کورونا اوڑھنا بچھونا

350

کورونا سے فوری نجات کے تو یوں بھی کوئی آثار نہیں تھے مگر وزیر اعظم عمران خان نے تو اس کے فوری خاتمے کی موہوم امید بھی ختم کر دی۔ کورونا کا ختم ہونا یا نہ ہونا صرف ان لوگوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے جو کورونا کو ایک حقیقت سمجھ رہے ہیں جنہیں کورونا ایک ڈھکوسلہ معلوم ہوتا ہے ان کے لیے کورونا کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔ عمران خان نے تو گویا بتادیا کہ کورونا اب معاشرے کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ساری دنیا اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ اس سال کورونا کا مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ ہمیں اب اس کے جینا ہے۔ قومی رابطہ کمیٹی این سی سی کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈائون سے کورونا کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے مگر یہ اس کا علاج نہیں۔ میں پہلے دن سے اس بات کا حامی ہوں کہ وائرس کے علاج میں شعبہ طب پر اتنا دبائو نہ ڈالا جائے صرف پھیلائو روکا جائے لیکن لاک ڈائون سے غریب متاثر ہوا۔ وزیر اعظم کی صدارت میں ہونے والے اس اجلاس ہی میں لاک ڈائون کو ختم کرنے اور کاروبار زندگی کو کچھ احتیاطی تدابیر کے ساتھ بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے لاک ڈاون میں احتیاط کی تمام ذمے داری عوام پر ڈالتے ہوئے کہا اگر عوام نے کورونا کے معاملے میں احتیاط نہ برتی تو نقصان کا گراف بڑھ سکتا ہے۔ وزیر اعظم نے کاروبار حیات کی بحالی کی بات کرتے ہوئے اب گیند عوام کی کورٹ میں ڈال دی ہے۔ اپنی حفاظت بھی انہیں خود کرنا ہے اور معمولات بھی اپنے انداز سے جاری رکھنا ہیں۔ یہ بات بھی عوام پر منحصر ہے کہ وہ احتیاط کا دامن تھامے رکھتے ہیں یا احتیاط کے بندھن سے آزاد ہو کر زندگی کو معمول کے مطابق گزارتے ہیں۔ ہر دو صورتوں میں نفع ونقصان کے ذمے دار وہ خود ہوں گے۔
کورونا روز اول سے دنیا بھر کے عوام کے ساتھ ساتھ فیصلہ سازوں کے لیے بھی ایک درد سربنا ہوا ہے۔ چونکہ اس وائرس کا ظہور، تدارک اور علاج ابھی ایک معما ہے اس لیے مقابلے کے لیے بھی کوئی ایک ٹھوس اور منجمد پالیسی اور کلیہ اپنایا نہیں جا سکتا۔ قوموں اور ملکوں نے اپنے معاشی اور معاشرتی حالات کے مطابق اس وباء کے مقابلے کی تدابیر کرنے کی کوششیں کیں۔ اکثر اوقات عوام کو اس معاملے میں احتیاطی تدابیر سے گریزاں اور بے غرض اور لاپروا دیکھا گیا اور خود مذمتی اور ملامتی اپنی جگہ مگر بطور قوم بے احتیاطی کے اس عارضے میں ہم تنہا نہیں بلکہ ہر ملک وقوم کا انیس بیس کے فرق کے ساتھ یہی حال ہے۔ ایسا نہ ہوتا تو حکومتوں کو بار بار لاک ڈائون اور کرفیو نافذ نہ کرنا پڑتے۔ دنیا میں جہاں لاک ڈائون کرکے عوام کو سختی سے گھروں میں بٹھادیا گیا وہیں اس وبا کا نقصان کم ہوا جہاں حکومتوں نے اس اجتماعی دانش پر چھوڑا ور عوام اسے ایک مذاق اور حکومت کی کوئی چال سمجھتے رہے وہاں جانی نقصان زیادہ ہوا۔ چین جیسا سخت گیر نظام کا حامل ملک ہو یا برطانیہ جیسا جمہوری اور ڈھیلے ڈھالے نظام والا ملک ہر دو جگہوں پر حکومتوں کو عوام کو گھروں میں بند رکھنے کے لیے متحرک ہونا پڑا اور ہر جگہ حکومتوں کو ریاستی ڈنڈا دکھا کر عوام کو محدود رکھنا پڑا۔ ہمارے ہاں اس وبا کو شروع ہوئے تین ماہ ہونے کو ہیں مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ لوگ اب بھی پوچھتے ہیں کہ یہ کورونا واقعی کوئی مسئلہ ہے یا پیسے بٹورنے کا کوئی نیا ڈراما ہے۔
