اس سے بڑھ کر جارحیت اور کیا ہوگی؟

406

متین فکری
پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ بھارت آگ سے نہ کھیلے اس کی کسی بھی مہم جوئی کے نتائج ناقابل تدارک ہوں گے۔ ترجمان نے بھارت کو خبردار کیا کہ پاکستان کے خلاف جارحیت کی گئی تو اس کا بھرپور طاقت سے جواب دیا جائے گا۔ اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے آرمی چیف کے ہمراہ آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا اور خطے کی کشیدہ صورت حال پر آئی ایس آئی کے سربراہ سے تفصیلی بریفنگ لی اور اس رائے کا اظہار کیا کہ پاکستان ہر خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی اس سے پہلے آزاد کشمیر کے خلاف بھارت کی ممکنہ جارحیت پر اظہار تشویش کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت آزاد کشمیر کے خلاف فوجی کارروائی کا بہانہ ڈھونڈ رہا ہے لیکن اسے منہ کی کھانا پڑے گی۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقبل مندوب منیر اکرم بھی خطے کی کشیدہ صورت حال پر عالمی ادارے سے خطاب کرچکے ہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنی ذمے داری پوری کرے۔
یہ سارا منظرنامہ ہمیں بتارہا ہے کہ پاکستان کو خطے کی بگڑتی ہوئی صورت حال کا شدت سے احساس ہے اور پاکستانی قیادت پُرعزم ہے کہ بھارت کی جارحیت کا پوری فوجی قوت سے جواب دیا جائے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا بھارت نے ابھی تک کسی جارحیت کا ارتکاب نہیں کیا؟ اور پاکستان اس انتظار میں ہے کہ بھارت کسی جارحیت کا مرتکب ہو تو وہ اسے ٹھوک کر جواب دے۔ تجزیہ کاروں کا موقف ہے کہ پاکستان اس حوالے سے شدید غلط فہمی بلکہ کج فہمی کا شکار ہے۔ اگر پاکستان کشمیر کو اپنی شہ رگ سمجھتا ہے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ بھارت اس کی شہ رگ کو کاٹنے کے لیے مسلسل جارحیت کررہا ہے اور یہ جارحیت اس وقت نقطہ عروج کو پہنچ چکی ہے لیکن پاکستان نے
اس جارحیت کو روکنے کے لیے ایک قدم بھی نہیں اٹھایا۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام خود کو پاکستانی قرار دیتے ہیں، وہ پاکستان کا یوم آزادی پورے جوش و جذبے سے مناتے ہیں، وہ اپنے گھروں پر پاکستانی پرچم لہراتے ہیں، وہ بھارتی فوج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔ پاکستان ان کے جذبات کی تائید کرتا ہے، پاکستانی قیادت ان کے حق میں بیانات دیتی ہے اور ان کے پاکستانی ہونے کو تسلیم کرتی ہے لیکن اس وقت جب کہ وہ بھارت کی شدید جارحیت کا شکار ہیں۔ سرچ آپریشن کے نام پر ان کے نوجوانوں کو مارا جارہا ہے، ان کے بچوں اور کم عمر لڑکوں کو گھروں سے پکڑ کر عقوبت خانوں میں ڈالا جارہا ہے اور وہاں ان پر تشدد کرکے انہیں شہید کیا جارہا ہے، ان کی زمینیں ہتھیائی جارہی ہیں اور ان کی زمینوں پر ہندوئوں کو بسایا جارہا ہے، تو کیا یہ سب کچھ پاکستان کے خلاف جارحیت نہیں ہے؟ جارحیت اور کسے کہتے ہیں؟ لیکن پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت اس سہل اور مضحکہ خیز بیان بازی میں مصروف ہے کہ اگر بھارت نے جارحیت کی تو اس کا بھرپور فوجی قوت سے جواب دیا جائے گا۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے حکمران خواہ وہ فوجی ہوں یا سول بھارت سے حد درجہ مرعوب اور خوف کا شکار ہیں۔ وہ کشمیر پر اپنا حق تو جتاتے ہیں لیکن یہ حق ان پر جو ذمے داری عائد کررہا ہے اسے نبھانے کے لیے تیار نہیں ہیں، وہ محض زبانی جمع خرچ پر یقین رکھتے ہیں اور ان کا دامن عمل سے خالی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے آج تک بھارت سے اپنے معمول کے تعلقات پر نظرثانی نہیں کی۔ بھارت کشمیر میں قیامت ڈھا رہا ہے لیکن ہم اس کے ساتھ دوطرفہ تجارت بھی ختم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ گزشتہ دنوں بھارت سے بے تحاشا ادویات کی درآمد کا اسکینڈل سامنے آیا تھا۔ بھارت سے ایسی ادویات بھی درآمد کی گئیں جن کی پاکستان کو کوئی ضرورت نہ تھی۔ وزیراعظم نے یہ اسکینڈل منظرعام پر آنے کے بعد تحقیقات کا حکم دیا لیکن پھر معاملہ حسب سابق غت ربود ہوگیا۔ بھارت کی پروازیں بھی پاکستان سے گزر رہی ہیں اور اسے افغانستان سے تجارت کے لیے راہداری بھی حاصل ہے۔ پچھلے دنوں بھارت نے پاکستان کے دو سفارت کاروں کو مار پیٹ کر ملک سے نکال دیا لیکن پاکستان کا کوئی جوابی ردعمل سامنے نہیں آیا اس سے پہلے ہوتا یہ تھا کہ بھارت جتنے پاکستانی سفارت کار ملک سے نکالتا تھا پاکستان بھی اتنے ہی بھارتی سفارت کار ملک سے نکال دیتا تھا۔ ’’ادلے کا بدلہ‘‘ پاکستان نے ماضی میں اس اصول کو کبھی نظر انداز نہیں کیا لیکن اب پاکستانی حکمرانوں کی مرعوبیت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ وہ بھارت کے خلاف کوئی ردعمل دینے کو تیار نہیں ہیں۔ البتہ پاک فوج کی یہ کوشش قابل قدر ہے کہ بھارت کا جو جاسوس ڈرون پاکستان کی حدود میں آتا ہے وہ اسے مار گراتی ہے۔
اب پاکستانی حکمرانوں پر یہ خوف طاری ہے کہ کہیں بھارت آزاد کشمیر پر حملہ نہ کردے۔ انٹیلی جنس رپورٹوں کے مطابق بھارت کا اس قسم کا مِس ایڈونچر خارج ازامکان نہیں ہے۔ وہ پہلے بھی آزاد کشمیر پر سرجیکل اسٹرائیک کے دعوے کرتا رہا ہے اور اب بھی ممکن ہے کہ وہ کوئی ایسی حرکت کر بیٹھے جس کا جواب دینے کی پاکستان پوری قدرت رکھتا ہے۔ پاکستان اس سے پہلے بھارت کا ایک حملہ آور طیارہ مار گرا چکا ہے اس کا پائلٹ بھی پاکستان کے قبضے میں آگیا تھا جسے باعزت رہا کردیا گیا۔ اس لیے بھارت کی ممکنہ سرجیکل اسٹرائیک سے پاکستان کو کوئی اندیشہ نہیں۔ پاکستانی حکمرانوں کو اصل خوف اور اندیشہ یہ ہے کہ کہیں بھارت کے ساتھ جنگ نہ چھڑ جائے جو مختصر بھی ہوسکتی ہے اور طویل بھی۔ لیکن عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستانی حکمرانوں کا یہ خوف بالکل بے بنیاد ہے، بھارت اس وقت پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہے وہ چھیڑ چھاڑ تو کرسکتا ہے لیکن اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ وہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں مصروف ہے اور پوری قوت کے ساتھ اس کی ہئیت اور آبادی کا تناسب تبدیل کررہا ہے۔ پاکستان کے زبانی دعوے اپنی جگہ لیکن بھارت جو کچھ کشمیر میں کررہا ہے پاکستان اسے اپنے خلاف جارحیت نہیں سمجھتا۔ اس لیے بھارت کو پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑنے کی کیا ضرورت ہے؟ جنگ تو اس وقت چھڑے گی جب پاکستان اس جارحیت کے خلاف بھارت کے مدمقابل آئے گا اور اسے فوجی قوت سے روکنے کی کوشش کرے گا جس کا امکان بہت کم ہے۔