سربراہ اے اے آئی بی ائر کموڈور عثمان غنی آج وطن واپس پہنچیں گے

46

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی میں پی آئی اے کے تباہ ہونے والے طیارے کے فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر اور کاک پٹ وائس ریکارڈر کے ڈی کوڈ ہونے اور اس کی تجزیاتی رپورٹ مکمل ہونے کے بعد پاکستان میں ہوائی جہاز کے حادثوں کی تحقیقات کرنے والے ادارے ائر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن (اے اے آئی بی ) کے سربراہ ائر کموڈورعثمان غنی اتوار کو وطن واپس پہنچ جائیں گے ۔ ائرکموڈور عثمان غنی کو وطن واپس لانے کے پی آئی اے کی خصوصی پرواز PK8734 کے ذریعے اسلام آباد پہنچیں گے ۔ فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر اور کاک پٹ وائس ریکارڈ کو مذکورہ آلات بنانے والی کمپنی بی ای اے کیے فرانس میں واقع فیکٹری میں ڈی کوڈ کیا گیا ۔ ڈی کوڈ کرنے اور تجزیہ کرنے کے عمل میں اے اے آئی بی اور ائربس کے علاوہ ای اے ایس اے اور سی ایف ایم کی طرف سے سافران ائرکرافٹ انجنز کے نمائندوں نے بھی حصہ لیا ۔ پی آئی اے کا بدقسمت جہاز 22 مئی کو کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائرپورٹ کے نزدیک ماڈل کالونی پر گر کر تباہ ہوگیا تھا جس میں 97 افراد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ دو افراد خوش قسمتی سے معمولی زخمی ہوئے تھے ۔ وفاقی وزیر ہوابازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ جہاز کی تباہی کی وجوہات کے بارے میں ابتدائی رپورٹ 22 جون کو عوام کے سامنے پیش کردی جائے گی ۔ اے اے آئی بی کی ٹیم وطن واپسی کے بعد ڈی کوڈ ہونے والی رپورٹ کی روشنی اور جائے حادثہ پر ملنے والے شواہد کی روشنی میں اپنی رپورٹ مرتب کرے گی ۔ واضح رہے کہ حادثے کے تین ہی ادارے جہاز بنانے والی کمپنی ائر بس ، سول ایوی ایشن اتھارٹی اور پی آئی اے ہی ممکنہ طور پر ذمہ دار ہوسکتے ہیں ۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ڈائریکٹر آپریشنز نے چند دن قبل ہی ایک خط کے ذریعے واضح کیا ہے کہ پائلٹ نے ائرٹریفک کنٹرولر کی ہدایات پر عمل نہیں کیا جبکہ ائر بس نے سنیچر کو تمام فضائی کمپنیوں کے نام ایک مکتوب میں واضح کیا ہے کہ وہ ائر بس استعمال کرنے والوں کو لیے کوئی حفاظتی سفارشات جاری نہیں کررہی ۔ اس طرح سے ان دونوں اداروں نے تحقیقات مکمل ہونے سے قبل ہی اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دینے اور تحقیقات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے ۔