یہ سوال اس لحاظ سے اپنے اندر سفاکی رکھتا ہے کہ آئے روز ہمارے معاشرے میں کوئی نہ کوئی شخص جن میں نامور لوگ بھی شامل ہیں اس مرض کے باعث جہان فانی سے کوچ کر جاتا ہے۔ کتنے ہی ڈاکٹروں کو یہ وبا چاٹ گئی اور کتنے ہی دوسرے لوگ اس وبا کے ہاتھوں لقمہ اجل بنے مگر اس کے باجود لوگوں کا اس وبا کی حقیقت کے بارے میں مشکوک اور غیر سنجیدہ ہونا قطعی عجیب ہے۔ ظاہر ہے جب کسی معاشرے میں چیلنج اور خطرے کی نوعیت کو سمجھا ہی نہیں جائے گا تو اس کے مقابلے کا شعور کیسے پیدا ہو گا۔ دنیا بھر کی طرح ہماری حکومت بھی اس وقت چکی کے دوپاٹوں میں پس رہی ہے۔ ایک طرف ڈاکٹروں کی صورت وہ مسیحا ہیں جو حکومت سے لاک ڈائون میں سختی کرنے کی اپیل کررہے ہیں اور عوام کو ہر ممکن طور پر احتیاط کرنے کے لیے مسلسل چیخ وپکار کر رہے ہیں تو دوسری طرف تاجر برادری حکومت کو تمام پابندیاں ختم کرنے پر اصرار کر رہی ہے۔ سردست مسیحا ہار اور تاجر جیت گئے ہیں۔ ڈاکٹر اس وبا کے خلاف اگلے مورچے کے سپاہیوں کا کردار ادا کررہے ہیں۔ کورونا کے مریضوں کی تکلیف اور آخری لمحات کے بھی وہی چشم دید گواہ ہیں اور اپنے نظام کی اہلیت اور صلاحیت سے بھی وہی آگاہ ہیں۔ انہیں علم ہے کہ اسپتالوں میں کتنے وینٹی لیٹر ہیں اور حفاظت کا باقی سامان کتنا ہے؟۔ اس لیے ان کی بات کو ہوا میں اُڑایا نہیں جا سکتا۔
تاجر برداری کی خواہشات بھی اپنا وزن رکھتی ہیں۔ تاجر اور صنعت کاروں کے ساتھ عوام کی زنجیر سی بنی ہوتی ہے۔ رزق کی اس زنجیر میں بہت سے کردار بہت سے حوالوں سے جڑے ہوتے ہیں۔ یہ سب زمینی حقیقتیں ہیں۔ اس میں عافیت کی راہ یہ تھی کہ اگر عوام خطرے کو خطرہ سمجھنا شروع کرکے کورونا سے بچائو کی تدابیر اختیار کرتے تو نقصان سے بچا جا سکتا تھا مگر عید کے دنوں میں دیکھ لیا گیا کہ عوام رسیاں تڑوا کر بازاروں میں آدھمکے کہ گویا اس کورونا زدہ عید پر اگر نئے کپڑے، جوتے اور چوڑیاں نہ پہنی گئیں تو روزوں کا سار ثواب ختم ہو جائے گا۔ اس رویے نے وبا کے معاملے میں ہماری اجتماعی بے حسی اور لاپروائی کو نمایاں کیا حالانکہ اس پر بھی اتفاق تھا کہ ہمارے ہاں کورونا کا گراف ابھی پوری طرح نقطہ عروج پر نہیں پہنچا۔ آنے والے دنوں میں اس گراف کو بلند ہونا تھا جو اب بہت تیزی سے ہورہا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود عوام نے عید کے دنوں میں جم کر بے احتیاطی کی اور اس کے اثرات اب ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ وزیر اعظم نے جس انداز سے بات کی اس سے لگتا ہے کہ وہ کورونا کا معاملہ اللہ تعالیٰ اور عوام پر چھوڑ کر کاروبار حیات کو بحال کرنے جا رہے ہیں اور یہی ان کی پہلی ترجیح ہے۔ اس صورت حال میں عوام کی ذمے داریاں بڑھ جاتی ہیں مگر عوام ابھی تک کورونا کو امریکا اور چین کا ڈراما سمجھ رہے ہیں۔ ڈراما کسی کا بھی ہو مگر زندہ جیتے جاگتے کردار کارگاہ حیات اور بھرے بازار سے اُٹھ کر بے کسی کے ساتھ قبرستانوں میں گم ہوجاتے ہیں اس کے باجود مخمصہ کم نہیں ہوتا تو اسے جہالت کا کوئی اعلیٰ ترین درجہ ہی کہا جا سکتا ہے۔ بھلے سے امریکا نے چین کے خلاف اور چین نے امریکا کے خلاف سازش کی ہو مقاصد کچھ بھی ہوں مگر مرنے والے تو اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