فوج اور حکومت ایک پیج پر

360

محمد سمیع گوہر
1971میں بنگلا دیش کے قیام کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نیا پاکستان کے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر، صدر اور پھر وزیر اعظم بنے اور چھ سال برسراقتدار رہے، ملک ٹوٹنے سے قبل وہ اور فوج ایک پیج پر تھے لیکن اپنے اقتدار میں آنے کے کچھ ہی عرصہ بعد وہ ایک فوجی بغاوت کو ناکام بنانے میں کامیاب رہے تھے مگر 1977 میں وہ اپنے ہی ایک پسندیدہ فوجی سربراہ جنرل ضیاء الحق کے ساتھ ایک پیج پر نہ ہونے کی بنا پر اقتدار سے محروم ہوئے اور قتل کے ایک مقدمہ میں سزا پاکر پھانسی پر چڑھ گئے تھے۔ جنرل ضیاء الحق نے اپنے گیارہ سالہ اقتدار میں مسلم لیگ کی کوکھ سے جونیجو لیگ کی تشکیل کی اور سندھ کے ایک سیاستدان محمد خان جونیجو کو وزیراعظم بنوایا مگر وہ بھی زیادہ عرصہ فوج کے ساتھ ایک پیج پر نہ رہے اور برطرف کردیے گئے اور پھر مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف جنرل ضیاء الحق کے ساتھ ایک پیج پر آگئے تھے جس کی وجہ سے ان کو بھی وزیر اعظم بننے کا شرف حاصل ہوا۔ 1988میں جنرل ضیاء الحق کے طیارے کے ایک حادثہ میں ہلاکت کے بعد اگلے دس برس کے دوران ملک میں دو دو بار بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کو وزیر اعظم بننے کا موقع ملا مگر وہ آپس کی لڑائی کی بنا پر فوج کے ساتھ ایک پیج پر نہ آنے کی وجہ سے اقتدار سے معزول کردیے گئے تھے۔ 1999 سے 2008 پاکستان کے چوتھے فوجی جنرل پرویز مشرف کی حکومت رہی جس کے دوران چودھری شجاعت کی سربراہی میں ایک اور قائد اعظم مسلم لیگ بنائی گئی جس کے پہلے وزیر اعظم ظفراللہ خان جمالی فوج کے ساتھ زیادہ عرصہ ایک پیج پر نہ رہ سکے اور وزارت عظمیٰ سے محروم ہوئے پھر تین ماہ کے لیے چودھری شجاعت عارضی وزیر اعظم رہے اور پھر ایک ٹینوکریٹ شوکت عزیز وزیر اعظم بنائے گئے اور جنرل مشرف کے اقتدار کے خاتمہ تک ان کے ساتھ ایک پیج پر رہے۔ 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی تیسری حکومت آصف علی زرداری کی زیر قیادت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتے ہوئے اپنی حکومت کی پانچ سالہ مدت پوری کرنے میں کامیاب رہی مگر اس عرصہ میں نواز شریف پوری یکسوئی کے ساتھ فوج کے ساتھ ایک پیج آچکے تھے۔ 2013 میں تیسری بار وزیر اعظم بننے کے بعد میاں نواز شریف اپنے آپ کو بہت طاقتور ہونے کی غلط فہمی کا شکار ہو کر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ٹکرا گئے اور پاناما کیس میں سزا ہونے کے بعد ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگاکر ایک بار پھر اقتدار میں آنے کی حسرت لیے لندن میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ میاں نواز شریف کے چھوٹے بھائی اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف جو اب قائد حزب اختلاف بھی ہیں نے پچھلے دنوں اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ 2018 کے انتخابات کے بعد ان کے ملک کا وزیر اعظم بننے کے معاملات اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ طے پاگئے تھے مگر ان کے بڑے بھائی میاں نواز شریف کا ووٹ کو عزت دینے کا نعرہ انہیں لے ڈوبا اور وزارت عظمیٰ کا تاج عمران خان کو پہنادیا گیا تھا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان میاں شہباز شریف کی جانب سے کسی بھی وقت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مفاہمت ہوجانے کے خوف کی بنا پر لوگوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل ہے اور ان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ پاکستان کی سیاست پر نظر رکھنے والے یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں کس وقت کس حکمران کی چھٹی ہوجائے کچھ پتا نہیں ہوتا ہے۔
پی ٹی آئی کو قومی اسمبلی میں تین اہم سیاسی جماعتوں کی حمایت کی بنا پر مخلوط حکومت بنانے پر اقتدار ملا ہے اور دس سے بارہ اراکین کی حمایت تبدیل ہوجانے کے بعد عمران خان قومی اسمبلی میں اپنی اکثریت سے محروم ہوسکتے ہیں۔ پاکستان میں اراکین پارلیمنٹ کی وفاداریاں تبدیل ہونے میں دیر نہیں لگتی۔ سینیٹ کے چئیرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش ہونے کے بعد مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی اکثریت ہونے کے باوجود کامیاب نہ ہوسکیں اور اکژیت کی شکست کا تماشا پوری قوم نے دیکھا اس لیے میاں شہباز شریف کس وقت بازی پلٹ سکتے ہیں کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ مسلم لیگ نون کے سربراہ میاں نواز شریف کے مقابلہ میں میاں شہباز شریف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ہمیشہ اچھے تعلقات قائم رکھنے کی شہرت رکھتے ہیں اس لیے وزیر اعظم عمران خان کو اپنے اتحادیوں کو یہ یقین دلانے کے لیے کے ان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں انہیں بار بار کہنا پڑتا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اور فوج ایک پییج پر ہیں۔
پاکستان میں منتخب سیاسی حکومتیں اپنے اقتدار کے لیے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت لینے پر کیوں مجبور ہیں اس کی دو بڑی وجوہات ہیں، ایک تو سیاسی جماعتوں میں خود ہی کوئی جمہوریت نہیں ہے ہر جماعت کا سربراہ تا حیات پارٹی قائد ہی رہتا ہے اور اس کے انتقال پر اس کا بیٹا یا بھائی قائد بن جاتا ہے، پارٹی کے عہدہ داروں کا انتخاب بھی پارٹی کا سربراہ کرتا ہے، عام انتخابات کے موقع پر قربانی دینے والے کارکنوں کو نظر انداز کرکے اپنی دولت اور طاقت کی بنیاد پر کامیاب ہونے والوں کو قومی و صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن لڑائے جاتے ہیں جو اقتدار میں آ کر اگلے الیکشن کے لیے سرمایہ جمع کرنا میں مصروف رہتے ہیں اور کوئی سیاسی رہنما اپنی کرپشن پر کبھی شرمندہ بھی نہیں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جتنی بھی منتخب حکومتیں اقتدار میں آئیں اپنی کرپشن، بدانتظامی اور نااہلی کی بنا پر اسٹیبلشمنٹ کے اشاروں پر ناچنے پر مجبور رہتی ہیں اور یہ کھیل اب بھی جاری و ساری ہے۔