میاں نواز شریف اور ایٹمی دھماکے

1917

میاں نواز شریف کو پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور ایٹمی دھماکوں کے ساتھ وابستہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی چیونٹی اعلان کرتی پھرے کہ اس نے ہاتھی کے ساتھ نکاح کرلیا ہے۔ میاں نواز شریف اور ایٹمی پروگرام؟ میاں نواز شریف اور ایٹمی دھماکے؟ اقبال کا شعر کہاں یاد آیا۔
کافر کی موت سے بھی لرزتا ہو جس کا دل
کہتا ہے کون اسے کہ مسلماں کی موت مر
مگر ان حقائق کے باوجود بعض کالم نگار میاں نواز شریف اور ایٹمی دھماکوں کو باہم منسلک کرنے پر بضد ہیں۔ حامد میر نے اس حوالے سے ایک پورا کالم لکھ مارا ہے۔ خورشید ندیم نے بھی اس موضوع پر پورا کالم ضائع فرما دیا ہے۔ اس سلسلے میں رئوف طاہر نے بھی کالم لکھنا ’’ضروری‘‘ سمجھا۔ عامر خاکوانی نے اپنے کالم میں باقاعدہ استدعا کی کہ میاں نواز شریف کو ایٹمی دھمکاکوں کا ’’کریڈٹ‘‘ دے دیا جائے۔ بدقسمتی سے ان میں سے کوئی ایک کالم نگار بھی یہ ثابت نہیں کرسکا کہ پاکستان کے ایٹمی دھماکے واقعتاً میاں نواز شریف نے کرائے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کے ایٹمی بم کے خالق ہیں اور وہ روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والے اپنے ایک کالم میں کہہ چکے ہیں کہ میاں نواز شریف ایٹمی دھماکوں کے حق میں نہیں تھے۔ اس سلسلے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا ایک کالم یکم جون 2020ء کے روزنامہ جنگ میں شائع ہوا ہے۔ اس کالم میں ڈاکٹر قدیر نے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے کھل کر ذوالفقار علی بھٹو کو سراہا ہے۔ انہوں نے دل سے جنرل ضیا الحق کی تعریف کی ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اس سلسلے میں سابق صدر غلام اسحق خان کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے۔ مگر ڈاکٹر صاحب کے طویل کالم میں کہیں ایک فقرہ بھی میاں نواز شریف سے متعلق نہیں ہے۔ اور کچھ نہیں تو ڈاکٹر صاحب یہی لکھ دیتے کہ میاں نواز شریف نے بہرحال ایٹمی دھماکوں کی راہ ہموار کی۔
حامد میر کے کالم میں ایٹمی دھماکوں کے حوالے سے بیک وقت تین بیانات موجود ہیں جو انہی کے الفاظ میں یہ ہیں۔
(1) ’’پاکستان نے ایٹمی دھماکا کیا تو وزیراعظم نواز شریف تھے اور تاریخ میں یہی لکھا جائے گا کہ پاکستان نواز دور میں ایٹمی قوت بنا‘‘۔
(2) ’’ایٹمی دھماکے کا کریڈٹ پاکستان میں جمہوریت کو جاتا ہے۔ عوام کی منتخب جمہوری حکومت نے عوامی دبائو پر دھماکوں کا فیصلہ کیا‘‘۔
(3) ’’دھماکوں کا فیصلہ کسی ایک فرد کا نہیں پوری قوم کا تھا اور قوم کی ترجمانی میں اہم ترین کردار مجید نظامی کا تھا جنہوں نے نواز شریف سے کہا تھا آپ نے دھماکا نہ کیا تو عوام آپ کا دھماکا کردیں گے‘‘۔
(روزنامہ جنگ۔ یکم جون 2020)
