نے گلو بلائزیشن اور سرمایہ داریت کے سفینے میں آگ لگادی ہے ۔آج ہر جگہ مغرب میں یہ سوال گردش کررہا ہے کہ دولت کی تقسیم اتنی غیر منصفانہ کیوں ہے ۔سرمایہ دارانہ نظام انسانیت کا قاتل بن چکا ہے ۔