ایران مقررکردہ حد سے 8 گنا زیادہ یورینیم ذخیرہ کررہا ہے، اقوام متحدہ

181

اقوام متحدہ کے جوہری نگران کا کہنا ہے کہ ایران جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ ایران نے معاہدے میں مقررکردہ  یورینیم کی مقدار سے 8  گنا زیادہ یورینیم جمع کرلیا  ہے۔

غیر ملکی نیوز ایجنسی کے مطابق اقوام متحدہ کے جوہری نگران نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران 2015 کے جوہری معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایران نے مبینہ طور پر یورینیم کو 4.5 فیصد تک خالص کرنا شروع کردیا ہے جبکہ معاہدے کے مطابق یورینیم کو 3.67 فیصد تک خالص کرنے کی اجازت ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ایران نے 2015 میں ہوئے جوہری معاہدے میں مقرر کردہ حد سے آٹھ گنا زیادہ یورینیم جمع کرلیا ہے۔ 19 فروری 2020 کو ایران کے پاس 1،020.9 کلوگرام یورینیم ذخیرہ تھا جو کہ 20 مئی کو 1،571.6 کلوگرام تک پہنچ گیا ہے جبکہ مقرر کردہ حد کے مطابق ایران کو صرف 202.8 کلوگرام (447 پاؤنڈ) یورینیم ذخیرہ کرنے کی اجازت ہے۔

واضح رہے کہ ایران نے 2015 میں امریکہ ، جرمنی ، فرانس ، روس ، چین اور یورپی یونین کے ساتھ مشترکہ جامع منصوبہ بندی (جے سی پی او اے) پر دستخط کیا تھا جس کے تحت ایران کو مخصوص مقدار سے زیادہ یورینیم جمع کرنے پر پابندی تھی۔