حامد میر کے کالم کے یہ بھیانک تضادات ہمیں کیا بتارہے ہیں، حامد میر کہہ رہے ہیں کہ دھماکے میاں صاحب کے دور میں ہوئے۔ دوسرے بیان میں ان کا ارشاد ہے کہ دھماکوں کا کریڈٹ جمہوریت کو جاتا ہے۔ تیسرے بیان میں وہ فرما رہے ہیں کہ دھماکے کسی ایک فرد نے نہیں پوری قوم نے کیے۔ اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہے کہ دھماکے میاں نواز شریف کے دور میں ضرور ہوئے مگر نواز شریف کی ذات کا ان دھماکوں سے کوئی تعلق نہ تھا۔ ہوتا تو حامد میر ایک فقرے میں یہ کہتے کہ دھماکے صرف اور صرف میاں صاحب نے کرائے۔ بالکل اسی طرح جیسے پاکستان کا ہر کالم نگار ہمیشہ لکھتا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی صرف اور صرف ذوالفقار علی بھٹو ہیں۔ ایٹمی پروگرام کے حوالے سے کوئی یہ نہیں کہتا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام جمہوریت نے شروع کرایا۔ ایٹمی پروگرام کے بارے میں آج تک کسی نے یہ نہیں کہا کہ ایٹمی پروگرام کے آغاز کی ذمے دار پوری قوم ہے۔ مگر حامد میر کا ذہنی انتشار ان سے کبھی کچھ کہلواتا ہے کبھی کچھ اور وہ بھی ایک ہی کالم میں ایک ہی تحریر میں۔ کاش حامد میرکہتے کہ ایٹمی دھماکے میاں نواز شریف کے عہد میں ہوئے ضرور مگر میاں نواز شریف کا ان سے کوئی براہ راست تعلق نہ تھا۔ لیکن اب ہم زیر بحث مسئلے کو وسیع تناظر میں رکھ کر دیکھتے ہیں۔
انسان اپنی آرزوئوں اور تمنائوں سے پہچانا جاتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی انا اتنی بڑی تھی کہ اس کے لیے پاکستان بھی کم پڑتا تھا۔ وہ پوری مسلم دنیا یہاں تک کے پورے ایشیا کا قائد بننے کا خواب دیکھتے تھے۔ چناں چہ انہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی۔ ان کا خیال تھا کہ پاکستان کے ایٹم بم اور عربوں کے پیٹرو ڈالر کو ملالیا جائے تو کوئی انہیں عظیم رہنما بن کر ابھرنے سے نہیں روک سکتا۔ میاں نواز شریف کا مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بڑی خواہش، بڑی آرزو اور کوئی بڑی تمنا انہیں کبھی لاحق ہی نہیں ہوئی۔ ان کا نعرہ ایک فقرے میں یہ ہے۔
بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست
اس فقرے کا آسان اردو میں ترجمہ ہے۔ کھائو پیو مزے اُڑائو۔ چناں چہ میاں صاحب کا ذکر جب بھی ہوتا ہے سری پائے، بریانی، لسی، کرکٹ، بھارتی فلموں اور بھارتی گیتوں کے حوالے سے ہوتا ہے۔ میاں صاحب کی زندگی میں ایک ہی چیز بڑی ہے۔ کرپشن۔ چناں چہ میاں صاحب کو کبھی ایٹمی پروگرام میں دلچسپی لیتے نہ دیکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے بھی کوئی دلچسپی نہ تھی۔ ان کا کبھی کوئی بڑا ’’علاقائی ہدف‘‘ نہیں تھا۔ بھٹو صاحب کہا کرتے تھے ہم گھاس کھائیں گے مگر ایٹم بم بنائیں گے۔ وہ کہتے تھے ہمیں بھارت سے ایک ہزار سال بھی جنگ کرنی پڑی تو کریں گے۔ میاں صاحب کی زبان مبارک سے گزشتہ چالیس برسوں میں اس طرح کا ایک بیان بھی سامنے نہ آسکا۔
آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے سابق سربراہ جنرل اسد درانی نے اپنی تصنیف ’’اسپائی کرونیکلز‘‘ میں صاف لکھا ہے کہ میاں نواز شریف کے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ راجا امریندر سنگھ کے ساتھ پاکستانی پنجاب اور بھارتی پنجاب کو ایک کرنے کے منصوبے پر مذاکرات کررہے تھے۔ سادہ الفاظ میں بات کی جائے تو میاں شہباز شریف گریٹر پاکستان کے بجائے ’’گریٹر پنجاب‘‘ کے منصوبے پر گفت و شنید فرما رہے تھے۔ سوال یہ ہے کہ جو خاندان پاکستان میں رہ کر ’’گریٹر پنجاب‘‘ کی سیاست کررہا ہو اس خاندان کو اس بات سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے کہ پاکستان ایٹمی قوت بنتا ہے یا نہیں؟ بلکہ یہ خاندان تو چاہے گا کہ پاکستان کبھی ایٹمی دھماکے نہ کرے کیوں کہ ایٹمی دھماکوں اور ایٹمی قوت سے ایک ایسی ’’قومی سوچ‘‘ جنم لے سکتی ہے جو گریٹر پنجاب کے منصوبے کو زیر و زبر کردے۔
