تبدیلی سرکار

364

فرمان رسول ہے کہ انسان کو وہی ملتا ہے جو کماتا ہے، کمائی کی بہت سے اقسام ہیں۔ دولت و ثروت، عزت و شہرت اور نیک نامی۔ مگر اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ آدمی اپنی محنت سے صاحب زر تو بن سکتا ہے صاحب ہنر نہیں۔ شاعر، ادیب، سنگ تراش، مصور اور حاکم وقت نہیں بن سکتا کہ یہ خدا کی دین ہے۔ فنکار اور حکمران پیدا ہوتے ہیں پیدا نہیں کیے جاسکتے۔ جمہوریت آدمی کو حاکم وقت تو بنا سکتی ہے بادشاہ نہیں بنا سکتی۔ اگر ہم دنیا کی تاریخ پر ایک نظر ڈالیں تو یہ حقیقت کھل کے سامنے آتی ہے کہ دنیا میں جتنے بھی کامیاب اور نیک نام بادشاہ گزرے ہیں وہ اپنے وقت کے بہترین سپہ سالار تھے۔ سپہ سالاری کے بغیر آدمی لاری تو چلا سکتا ہے حکومت نہیں چلا سکتا۔ گلی ڈانڈا تو کھیل سکتا ہے تلوار بازی نہیں کرسکتا۔ شیخ رشید جیسے لوگ عید کے بعد کا جو منظر پیش کیا کرتے تھے اس سے سن کر ہمیں موت کے بعد کا منظر نامی کتاب یاد آجاتی ہے شاید یہ واحد کتاب ہے جیسے ہم نے ایک بار پڑھا ہے دوسری بار پڑھنے کی ہمت ہی نہ ہوئی۔ ہمارے ایک آئی سرجن دوست کا کہنا ہے کہ شیخ رشید قریب ہی کی نہیں دور کی نظر بھی خراب ہے۔ مگر ہم ایسا نہیں سمجھتے ہم نے بار ہا اپنے دوست کو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ بعض آدمیوں کا تکیہ کلام ایسا ہوتا ہے جیسے کوئی بھی اجنبی سن کر پیش گوئی سمجھنے لگتا ہے۔ شیخ رشید کا تکیہ کلام ہے وہ ایسا نہیں دیکھ رہے ہیں یا وہ ایسا دیکھ رہے ہیں ان کا المیہ یہ بھی ہے کہ ان کے موکل بھی دیکھنے اور سننے کی قوت سے محروم ہیں۔ بد نصیبی یہ بھی ہے کہ کسی بھی حکومت کی پارٹی کو اس کی بغل میں ایک شہزادہ ضرور ہوتا ہے جو شہنشاہ معظم بن کر بادشاہ وقت کے مخالفین کے ایسے ایسے جرائم ڈھونڈ لاتا ہے جس کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہوتا۔ اور ستم بالایہ ستم یہ کہ ان پر ایسے ایسے مقدمات دائر کیے جاتے ہیں جن پر یقین کرنے کے بجائے ہنسی آتی ہے۔ چودھری ظہور الٰہی مرحو م پر بھینس چوری کا مقدمہ بنایا گیا مگر بھینس برامد نہ ہوسکی۔
بہت پرانی بات ہے ایک کمشنر کی بھینس چوری ہوگی۔ مقامی اخبار نے خبر لگائی جس کی سرخی تھی کہ کمشنر کی بہن چوری ہوگئی ہے۔ پولیس کو وفا داری نبھانے کا موقع مل گیا۔ اس نے ایڈیٹر کو بلا کر کمشنر کے حضور پیش کردیا کمشنر صاحب نے بہت برا بھلا کہا جی بھر کر دل کی بھڑاس نکالی۔ ایک SHO نے مشورہ دیا کہ حضور والا ایڈیٹر سے کہو کہ خبر کی اچھی طرح تردید لگائے اور کمشنر صاحب سے معذرت کرے اندھا کیا چاہے دو آنکھیں ایڈیٹر نے بڑی خوشدلی سے حکم کی تکمیل کی یقین دہانی کرائی اور دوسری صبح جو تردید لگائی گئی اس نے کمشنر صاحب کے تن بدن میں آگ لگا دی۔ تردید بڑی قابل دید تھی تردید کی سرخی تھی کمشنر صاحب کی بہن نہیں بھینس چوری ہوگئی ہے اور معذرت کرتے ہوئے خبر میں کہا گیا کہ کل کے اخبار میں غلطی سے کمشنر صاحب کی بھینس کو بہن لکھ دیا گیا تھا جس پر ادارہ معذرت خواہ ہے۔ اور یقین دلاتا ہے کہ آئندہ کبھی کمشنر صاحب کی بہن کو بھینس نہیں لکھا جائے گا۔ تردید پڑھ کر کمشنر صاحب بہت ناراض ہوئے پولیس نے اپنی کارکردگی دکھانا چاہی تو کمشنر صاحب کو سمجھا گیا سر! یہ معاملہ پولیس کے سپرد کرنا ہی نہیں چاہیے تھا ایڈیٹر کو بلا کر اخبار دکھا دیتے تو سارا معاملہ احسن طریقے سے سر انجام پا جاتا مگر پولیس نے اپنی کارکرگی دکھانے کے لیے ایڈیٹر کو بلا کر اس کی بے عزتی کی ہوگی اور اپنی وردی کا رعب جھاڑا ہوگا نتیجہ آپ کے سامنے ہے ایسے واقعات پر ایکشن لینے سے رسوائی اور جگ ہنسائی کے سوا کچھ نہیں ملتا۔
تبدیلی سرکار کی حکومت میں تو ہر ادارے کا سربراہ کمشنر بنا ہوا ہے وزیر اعظم عمران خان کی نظر میں تبدیلی کا مقصد ان کا وزارت عظمیٰ کی کرسی پر براجمان ہونا تھا سو تبدیلی آگئی ہے بھٹو مرحوم نے بھی ایک فورس بنائی تھی مگر اس کا انجام کیا ہوا۔۔۔؟ وزیر اعظم عمران خان نے ٹائیگر فورس بنائی ہے حالانکہ ٹڈی دَل کو روکنے کے لیے فورس بنانے کی ضرورت تھی۔ ہمیں یاد ہے کہ ریلوے اسٹیشن بغداد الجدید کے سامنے ایک بہت بڑا دفتر ہوا کرتا تھا جیسے مکڑی مار کہا جاتا تھا۔ جو دارصل ٹڈی دل مار محکمہ تھا۔ یہ ادارہ ٹڈی دل کے حملہ آور ہونے سے پہلے ہی اس پر حملہ آور ہوجاتا تھا۔ اور کم سے کم فصلوں کو نقصان ہوتا تھا۔ مگر جب کئی برسوں تک ٹڈی دل حملہ آور نہ ہوا تو حکومت بھی مورچے سے باہر آگئی۔ اس نے سوچا کہ ٹڈی دل تو حملہ آور نہیں ہورہا ہے تو اس محکمے کا کیا فائدہ اور یوں قومی خزانے کو بچانے کے لیے کاشت کاروں کو چارے کے طور پر استعمال کیا گیا۔ کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ عمران خان ٹائیگر فورس بنانے کے بجائے ٹڈی دل مار فورس بناتے ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے قوم کا مضبوط ہونا بہت ضروری ہوتا ہے۔ اگر ملک کی معیشت مضبوط ہو اور قوم معاشی طور پر کمزور ہو تو اس کا فائدہ ملک کو ہوتا ہے نہ قوم کو البتہ حکمرانوں کو من مانی کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ ان دنوں حکومت کورونا کورونا کی رٹ لگا رہی ہے اور قوم کو یہ ہدایت کررہی کہ کورونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے پڑ جائو وزیر اعظم عمران خان اور ان کے مشورہ بازوں کو یہ علم نہیں کہ مسلمان دن میں آٹھ بار ہاتھ دھوتا ہے فجر کی نماز سے قبل وضو کرتا ہے اکثر لوگ فجر کی نماز سے پہلے غسل بھی کرتے ہیں پھر ناشتے کے بعد صابن سے ہاتھ دھوتے ہیں اسی طرح دیگر نمازوں سے پہلے وضو کرتے ہیں دوپہر اور رات کا کھانا کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھوتے ہیں۔ آپ کسی بھی اسپتال میں چلے جائیں پرچی بنوانے کے لیے لائن میں کھڑے مریض ایک دوسرے سے پیوست ہوتے ہیں۔ مگر کوئی توجہ نہیں دیتا ڈاکٹر صاحب کے کمرے میں جانے کے لیے جو قطار لگوائی جاتی ہے اس کے لیے چہرے پر ماسک اور سماجی فاصلے پر بڑی سختی سے عمل کرایا جاتا ہے۔ اور قطار میں لگے مریض اپنے گریبان میں جھانک کر سوچتے ہیں کہ عمران خان نے اسی تبدیلی کے لیے ووٹ مانگا تھا۔