دورہ امریکا‘ ٹریفک پولیس نظر نہیں آئی

370

سید محمد اشتیاق
بھانجے کو کالج پہنچانے کے لیے نکلے تو گھر کے قریبی سگنل پر پولیس کی گاڑیاں کھڑی دیکھیں اور وہ گاڑیاں بھی جو پولیس نے روکی ہوئیں تھیں۔ ایک امریکن ایفرو لڑکا پولیس کی ہدایت پر دونوں ہاتھ سر پر رکھے الٹے قدموں پولیس والوں کی جانب بڑھ رہا تھا۔ اتنی دیر میں سگنل کھل گیا اور ہم اپنی منزل کی طرف گامزن ہوگئے۔ واپسی پر بھی پولیس موجود تھی اور اب دو امریکن ایفرو خوش لباس لڑکے سڑک پر پیٹ کے بل لیٹے ہوئے تھے۔ اور ایک کم عمر گوری لڑکی فٹ پاتھ پر بیٹھی ہوئی تھی اور پولیس والے اس سے پوچھ گچھ میں مصروف تھے۔ یہ منظر بھی بالکل فلمی تھا۔ لیکن نہ وہاں شہریوں کا ہجوم تھا اور نہ راہ گیروں کو کوئی فکر تھی کہ کیا ہو رہا ہے اور نہ لوگ گاڑیاں روک روک کر صورت حال کا جائزہ لے رہے تھے۔ ہم نے بھی وہی رویہ اپنایا اور وقوعے کو نظر انداز کرتے ہوئے، گھر کی طرف چل پڑے۔
ٹریفک پولیس کا کوئی اہل کار نظر نہیں آیا۔ شہری ٹریفک قوانین کے پابند ہیں۔ نہ گاڑیاں دھواں اڑاتی پھرتی ہیں اور نہ غلط اور ڈبل پارکنگ کا کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے اور نہ ہی پولیس اہل کار سڑکوں پر یا گاڑیوں پر گشت کرتے نظر آئے۔ ایک دفعہ جب جواد (بھانجے) کو کالج لینے جا رہے تھے، تو ٹریفک حادثہ دیکھا۔ ٹکرانے والی گاڑیوں کے ڈرائیور نہ لڑے اور نہ جھگڑے۔ گاڑیاں سائیڈ پر کھڑی کر لیں۔ واپسی پر دیکھا، تو پولیس آفیسر سڑک پر سے شیشے کے ٹکڑے صاف کر رہا تھا۔ ایک دفعہ جواد نے پروگرام بنایا کہ کالج سے واپسی پر جس بس سے میں گھر کی طرف آئوں گا۔ اس کی آمد کا وقت آپ کو بتا دوں گا، آپ بھی بس میں سوار ہو جائیے گا اور پھر مارکیٹ پلیس چلیں گے۔ مقرر وقت پر بس آئی اور ہم بس میں سوار ہو گئے۔ مارکیٹ پلیس میں ایک چھت تلے کئی مشہور برانڈز کی اور متفرق دکانیں ہوتی ہیں۔ قرب و جوار کے ہر ٹائون میں بھی مارکیٹ پلیس ہوتا ہے۔ مارکیٹ پلیس کے ارد گرد بھی بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹورز ہوتے ہیں۔ بس اسٹاپ پر رکی، تو کچھ اسپیشل طالب علم بچے بس میں سوار ہوئے اور ایک خوب صورت خاتون استاد بھی۔ ذہنی طور پر کمزور بچے الٹی سیدھی حرکات میں مشغول تھے۔ لیکن کسی مسافر نے ان کی حرکات و سکنات کا نوٹس نہیں لیا۔ کچھ بچے مسافروں سے باتوں میں بھی مشغول ہوئے۔ ہر مسافر نے صبر و تحمل کے ساتھ وقت بتایا۔ مسافروں کی اکثریت مارکیٹ پلیس پر اتر گئی۔
