’’اوورسیزپاکستانیوں کی دہائیاں‘‘

361

محمدشاہد نسیم چودھری
کورونا وائرس کے تناظر میں دنیا بھر میں موجود اوورسیز پاکستانی انتہائی پریشان ہیں، یہ وہی لوگ ہیں، جنہوں نے مدینہ جیسی ریاست بنانے کے داعی عمران خان کو نہ صرف وزیر اعظم بنوایا، بلکہ جب جب عمران خان کو پیسے کی ضرورت ہوئی، ان اوورسیز پاکستانیوں نے بلا دریغ پیسے لٹائے، لیکن اب وزیر موصوف شہری ہوا بازی غلام سرور نے اوورسیز پاکستانیوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کو ٹکٹ کی رقم زیادہ ہونے پر اعتراض ہے، تو وہ باہر ہی رک جائے، وطن واپس نہ آئے، متحدہ عرب امارات سے ایک اور سیز پاکستانی شفقت علی کا کہنا ہے کہ وزیر ہوابازی کی طرف سے یہ کہنا بالکل ناقابل قبول ہے ہم بطور پاکستانی وزیر موصوف کی مذمت کرتے ہیں، وزیر موصوف کو پاکستانی کمیونٹی سے معافی مانگنی چاہیے، کیونکہ اوورسیز پاکستانی، ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، زر مبادلہ اور ترسیلات زر کی صورت میں متحدہ عرب امارات سے تقریباً بیس بلین روپے سالانہ پاکستان جاتے ہیں، جبکہ حکومت پاکستان ان اوورسیز پاکستانیوں سے اب جس طریقے سے پیش آرہی ہے، وہ باعث شرم ہے، جس کی واضح مثال وزیر موصوف کا بیان ہے۔ ایک ملین سے زیادہ اوور سیز پاکستانی متحدہ عرب امارات میں موجود ہیں، جن میں سے کئی اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، اس نازک موقع پر نہ حکومت پاکستان ہماری مدد کر رہی ہے، اور نہ ہی پاکستانی سفارت خانہ اس سلسلے میں ہماری مدد کر رہا ہے، ٹکٹ جو تقریباً تیس ہزار میں تھا، وہ اس موقع پر ایک لاکھ کا مل رہا ہے، جب کوئی مانگ تانگ کے ٹکٹ خرید کر پاکستان پہنچتا ہے، تو اسے چودہ دن کے لیے آئسولیشن سینٹرز میں رکھا جاتا ہے، جہاں کے حالات انتہائی بدتر ہوتے ہیں، جس سے اچھا خاصا صحت مند شخص بھی بیمار ہوجاتا ہے، اگر کوئی ہوٹل جانا چاہیے تو اس سے روزانہ کے سات ہزار روپے کے حساب سے پیسے وصول کیے جاتے ہیں، جو مرے ہوئے کو مارنے والی بات ہے، ہمیں یہ محسوس ہو رہا ہے کہ اس وقت عملاً کہیں حکومت نظر نہیں آرہی، اور تمام پالیسیاں اوور سیز پاکستانیوں کے خلاف ہی ہیں، ایک اور اہم مسئلہ دیار غیر میں حاملہ خواتیں کا ہے، جس پر بھی کوئی توجہ نہیں دی جا رہی، انڈیا کا ایک خصوصی جہاز صرف حاملہ خواتین کو لیکر گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات ہی سے ایک پاکستانی محمد کا پیغام۔ یہ میرا پیغام ہے وزیر اعظم عمران خان کے نام، جناب میں سارے پاکستانیوں کی آواز بن کے آپ کے سامنے درخواست کررہا ہوں، کہ اللہ کے واسطے اوورسیز پاکستانیوں پر رحم کریں، سب بہت پریشان ہیں، اپنے وطن جانا چاہتے ہیں، کسی کے پاس ملازمت نہیں ہے، کسی کے گھر میں بیماری ہے، کسی کے گھر میں فوتگی ہو گئی ہے، لوگ خون کے آنسو رو رہے ہیں، وہ آپ ہی کی طرف دیکھ رہے ہیں کہ کب آپ رحم کریں گے اور کب کوئی قانون نکالیں گے کہ لوگ اپنے وطن عزیز چلے جائیں، آپ ہمیشہ کہتے تھے کہ مجھے اوورسیز پاکستانیوں کی ضرورت ہے، مجھے ان کی سپورٹ چاہیے، تو جناب ہم نے ہمیشہ آپ کی سپورٹ کی ہے، اور اب ہمیں آپ کی سپورٹ چاہیے، اگر آپ ایک ہاں کر دیں گے، تو لوگ اپنے پیاروں سے جا کر مل لیں گے، آپ کا جو تشخص ہماری نظروں میں ہے، اسے قائم رکھیے، اس کو نہ ختم کریں۔ ایک اوور سیز پاکستانی جہاں زیب نے وزیر اعظم عمران خان کو ان الفاظ میں پیغام دیا ہے کہ خان صاحب!! جب بھی کوئی مشکل آتی ہے تو شوکت خانم کے بننے سے لیکر وزیر اعظم بننے تک، جب جب آپ نے آواز دی ساری قوم نے آپ کا ساتھ دیا، آپ خود جانتے ہیں کہ جنہوں نے آپ کے لیے نمایاں طور پر رقم مہیا کی، وہ اوورسیز پاکستانی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ آپ ہمیشہ ان کی طرف داری بھی کرتے ہیں، کہ میں اوورسیز پاکستانیوں کو اپنے دل میں رکھتا ہوں، وہ میرے بہت عزیز ہیں، تو خان صاحب یہ کس طرح کے عزیز ہیں؟ کہ جن کو آپ نے غلام سرور جیسے بندوں کے سپرد کردیا ہے۔ آپ سوچ بھی نہیں سکتے کہ اوورسیز پاکستانی اس وقت سے کتنی تکلیف سے دوچار ہیں، جب انہوں نے غلام سرور کا بیان سنا کہ جو پاکستانی مہنگا ٹکٹ برداشت نہیں کرسکتے، وہ وہیں رہیں، ان کو پاکستان میں آنے کی ضرورت نہیں، تو جناب کیا یہ غلام سرور کے باپ کا ملک ہے؟، اس کے باپ کی ائر لائن ہے؟ اس کے باپ کے پیسے ہیں؟، آئی ایم ایف نے اس سال کی پاکستان کی قسط چھوڑی، الحمدللہ پاکستان کو فائدہ ہوا، آپ نے چندہ مانگا، ٹیلی تھون کے ذریعے اربوں روپے اکٹھے ہو گئے، آپ نے اوورسیز پاکستانیوں سے پیسہ مانگا، پھر آپ کو پیسہ مل گیا، کورونا کے نام پر آپ نے ٹائیگر فورس مانگی، آپ کو دس لاکھ بندہ مل گیا کام کرنے کے لیے اور اب آپ کہتے ہیں کہ بھاڑ میں جائیں اوورسیز پاکستانی جو مہنگا ٹکٹ لیکر پاکستان نہیں آسکتے۔ یہ کیا اوورسیز پاکستانیوں کی ذمے داری ہے؟، حالات کی وجہ سے جو مہنگائی ہوئی ہے، اس کی قیمت ان پاکستانیوں کو ادا کرنی ہے، جن کو تین تین ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں، کئی لوگوں کو ایمرجنسی ہو گئی ہے، کسی کی ماں مر گئی ہے، کسی کا باپ مر گیا ہے، وہ پاکستان جانا چاہتے ہیں، جناب !! سیکھیں ان ممالک سے جہاں آپ نے ساری زندگی گزاری، آپ صرف کویت کی مثال لے لیں ان کا صرف ایک عام کویتی کسی ملک میں پھنسا ہوا تھا، تو کویت نے اپنا خصوصی جہاز اسے لینے کے لیے بھیجا، یہ ذمے داری اسٹیٹ کی ہوتی ہے، لیکن پاکستان میں غلام سرور جیسے بندے کو لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے، یہ صرف چند ایک اوورسیز پاکستانیوں کی آواز نہیں، بلکہ یہ ان تمام اوورسیز پاکستانیوں کی آواز ہے، جنہوں نے آپ کو چندہ دیا، اور آپ کی مدد کی۔ یہ چند ایک اوورسیز پاکستانیوں کی دہائیاں تھیں، لیکن سوشل میڈیا ایسی دہائیوں سے بھرا پڑا ہے، حکومت کو اوورسیز پاکستانیوں کے لیے خصوصی فلائٹس چلانی چاہییں، ان کے لیے پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے، نہ کہ ان کو بے یارو مددگار چھوڑا جائے، اور وزیر ہوا بازی غلام سرور کو بھی اوورسیز پاکستانیوں بارے کہے ہوئے غیر ذمے دارانہ الفاظ واپس لینے چاہییں کیونکہ تلوار کا لگا زخم تو بھر جاتا ہے، لیکن الفاظ کا گھائو کبھی نہیں بھرتا۔