میاں نواز شریف کی شخصیت اتنی زیادہ ’’بھارت مرکز‘‘ بن کر اُبھری ہے کہ آدمی ششدر رہ جاتا ہے۔ بھارت میں کوئی شخصیت اتنی ’’پاکستان مرکز‘‘ ہوتی جتنے میاں صاحب ’’بھارت مرکز‘‘ ہیں تو بھارتی اس کی تکّا بوٹی کردیتے۔ مگر میاں صاحب تو ان کے عاشق خورشید ندیم کے بقول پنجاب کی ’’عصبیت‘‘ کی علامت ہیں اس لیے ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ لیکن یہاں کہنے کی اصل بات یہ نہیں ہے۔ یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ میاں نواز شریف اتنے ’’بھارت مرکز‘‘ ہیں کہ وہ بھارتی وزیراعظم اندر کمار گجرال کے عاشق تھے۔ وہ بھارتی وزیراعظم واجپائی کے عاشق تھے۔ وہ بھارتی وزیر اعظم مودی کے عاشق ہیں۔ چناں چہ مودی وزیراعظم بنے تو میاں صاحب ان کی تقریب حلف برداری میں مودی کے درباری کی حیثیت سے حاضر ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ اتنی بھارت نواز شخصیت کیا کبھی دل سے چاہ سکتی ہے کہ پاکستان ایٹمی دھماکے کرکے بھارت کے سینے پر مونگ دلے؟۔
عام پاکستانیوں کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ بھارت نے 11 مئی 1998ء کو پانچ ایٹمی دھماکے کیے تھے۔ میاں نواز شریف جوابی دھماکوں پر آمادہ ہوتے تو پاکستان کے سائنس دان پانچ سے چھ دن کے اندر جوابی دھماکے کرسکتے تھے مگر پاکستان نے 28 مئی 1998ء کو چھ دھماکے کیے۔ یعنی پاکستان نے بھارتی دھماکوں کے 16 دن بعد دھماکے کیے۔ اس تاخیر کی صرف ایک وجہ تھی اور وہ یہ کہ میاں نواز شریف دھماکوں پر آمادہ نہ تھے۔ طمانچے کے جواب میں طمانچہ فوراً مارا جاتا ہے۔ اس کے لیے 16 دن انتظار نہیں کیا جاتا اور جس طمانچے کے لیے 16 دن انتظار کیا جائے وہ ’’آزادی‘‘ کی نہیں ’’مجبوری‘‘ کی علامت ہوتا ہے اور ’’مجبوری‘‘ کا ’’جشن‘‘ نہیں منایا جاتا۔ اس پر ’’فخر‘‘ نہیں کیا جاتا۔ ایٹمی دھماکوں اور میاں صاحب کے تعلق سے اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا میاں صاحب اتنے طاقت ور تھے کہ وہ چاہتے تو ایٹمی دھماکوں کو ہونے سے روک لیتے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جو شخصیت تین بار اپنی وزارت عظمیٰ نہ بچا سکا ہو وہ ایٹمی دھماکوں کو ہونے سے کیونکر روک سکتا تھا۔
گزشتہ دو تین سال میں میاں نواز شریف اور ان کے صحافتی کیمپ نے یہ بیانیہ عام کیا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ ایک عذاب ہے۔ وہ ہر چیز پر قابض ہے۔ وہ نہ سیاست دانوں کو اقتدار میں رہنے دیتی ہے نہ انتخابات کو منصفانہ ہونے دیتی ہے۔ یہاں تک کہ جنرل پرویز نے میاں نواز شریف کو وزیراعظم کی حیثیت سے اعتماد میں لیے بغیر کارگل میں چڑھائی کردی۔ سوال یہ ہے کہ اتنی طاقت ور اسٹیبلشمنٹ کیا ایٹمی دھماکوں کے حوالے سے خود فیصلے نہیں کررہی ہوگی؟ کررہی ہوگی تو پھر میاں نواز شریف کے سر پر ایٹمی دھماکوں کا تاج کیونکر سجایا جاسکتا ہے؟ ایٹمی دھماکے اتنے اہم تھے اور ان پر ایسا عوامی اصرار تھا کہ اگر ایٹمی دھماکے نہ ہوتے تو قوم میاں صاحب کیا اسٹیبلشمنٹ کا بھی دھماکا کردیتی۔ اسٹیبلشمنٹ ایسے ممکنات کو کسی سے بھی زیادہ بہتر انداز میں سمجھتی ہے۔