مارکیٹ میں گھومے پھرے۔ اشیاء کی قیمتوں کا جائزہ لیا۔ مارکیٹ میں بھارت سے تعلق رکھنے والی گجراتی کاروباری شخصیت سے ملاقات ہوئی۔ ان کو ہر ملک کی کرنسی جمع کرنے کا شوق ہے۔ انہوں نے پاکستانی کرنسی کا تقاضا کیا، جو موجود تھی، ڈالروں کے عوض ان کے ہاتھ میں تھمائی اور آئس کریم کھانے پہنچ گئے۔ ایک اسکوپ دو ڈالر کا تھا اور جیسے جیسے اسکوپ کی تعداد بڑھائیں گے، قیمت فی اسکوپ کم ہوتی جائے گی۔ اسکوپ کا سائز پاکستانی اسکوپ سے بڑا ہوتا ہے۔ میری طبیعت تو دو اسکوپ کے بعد ہی سیر ہو گئی۔ چونکہ آئس کریم خالص دودھ اور کریم سے تیار شدہ تھی۔ پاکستان میں دستیاب آئس کریم کی طرح پھسپھسی نہ تھی کہ منہ میں چمچہ رکھا اور آئس کریم کوئی بہتر ذائقہ مرتب کیے بغیر چھو منتر۔ واپسی کے لیے بس کی آمد کا وقت پہلے دیکھ چکے تھے۔ مقرر وقت پر بس آ پہنچی۔ بس میں سوار ہوئے، تو وہی خاتون استاد بھی بس میں سوار ہوئیں، پہلے ہمارے پہلو میں بیٹھنے کا ارادہ کیا لیکن ہچکچاتی اور شرماتی ہوئیں، دوسری نشست پر جہاں ان کا ایک جاننے والا معمر شخص بیٹھا تھا، اس کے برابر میں جا بیٹھیں اور تھوڑی دیر بعد اپنی دن بھر کی مصروفیات اور شوہر کے بارے میں گفتگو کرنے لگیں۔
امریکی کسی کی نجی زندگی میں مداخلت سے حتی الامکان گریز کرتے ہیں۔ کس نے کیا پہنا ہے، کیا کہہ رہا یا کیسے کھا پی رہا ہے۔ کسی کو کسی سے کوئی غرض نہیں لیکن جب آپ کسی سے بات کریں یا راستہ پوچھیں تو ہر کوئی خوش دلی سے مدد کو تیار۔ لڑکیاں بچیاں مزے سے ٹک ٹاک بناتی پھرتی ہیں اور شہری زیادہ سے زیادہ ان کو دیکھ کر مسکرا دیتے ہیں۔ سلمان بھائی گاڑی کا چیک اپ اور آئل تبدیل کروانے گئے، تو پہلے ورکشاپ کے عملے نے گاڑی کا معائنہ کیا۔ کام اور اس کا معاوضہ بتایا اور حتمی بل بنانے سے قبل ایک دفعہ پھر بل دکھایا اور منظوری کے بعد کام شروع کیا۔ ہر کام انتہائی پروفیشنل انداز میں کیا جاتا ہے۔ جگاڑی کام کا تصور نہیں۔ ورکشاپ میں کسٹمرز کے لیے خود کار کافی بنانے کی مشین بھی نصب تھی۔ بینکوں میں بھی کسٹمرز کی تواضع کے لیے ٹافیوں، سوئٹس اور کافی کا انتظام ہوتا ہے۔
ون ڈالر شاپ دیکھنے کا بڑا اشتیاق تھا دو دکانوں پر گئے، وہاں ون ڈالر کی اشیاء تو تھیں، لیکن ورائٹی کم اور قیمتیں غیر مناسب تھیں، زیادہ تر اشیاء ون ڈالر سے زائد قیمت کی تھیں، اس لیے کوئی خریداری نہیں کی۔ شو کارنیوال کی ارزاں قیمتوں کا بڑا چرچا سنا تھا۔ وہاں بھی گئے، وہاں دو جوڑی جوتے یا چپل خریدو، تو ایک مفت تھا اور قیمتیں وال مارٹ سے زائد تھیں، اس لیے بس دیکھا کیے۔ شو کارنیوال کے قریب ہی ایک جگہ دیکھی، جہاں شہری اپنی پرانی اشیاء، کپڑے لتے دکان کے باہر رکھ کر چلے جاتے ہیں۔ دکان کا عملہ خوش دلی سے سارا سامان وصول کرتا ہے اور گودام میں جمع کروا دیتا ہے۔ اس دکان کے اندر گئے، تو پرانے کپڑے، فرنیچر، الیکٹرونک آئٹمز اور پینٹنگز وغیرہ نہایت ارزاں قیمت پر دستیاب تھیں۔ اور دکان کی دوسرے حصے میں سبزیاں، پھل اور اجناس اور دیگر گھریلو اشیاء فروخت کی جا رہی تھیں۔ پرانی اور نئی اشیاء بیچ کر منافع کی رقم سے مستحقین کی مدد کی جاتی ہے۔