گراں فروشی کیلیے ذخیرہ کرنا افلاس اور وبا کا باعث ہے،مفتی نعیم

55

کراچی(اسٹاف رپور ٹر)گراں فروشی کیلیے ذخیرہ کرنا افلاس اور وبا کا باعث ہے،موجودہ حالات میں توبہ استغفار کرنے کے بجائے چیزوں کو ذخیرہ کرنا اللہ کے عذاب کو دعوت ہے ،ملک میں بیروزگاری اور نامواقف حالات کومدنظر رکھتے ہوئے ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی کا خاتمہ کیاجائے ۔ ہفتہ کو جامعہ بنوریہ عالمیہ سے جاری بیان میں رئیس وشیخ الحدیث مفتی محمد نعیم نے کہاکہ کورونا کی صورتحال دن بدن ملک میں خراب تر ہوتی جارہی ہے، تیزی سے کیسز بڑھ رہے ہیں اس وبا سے اللہ کے علاوہ کوئی بھی نہیں بچا سکتا، قوم کے پاس وقت ہے وہ اللہ کی طرف رجوع کرے، انہوں نے کہاکہ خطرے کے حالات میں احتیاطی تدابیر نہ اپنانا خود کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے، اس لیے ضروری ہے کہ قوم معمولات زندگی میں احتیاطی تدابیر کو بھرپور اپنائیں ۔ انہوںنے کہاکہ وبائی صورتحال کے گراف میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے اور دوسری جانب اسٹیل مل کے ملازمین کو فارغ کرکے مزید ہزاروں افراد کی روزی روٹی چھینی جارہی ہے۔انہوںنے کہاکہ جب سے وبا شروع ہوئی ہے مارکیٹ میں چیزوں دگنی قیمت سے عوام خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ ضروری اشیا کی ذخیرہ اندوزی بھی عروج پر ہے لیکن اس تمام تر صورتحال میں حکومت کہیں دکھائی نہیں دے رہی ہے ، انہوںنے کہاکہ مسلمان تاجر کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مشکل وقت میں اپنی طرف سے عوام کیلیے آسانیاں پیداکریں لیکن یہاں صورتحال مختلف دکھائی دے رہی ہے ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی عروج پر پہنچ چکی ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں ،حکومت فی الفور ذخیرہ اندوزی اور گراں فروشی کیخلاف عملی اقدامات کرے۔