سائیٹ صنعتی ایریا کی بلند عمارت پر مشتمل فیکٹری میں آگ ۔ فائر برگیڈ بے بس ۔

744

کراچی ( رپورٹ : محمد انور ) بلدیہ عظمٰی کراچی کا فائر برگیڈ ڈپارٹمنٹ جمعرات کو صبح لگنے والی آگ پر نو گھنٹے بعد بھی قابو نہیں پاسکا ۔ ایک سو 7 میٹر اونچائی تک رسائی رکھنے والی یہ اسنارکل خراب ہونے کی وجہ سے جائے وقوعہ پر پہنچنے کے باوجود آگ بجھانے کے بجائے اپنا ” آپریشن ہینگ ” کرگئی ۔ کمشنر کراچی افتخار شاہوانی موقع پر پہنچے مگر چیف اور ڈپٹی چیف فائر آفیسر نہ ہونے کی وجہ سے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واپس چلے گئے ۔ موقع پر موجود نیو کراچی کے  سینئر ترین اسٹیشن افسر مبین احمد نے ” جسارت “کو بتایا ہے کہ ان دنوں کوئی چیف فائر آفیسر اور ڈپٹی چیف نہ ہونے کی وجہ سے عملے کی رہنمائی کرنے اور آگ پر قابو پانے کے لیے دیگر اقدامات کرنے والے کوئی بھی موقع پر  موجود نہیں ہے ۔ جس کی وجہ سے خدشہ ہے کہ آگ سے فیکٹری کی مشینری  اور  عمارت کو بھی غیر معمولی نقصان پہنچنے کا خد شہ ہے ۔ یہاں یہ بات قابل زکر ہے کہ میئر کے چہیتے افسر سینیئر ڈائریکٹر کوآرڈینیشن اور سابق سینئر ڈائریکٹر مسعود عالم مذکورہ لبرٹی فیکٹری میں آگ لگنے کے بعد موقع پر پہنچے تو مگر اپنی سابقہ دس سالہ  کارکردگی پر شرمندہ ہوکر چلے گئے تھے ۔ کمشنر نے اپنے دورے کے دوران کے ایم سی کے کسی ذمے دار افسر کو بھی موقع پر نہ پاکر برہمی کا اظہار کیا بلکہ حکام کو اس بارے میں مطلع بھی کردیا ہے #