سڑکوں پر پڑی لاشیں دیکھنے کے منتظر رہیے

800

اتوار 7جون 2020 پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ کورونا وائرس سے متاثرہ 213 ممالک میں پاکستان 15نمبر پر آگیا ہے۔ پاکستان سے اگلا درجہ میکسیکو کا ہے لیکن خیال یہی ہے کہ آئندہ چند روز میں پاکستان میکسیکو کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔ جون کے حالیہ ہفتے میں اوسطاً ہر روز چار ہزار نئے کیس سامنے آئے ہیں۔ جب کہ جمعرات اور ہفتے کو کیسز کی تعداد 4800 اور 4700 تھی۔ اندیشہ ہے کہ اگلے ہفتے تک ہم کورونا مریضوں کی تعداد کے حساب سے فرانس کے قریب پہنچ جائیں گے جہاں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 54ہزار کے قریب ہے لیکن وہاں اس تعداد میں اب کوئی اضافہ نہیں ہورہا ہے۔ وہاں صورتحال قابو میں ہے۔
کورونا کی وبا نے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اور اس کی مسلط کردہ ایک انتہائی ظالم حکومت کی عوام کی صحت اور انہیں علاج معالجے کی سہولتوں کی عدم فراہمی کے متعلق انتہائی بے حسی اور مجرمانہ غفلت کو ننگا کردیا ہے۔ جو صورت حال اوپر بیان کی گئی ہے حقیقت یہ ہے کہ اصل صورت حال اس سے کہیں زیادہ خوفناک ہے۔ کیونکہ علاج تو درکنار عمران خان کی حکومت ابھی تک عوامی سطح پر کورونا وائرس کے تشخیصی ٹیسٹ کی سہولتیں فراہم کرنے میں کسی بھی قسم کی دلچسپی لینے کے لیے تیار نہیں۔ اس وبا نے نہ صرف موجودہ حکومت کی عوام دشمنی ہی کو نہیں بلکہ دیگر اداروں اور منافع کی ہوس پر پلتے سرمایہ دارانہ نظام کو بھی پوری طرح ایکسپوز کردیا ہے۔ ایک طرف پاکستان کی تاریخ کی بدعنوان اور عوام دشمن حکومت اور ریاست کے پاس پاکستان کے 22 کروڑ عوام کو اس وبا سے محفوظ رکھنے کے لیے کوئی منصوبہ بندی ہے اور نہ ہی سیاسی سماجی اور تیکنیکی بصیرت۔ دوسری طرف بڑے تاجروں اور سرمایہ داروں نے اس وبا کو خوب اور خوب اپنی دولت آفرینی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ خدا کی پناہ آپ کسی بڑے میڈیکل اسٹور سے فیس ماسک تقاضا کریں تو اس کے چہرے پر ایسی سنجیدگی غالب آجاتی ہے کہ پتا نہیں آپ نے اس سے کون سی عنقا چیز طلب کرلی ہے۔ تھوڑی دیر کی گمبھیر خاموشی کے بعد وہ آپ سے آہستگی اور رازداری سے سوال کرے گا ’’کنے چاہیں‘‘۔ بڑے تاجروں کے لیے فیس ماسک کی ذخیرہ اندوزی آج کل منافع کمانے کا بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔ نجی اسپتالوں اور لیبارٹریوں کی طرف سے ٹیسٹوں اور علاج کے نرخوں میں خوب اور خوب اضافہ کردیا گیا ہے۔ حکومت کی طرف سے سب کو کھلی چھوٹ ہے عوام کا جو حشر چاہیں کریں۔ حکومت کی دلچسپی کے یہ میدان ہی نہیں ہیں۔ حکومت کی دلچسپی کا مرکز ومحور نیب کی مدد سے شہباز شریف کی گرفتاری کا ڈراما اسٹیج کرنے میں ہے اور اسٹیبلشمنٹ کی اٹھارویں ترمیم میں دی گئی صوبوں کو دی گئی مراعات کم کرکے فوج کے لیے زیادہ سے زیادہ بجٹ کے حصول تک محدود ہوکررہ گئی ہے۔
کورونا کی وبا کو سب کے سب کروڑ پتی اور ارب پتی بننے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ اپریل میں عدالت عظمیٰ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے قراردیا تھا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں عوام اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے بھی پیسے لیے گئے لیکن یہ پیسہ نہ جانے کیسے خرچ ہوئے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی بینچ نے دوران سماعت یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب ملک میں مریض ہی صرف پانچ ہزار ہیں تو کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے کھربوں روپے کیسے خرچ ہوئے ہیں۔ ’تمام حکومتیں ریلیف کی مد میں رقم خرچ کر رہی ہیں لیکن اس میں شفافیت نظر نہیں آ رہی۔ عدالت کے استفسار پر سیکرٹری صحت تنویر قریشی نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد میں اس وقت 16 قرنطینہ مراکز قائم ہیں اور وہاں پر تمام ضروری سہولتیں فراہم کی گئی ہیں جس پر چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت سے استفسار کیا کہ انہوں نے خود ان سینٹرز کا دورہ کیا جس کا سیکرٹری صاحب نے انکار میں جواب دیا۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ حاجی کیمپ میں بنائے گئے سرکاری قرنطینہ سینٹرز میں حالات ’غیر انسانی‘ ہیں۔
