قول و فعل کا بڑھتا ہوا تضاد

381

وزیر اعظم عمران خان نیازی کی وجہ شہرت نہ تو ان کی گڈ گورنینس ہے اور نہ ہی ان کا ایفائے عہد ۔ افسوسناک طور پر ان کی وجہ شہرت ان کا یوٹرن ہے ۔ یعنی وہ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں ۔ یوٹرن کا مطلب یہ ہے کہ وہ جو بھی وعدہ کرتے یا اعلان کرتے ہیں ، عمل اس کے بالکل برعکس کرتے ہیں ۔ ایک عام آدمی کا بھی اگر یہ وتیرہ ہو تو اسے اچھا نہیں سمجھا جاتا چہ جائیکہ ملک کا سربراہ ہی یہ سب کچھ ببانگ دہل کررہا ہو اور اس پر شرمندہ بھی نہ ہو ۔ جمعہ ہی کو بجٹ سے متعلق ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں انہوں نے کہا کہ حکومتی توجہ روزگار کے مواقع پید اکرنے پر مرکوز ہے ۔اسے نرم سے نرم الفاظ میں وزیر اعظم عمران خان کے قول و فعل کا تضاد ہی کہا جاسکتا ہے کہ مذکورہ اجلاس سے ایک روز قبل ہی انہوں نے پاکستان اسٹیل ملز کے نو ہزار سے زاید ملازمین کو برطرف کرنے کی منظوری دی تھی ۔ انہوں نے تمام نجی اداروں کو اس امر کا پابند کیا تھا کہ وہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملازمین کو برطرف نہیں کریں گے اور نہ ہی ان کی تنخواہوں میں کسی قسم کی کٹوتی کی جائے گی مگر سرکار کے زیر انتظام قومی فضائی کمپنی پی آئی اے نے بھی چند روز قبل ہی ملازمین کی تنخواہوں میںنہ صرف 25 فیصد تک کٹوتی کا اعلان کیا ہے بلکہ اس پر عملدرآمد بھی شروع کردیا ہے ۔ پی آئی اے میں تنخواہوں میں کٹوتی کرنے کا اعلان کرنے والی انتظامیہ کا اپنا یہ عالم ہے کہ اس کی اکثریت پاک فوج اور پاک فضائیہ سے ڈپوٹیشن پر پی آئی اے میں آئی ہوئی ہے اور ڈبل تنخواہ کے مزے لوٹ رہی ہے ۔ایک جانب وزیر اعظم عمران خان ملک کے ایک کروڑ بے روزگار نوجوانوںکو روزگار دینے کا وعدہ کرکے برسراقتدار آئے تھے تو دوسری جانب ان کی اپنی وزارت خزانہ یہ مژدہ سنارہی ہے کہ صرف کورونا بحران سے ہی 30 لاکھ افراد بے روزگار ہوں گے ۔ وزارت خزانہ نے مزید خدشہ یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ ملک کی موجودہ صورتحال میں غربت کی موجودہ شرح 24.3 ہے جو اب مزید بڑھ کر 33.5 فیصد ہوجائے گی ۔ وزیر اعظم عمران خان کو اقتدا ر میں آئے دو برس مکمل ہونے کو ہیں اور وہ اب تیسرا بجٹ پیش کرنے جارہے ہیں ۔ ان کی اور ان کی ٹیم کی کارکردگی سب کے سامنے ہے ۔ اقتدار میں آتے ہیں انہوں نے آئی ایم ایف کے کہنے پر پاکستانی روپے کی جو ناقدری کا جھٹکا پہنچایا تھا ، اسی سے یہ قوم ابھی تک نہیں سنبھل سکی ہے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے جتنے بھی معاشی اقدامات کیے ، ان کے منفی نتائج بھی سب کے سامنے ہیں ۔ کورونا کے نام پر لاک ڈاؤن کو ہی دیکھا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ حکمرانوں نے کس طرح سے اس قوم کو بے وقوف بنایا ہے ۔ آدھے تیتر آدھے بٹیر کی طرح نہ تو مکمل لاک ڈاؤن ہی کیا گیا اور نہ ہی کھولا گیا ۔ اس کا سب سے برا نتیجہ معیشت کی تباہی کی صورت میں نکلا ہے ۔ کورونا کے پہلے مریض کی نشاندہی کو سو دن سے زاید ہوگئے ہیں ، اُس دن سے لے کر آج تک تعلیمی ادارے مستقل بند ہیں جبکہ معاشی سرگرمیاں بحال ہی نہیں ہونے دی جارہی ہیں ۔ سو جوتے سو پیاز کھانے سے بہتر تھا کہ حکومت پورے ملک میں 14 دن کا ایک مرتبہ ہی مکمل لاک ڈاؤن کردیتی اور کرفیو لگادیتی ۔ کسی کو باہر نکلنے کی اجازت نہ ہوتی ۔ اس طرح کم ازکم 14 دن بعد تو ملک میں تعلیمی و معاشی سرگرمیاں بحال ہوجاتیں ۔ اس وقت بھی وزیر اعظم عمران خان ایک سانس میں کہتے ہیں کہ ملک مزید لاک ڈاؤن برداشت نہیں کرسکتا تو دوسری سانس میں کہتے ہیں کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن کی صورت میں مزید سختی کی جائے گی ۔ کورونا کے سو دنوں میں وفاقی اور تمام ہی صوبائی حکومتیں بری طرح بے نقاب ہوگئی ہیں ۔ کسی ایک حکومت یا ادارے نے ملک میں طبی سہولتوں میں اضافے کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں دی ۔ سب مل بانٹ کر پانچ سو ارب روپے کھا گئے اور اس کے نتیجے میں قوم کو اسپتالوں کے باہر لگے بینر پڑھنے کو مل رہے ہیں کہ ان کے اسپتال میں اب مریضوں کے لیے جگہ نہیں ہے ۔ یہ سب کچھ بھی جان بوجھ کر کیا گیا کہ اسپتالوں میں محض پچاس بستر مختص کیے گئے ہیں ، ایسے میں تین کروڑ کی آبادی والے شہر کے مریض عام دنوں میں رُل جاتے ہیں تو یہ پھر بھی سرکاری زبان میں وبائی صورتحال ہے ۔کورونا کے نام پر مسلسل قرض لینے کا عمل جاری ہے جسے طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے سارے ہی کھلاڑی مل جل کر کھا جائیں گے اور اس کی ادائیگی مع بھاری سود کے یہی قوم کرے گی ۔ کورونا کے نام پر اب ایشیائی ترقیاتی بینک سے 30 کروڑ ڈالر قرض لینے کا معاہدہ کرلیا گیا ہے ۔ اس رقم سے نہ تو طبی سہولتوں میں کوئی اضافہ ہوگا اور نہ ہی بہتری آئے گی ۔ ڈاکٹر حفاظتی سامان کے لیے مظاہرے کرتے رہیں گے تو عام شہری اسپتالوں میں داخلے کے لیے رُل رہے ہوں گے ۔ سرکاری اسپتالوںمیں طبی سہولتیں کس معیار کی ہیں ، اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ کراچی میں واقع جناح اسپتال کی سربراہ اور ان کے شوہر جو خود بھی جناح اسپتال میں پروفیسر ہیں ، حال ہی میں بیمار پڑے تو جناح اسپتال میں داخل ہونے کے بجائے انہوں نے ایک نجی اسپتال کا رخ کیا ۔عوام کو رہنے کے لیے چھت ، صحت و تعلیم کی بنیادی سہولتیں اور روزگار کی فراہمی حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔ اگر عمران خان اور ان کی ٹیم یہ ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی تو اصولی طور پر انہیں اقتدار سے اتار کر ان کا احتساب کیا جانا چاہیے ۔ نہ صرف عمران خان اور ان کی ٹیم کا بلکہ اصولی طور ان سلیکٹرز کا بھی احتساب ہونا چاہیے ،جنہوں نے ان نااہل اور بدعنوان افراد کو قوم کی گردنوں پر مسلط کیا ۔عمران خان نیازی اور ان کی ٹیم صرف یہ کہہ کر بری الذمہ نہیں ہوسکتی کہ ملک کے معاشی حالات خراب ہیں اس لیے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کرسکتے ۔ اگر ملک کے معاشی حالات خراب ہیں تو اس کے اثرات سب پر یکساں طور پر پڑنے چاہییں ۔ یہ کون سا اصول ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور مراعات میں منہ مانگا اضافہ کردیا جائے اور ایک عام آدمی کو مہنگائی ، بجلی اور گیس کے زاید بل اور لوڈ شیڈنگ کی صورت میں غربت کے سمندر میں ڈبودیا جائے ۔ اصولی طور پر تو مہنگائی میں رواں مالی سال میں جتنا اضافہ کیا گیا ہے ، اتنا اضافہ فوری طور پر سارے ملازمین کی تنخواہوں میں کیا جائے۔ پٹرول کی قیمتوں میں عالمی کمی کے ثمرات کو قوم تک پوری طرح پہنچایا جائے اور فوری طور پر گیس اور بجلی کے نرخوں میں بھی کمی جائے تاکہ صنعتوں کا پہیہ گھوم سکے ۔ ارکان پارلیمنٹ کو پابند کیا جائے کہ انہیں صحت کی سہولتیں سرکاری اسپتال کے سوا کسی اور اسپتال میں فراہم نہیں کی جائیں گی اور نہ ہی انہیں علاج کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت ہوگی۔ اسی طرح ان کے بچوں کو بھی صرف سرکاری تعلیمی اداروں میں داخلے کا پابند کیا جائے ۔ ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہیں گریڈ 17 کے مساوی کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں ۔ جب بھی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ہوگا ، ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں بھی ازخود اضافہ ہوجائے گا ۔ اسی طرح وزیروں، مشیروں اور معاونین کی فوج کو کم کیا جائے تاکہ ملک کی خزانے پر پڑنے والے بوجھ کو کم سے کم کیا جاسکے ۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ کا کام قانون سازی ہے ، ان کی تعداد میں بھی کمی کی جانی چاہیے ۔ علاقے کے مسائل کے حل کے لیے صوبائی اسمبلی اور بلدیاتی ادارے موجود ہیں، ان ہی اداروں کو درست استعمال کیا جانا چاہیے ۔ سرکار کو علم ہونا چاہیے کہ جب تک آئی ایم ایف کے املا پر چلتے رہیں گے ، اس وقت تک ملک یونہی پسماندگی کی دلدل میں دھنستا رہے گا ،بہتر ہوگا کہ ایک مرتبہ آئی ایم ایف کو نہ کہنے کا حوصلہ کرلیں ۔ کورونا کے نام پر جتنے بھی اخراجات صوبائی اور وفاقی حکومت یا دیگر اداروں نے کیے ہیں ، انہیں عوام کے سامنے پیش کیا جائے ۔ یہ عوام کا حق ہے کہ انہیں پتا چلنا چاہیے کہ ان کے حقوق پر دن دہاڑے کس نے اور کس طرح سے ڈاکا ڈالا ۔