“اسرائیل فلسطین کے مقبوضہ علاقے خالی کرے”

557

ریاض : اسلامی  تعاون تنظیم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ  سن 1967 کی جنگ میں اسرائیل کے قبضے میں آنے والے علاقوں پر صہیونی ریاست کو اپنی خود مختاری قائم کرنے کا کوئی حق نہیں، یہ تمام عرب علاقے فلسطینی ریاست کا حصہ ہیں اور عالم اسلام اور عالمی برادری ان پر فلسطین کی خود مختاری کو تسلیم کرتی ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق او آئی سی نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں استعماری منصوبے آگے بڑھانے کے تمام خطرناک نتائج کی ذمہ داری اسرایئل پرعائد کرتے ہوئے کہا کہ غرب اردن کے کچھ علاقوں کو صہیونی ریاست کا حصہ قرار دینے کے سنگین مضمرات سامنے آئیں گے اور ان کی تمام تر ذمہ داری اسرائیل پرعائد ہوگی ، فلسطینی اراضی ہتھیانے کے اسرائیلی منصوبے کو روکنے کیلئے  تمام وسائل،سیاسی اور قانونی کوششیں بروئے کار لائی جائیں گی۔

مزید پڑھئیے: مغربی کنارے پر قبضہ،اسرئیل سنگین نتائج بھگتے گا

عرب میڈیا نے دوعویٰ کیا ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کا ورچویل اجلاس ہوا جس میں غرب اردن کے علاقوں پر اسرائیلی ریاست کی خود مختاری کے اقدامات اور اس کے مضمرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں دو ٹوک الفاظ میں  موقف اپنایا کہ غرب اردن پر اسرائیلی ریاست کے غاصبانہ اور توسیع پسندانہ قبضے کا کوئی جواز نہیں۔ اسرائیل کے استعماری منصوبوں سے سنہ 1967ء کی حدود میں فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کو شدید نقصان پہنچے گا۔

واضح رہے کہ اسرائیل مغربی کنارے(غرب اردن) میں فلسطینیوں کی سرزمین پر بسائی گئی یہودی آباد کاروں کی بستیاں اور وادیِ اردن کو ریاست میں ضم کرنا چاہتا ہے۔اسرائیل کو امریکا کی جانب سے “ڈیل آف دی سنچری”کےباعث شہ ملی  جس میں مذکورہ علاقوں پر اسرائیلی قبضے کی تائید کی گئی ہے۔

مزید پڑھئیے: اسرائیل کاجولائی تک غرب اردن پر قبضے کا منصوبہ

دوسری جانب او آئی سی کے اجلاس میں فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے کہا کہ اسرائیل کے یہودی آبادکاری کے منصوبے کا مقصد آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے لیکن ہم “عرب امن اقدام” سے دستبردارنہیں ہوں گے۔