یہ مکالمہ نہیں ایک آئینہ ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ شعبہ صحت کے متعلق عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا بھی کروڑوں روپے مالیت کے فیس ماسکس کی بیرون ملک اسمگلنگ میں ملوث پائے گئے۔ ذرا سوچیے کہ پاکستان جیسا ملک جہاں ’’نارمل حالات‘‘ میں بھی جہانگیر ترین جیسے سرمایہ دار حکومتی و ریاستی آشیر باد کے ساتھ بنیادی اشیائے ضرورت کا مصنوعی بحران پیدا کر کے اپنی تجوریاں بھرنے کے عادی ہوں، وہاں ایک وبا سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال میں سرمایہ دار طبقہ کس طرح عوام کی جانوں سے کھیل کر اپنی دولت میں اضافہ کررہا ہوگا۔ پچھلے73 سال سے یہاں کا سرمایہ دار حکمران طبقہ اور ریاستی اشرافیہ، ملٹی نیشنل کمپنیوں، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے مالیاتی اداروں کے احکامات پر عمل کرکے ملک چلاتا آیا ہے۔ ان کمپنیوں کو اس ملک کے عوام کو لوٹنے کی کھلی چھوٹ دینے کے بدلے میں یہ طبقہ اپنی تجوریاں بھی بھرتا رہا ہے۔ رہی سہی کسر خطے میں امریکا، چین اور سعودی عرب کی غلامی کے بدلے میں مال کمانے کے غرض سے پروان چڑھنے والی سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ نے پوری کر رکھی ہے جو ایک کاروباری ادارہ بن چکی ہے۔
پاکستان کے سول اور فوجی حکمرانوں کی مہربانی سے سرکاری اسپتالوں میں 2ہزار افراد کے لیے ایک بستر دستیاب ہے جبکہ 1500 افراد کے لیے ایک صرف ڈاکٹر دستیاب ہے۔ نرسنگ اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی قلت کی صورتحال اس بھی زیادہ گمبھیر ہے۔ صحت کی یہ تھوڑی بہت سرکاری سہولتیں بھی ملک کے نسبتاً ترقی یافتہ علاقوں اور بڑے شہروں ہی میں دستیاب ہیں جبکہ بلوچستان جیسے پسماندہ خطوں میں تو مریض کو محض کسی ڈاکٹر کی شکل دیکھنے کے لیے بھی ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر گھنٹوں کا اذیت ناک سفر کرنا پڑتا ہے۔ علاج نہ ملنے کے باعث ملک میں ہر سال ساڑھے 4لاکھ بچے ملیریا، نمونیا اور اسہال جیسی قابل علاج بیماریوں کے باعث جاں بحق ہوتے ہیں۔ سالانہ 50ہزار عورتیں زچگی کی پیچیدگیوں کے باعث جان ہار جاتی ہیں جبکہ اتنی ہی تعداد میں عورتیں ہر سال صرف چھاتی کے سرطان کے باعث بے وقت موت کے منہ میں چلی جاتیں ہیں۔ یہ عام صورت حال ہے اندازہ کیجیے کہ کورونا کے ان ایک لاکھ سے زائد مریضوں پر عدم علاج کے باعث کیا گزرے گی۔ یہ بے حس، عوام دشمن حکومت ان لوگوں کا کیا حال کرے گی۔
بے فکر رہیے جب کورونا کے ایک لاکھ سے زائد مریض اذیت سے تڑپ رہے ہوں گے زندگی کی بھیک مانگ رہے ہوں گے تو اس سے کوئی قومی المیہ جنم نہیں لے گا۔ کیونکہ ان افراد کی بھاری ترین اکثریت غریب طبقے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس ظالم حکومت کے لیے ان افراد کی زندگی اور موت کی کوئی قیمت نہیں، کوئی وقعت نہیں۔ وقعت اگر ہے تو آئی ایم ایف کے احکامات کی جن کے تحت یہ حکومت سرکاری اسپتالوں کی نجکاری پر تلی ہوئی ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں عوام جاں بحق ہوجائیں گے۔ غریبوں کی بے گوروکفن لاشیں سڑکوں پر پڑی ہوں گی۔ جب کہ یہ ظالم حکمران، منافع کی ہوس میں اندھے سرمایہ دار، بینکار، تاجر، سستے داموں بکنے واے جج، طفیلی بیوروکریٹس، جاگیردار، وڈیرے، اراکین اسمبلی اور ہماری مسلح افواج اپنے اپنے محلوں میں بیٹھے تماشے دیکھتے حالات کے نارمل ہونے کا انتظار کررہے ہوں گے۔ ان میں سے اکثریت نے پہلے ہی اپنے محلات میں مہینوں کی خوراک، دوائیں، ڈاکٹرز وینٹی لیٹرز اور دیگر مشینری کا بندوبست کررکھا ہے۔ فائیو اسٹار اسپتالوں میں پہلے ہی ان لوگوں کے لیے انتظامات مکمل ہیں۔ ذرا حساب لگائیے گا کورونا کی وجہ سے کتنے لاکھ غریب مرتے ہیں اور کتنی معمولی تعداد میں حکمران۔ اس ملک میں ظلم کی ایک نئی تاریخ رقم ہونے جا رہی ہے۔