اسٹیل مل کی تباہی کے مجرم حکومت و انتظامیہ ہیں مزدور نہیں،عدالت انصاف کرے، حافظ نعیم

488
کراچی: اسٹیل مل ملازمین کی جبری برطرفی کے خلاف پاسلو کے تحت کراچی پریس کلب کے باہر مظاہرے سے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن، نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی، پاسلو کے صدر عاصم بھٹی، سابق صدر پاسلو زاہد عسکری، پاسلو کے جنرل سیکرٹری علی حیدر گبول، این ایل ایف کراچی کے صدر خالد خان، سابق صدر پاسلو ظفر خان اور دیگر خطاب کررہے ہیں

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاسلو کے تحت کراچی پریس کلب پر اسٹیل مل کے ملازمین کا احتجاجی مظاہرہ، مظاہرے میں اسٹیل مل کی تمام ٹریڈ یونینز اور ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے شر کت کی، مقررین نے پاکستان اسٹیل مل سے 9350ملازمین کی جبری برطرفی اور نجکاری کے فیصلے کو مشترکہ طور پر مسترد کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اس فیصلے کو فی الفور واپس لیا جائے اور اگر یہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو ملازمین اس کے خلاف بھر پور مزاحمت اور جدو جہدکریں گے ، پاکستان اسٹیل کی تباہی کی مجرم حکومت و انتظامیہ ہے مزدور نہیں عدالت انصاف کرے۔ ہر قسم کے آئینی وقانونی اور جمہوری احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے گا ۔ جس میں نیشنل ہائی وے کو بند کرنے یا گورنر ہائوس پر دھرنا بھی دیا جائے گا۔ مظاہرے سے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ،نائب امیر جماعت اسلامی کراچی و اسٹیل مل بحالی کمیٹی کے نگران ڈاکٹر اسامہ رضی ،صدر پاسلو یونین عاصم بھٹی ،سینئر مزدور رہنما، سابق صدر پاسلو یونین و سیکرٹری اطلاعات کراچی زاہد عسکری ، نائب صدر این ایل ایف پاکستان ظفر خان، صدر این ایل ایف کراچی خالد خان ، جنرل سیکرٹری پاسلو یونین علی حیدر گبول ،ملک جہانگیر جنرل سیکرٹری ٹاپس ،رہنما ٹریڈ یونینز الائنس اکبر ناریجو ،رہنما ٹریڈ یونینز الائنس شوکت کورائی ،فنکشنل لیگ کے عبدالحق چنا ،جنرل سیکرٹری پیپلز یونین سید حمید اللہ ،رہنما انصاف یونین جاوید سیٹھار ،سرور نیازی اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ مظاہرے میں شریک ملازمین نے وفاقی حکومت کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے پُر جوش نعرے لگائے اور فیصلے کو مزدوروں کا معاشی قتل عام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے فی الفور واپس لیا جائے ،حافظ نعیم الرحمن نے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی اسٹیل مل کے ملازمین کی جدو جہد میں ان کے شانہ بشانہ ہے ۔ فیصلہ واپس نہیں لیا گیا تو ہر ممکن آئینی و قانونی اور جمہوری طریقہ اختیار کیا جائے گا ۔ عدالتوں میں بھی جائیں گے اور سڑکوں پر بھی احتجاج کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم سیاست نہیں ہزاروں مزدوروں کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہونے سے بچانے کے لیے مسئلہ حل کرانا چاہتے ہیں ۔ ہمیں افسوس ہے کہ عدالت عظمیٰ کو اسٹیل مل کے ملازمین اور مسائل کے حوالے سے غلط معلومات اور غلط تصویر دکھائی گئی ہے ۔ امید ہے کہ عدالت ِ عظمیٰ ہزاروں مزدوروں کو انصاف دلائے گی اور بے روزگار ہونے سے بچائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے ۔ اسٹیل مل کے تمام اسٹیک ہولڈرز اور یونینز سے وابستہ افراد ادارے کی بحالی اور اپنے روزگار کے تحفظ کے لیے مل کر جدو جہد کریں ،جماعت اسلامی ان کے ساتھ بھر پور تعاون کرے گی ۔ ہم نے کے الیکٹرک ، بحریہ ٹائون اور نادرا سمیت دیگر مسائل پر عوام کی ترجمانی کی ہے ۔ اسٹیل مل کے ملازمین کو بھی ہم تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔ جدو جہد کو تیز کرنا ہو گا اور آگے بڑھنا ہو گا ، حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ عدالت ِ عظمیٰ کو یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اسٹیل مل کو کس کس نے لوٹا اور تباہ و برباد کیا۔2007ء میں 16ارب روپے کا منافع دینے والا ادارہ 2009ء میں 10ارب روپے کے خسارے میں کس طرح چلا گیا ۔ موجودہ اور ماضی کی حکومتوں نے قومی و حساس نوعیت کے اس ادارے کو چلانے اور بحال کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے ۔ ؟ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اسٹیل مل کی نجکاری اور مزدوروں کو 23لاکھ روپے ملنے کا عندیہ ایک دھوکا اور فریب ہے ۔ آج ریٹائرڈ ملازمین اپنے واجبات کے لیے پریشان ہیں جب ان کے واجبات ادا نہیں کیے گئے تو باقی ملازمین کو رقم کس طرح ادا کر سکیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اور اسد عمر نے وعدہ کیا تھا کہ اسٹیل مل کو چلائیں گے اب ان کو کیا ہوا کہ 9350ملازمین کو نکال کر ادارے کی نجکاری کرنا چاہتے ہیں ۔ اسٹیل مل قومی اثاثہ ہے آج یہ فروخت ہونے جا رہا ہے تو ملک کی ریاست اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی اپنا موقف واضح کرنا چاہیے کہ یہ ادارہ کس کے حوالے کیا جا رہا ہے ۔ اطلاعات آرہی ہیں کہ اٹلی ، پولینڈ اور اسرائیل سے تعلق رکھنے والوں کے حوالے کیا جا رہا ہے سامنے کوئی اور ہو گا اور پس پردہ کوئی اور مالک بن جائے گا ۔ اسٹیل مل کوماہانہ 55کروڑ روپے دینے والے جواب دیں ، کے الیکٹرک کو سالانہ اربوں روپے کی سبسڈی کیوں دی جا تی ہے ۔ پی ٹی سی ایل جیسا منافع بخش ادارہ فروخت کر دیا گیا اب اسٹیل مل کو فروخت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ عاصم بھٹی نے کہا کہ اسٹیل مل کے ملازمین اپنے روزگار اور ادارے کی نجکاری کے فیصلے کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے یہ ہمارے اور ہمارے بچوں کے مستقبل کا معاملہ ہے ۔ مزدوروں نے آج بھر پور اتحاد اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور یہ اتحاد حکمرانوں کو اپنا فیصلہ واپس لینے پر مجبور کر دے گا ۔ ڈاکٹر اسامہ رضی نے کہا کہ ہم مزدوروں کی جدو جہد کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے تمام تر سیاسی وابستگیوں اور اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مزدور اتحاد کا اعلان کیا ہے اور یہ اتحاد مزدوروں کو ان کا حق دلائے گا ۔ اسٹیل مل کے ملازمین اور مزدوروں کو اپنے دوست اور دشمن میں فرق کرنا ہو گا اور ملازمین کے روزگار کے تحفظ اور ادارے کی بحالی کی جدو جہد کرنے والوں کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا ہو گا ۔ ظفر خان نے کہا کہ تمام ٹریڈ یونینز اور ایسوسی ایشنز نے حکمرانوں کو پیغام دیا ہے کہ ان کو یہ فیصلہ واپس لینا ہو گا ۔ مزدوروں کے حق پر شب خون مارنے والوں کا انجام بہت بُرا ہو گا ۔ حکومت نے 9350مزدوروں کی جبری برطرفی اور ادارے کی نجکاری کا فیصلہ واپس نہیں لیا تو یہ اس حکومت کے زوال کا نکتہ آغاز ثابت ہو گا ۔ زاہد عسکری نے کہا کہ مزدوروں کی جدوجہد مزاحمت اور قربانیوں کی جدو جہد ہے ، اسٹیل مل کو بند کرنے اور ملازمین کو نکالنے کے لیے پہلے بھی کوشش کی گئی جو کامیاب نہیں ہو سکی ۔ موجودہ حکومت کے عزائم مزدور اپنے اتحاد سے ناکام بنائیں گے ۔ خالد خان نے کہا کہ محنت کشوں کے معاشی قتل کا فیصلہ نہ صرف مزدور دشمن بلکہ ملک دشمن فیصلہ ہے ۔ اسٹیل مل کے ہزاروں ملازمین اور مزدوروں سے غداری کی گئی ہے ۔ وعدہ تو کیا گیا تھا کہ ادارے کو بحال کر کے چلایا جائے گا اور مزدوروں کے روزگار کو تحفظ دیا جائے گا مگر اس کے برعکس ان کو بے روزگار کیا جا رہا ہے اور ادارے کو اپنے دوستوں کے ہاتھوں فروخت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