گٹھیا (Arthritis) کا علاج، کیسے؟

311

گٹھیا (Arthritis) کی صحیح تشخیص کامیاب علاج کی طرف پہلا قدم ہے۔

آپ کا ڈاکٹر آپ کی علامات کا بغور مطالعہ کرنے سے Arthritis کی صحیح تشخیص  کرے گا جیسے کہ جوڑوں کی سوجن، حرکت میں کمی، خون کے ٹیسٹ اور x-rays کی مدد سے۔

ایکسرے اور خون کے ٹیسٹ سے ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ مریض کو Arthritis  کی کونسی قسم ہے، یہ بھی پتہ چل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر Arthritis  کی ایک قسم Rheumatoid Arthritis  ہے جس میں زیادہ تر افراد کے خون میں (RF) نامی اینٹی باڈیز پیدا ہوجاتی ہیں جو کہ دوسری قسموں میں نہیں ہوتیں۔

گٹھیا کی ایک اور قسم osteoarthritis ہے جس کی تشخیص کیلئے عام طور پر ایکس رے کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں ہڈیوں کا کمزور ہونا، ہڈیوں کے سرے پر اضافی ہڈیوں کا بن جانا اور شدید کیسز میں ہڈیوں کا آپس میں رگڑ کھانا جیسی علامات ہوتی ہیں۔

کبھی کبھی آرتھرائٹس کی اس قسم اور باقی دوسری قسموں میں تفریق کرنے کیلئے جوڑوں کے سیال کا ایک چھوٹا سا نمونہ نکالا جاتا ہے اور اس کو جانچا جاتا ہے۔ جب آپ کے ڈاکٹر کو شبہہ ہوتا ہے کہ Arthritis کسی دوسری بیماری کا نتیجہ ہے تو وہ جوڑوں سے نکالے جانے والے سیال کی مدد سے ہی اُس کی تشخیص اور اُس کے ممکنہ علاج کی طرف بڑھتا ہے۔

گٹھیا کے علاج میں عام طور پر آرام، جسمانی تھراپی، ورزش، ادویات اور بعض اوقات سرجری شامل ہوتی ہے۔

Osteoarthritis کا علاج درد اور جوڑوں کی سختی کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے لیکن اس بیماری میں وقتاً فوقتاً مزید اضافہ ہوسکتا ہے مگر حالیہ برسوں میں معالجے کے جدید طریقوں کے باعث اب اس بیماری کی شدت میں مزید اضافے کو کم یا روکا جاسکتا ہے۔

ایک بات کا خاص خیال رکھیں جسے اکثر مریض اہمیت نہیں دیتے اور وہ یہ کہ Arthritis کا علاج مکمل طور پر ہسپتال یا طبی عملے پر منحصر نہیں کرتا بلکہ اس میں مریض خود اپنی قوتِ ارادی اور انفرادی طور پر احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے اپنے معالج کی مدد بھی کرسکتا ہے جسے کہ:

1) ایسی حرکات و سکنات سے پرہیز کریں جو آپ کے جوڑ پر زیادہ دباؤ ڈالیں۔

2) ایسے جوڑ جو کمزور ہیں کو، اُن کو استمعال کرنے کے بجائے اپنے مظبوط جوڑوں سے مدد لیں۔

3) متاثرہ جوڑوں پر حفاظتی آلات کا استعمال اپنا معمول بنائیں۔

4) غسل خانے میں جسمانی حرکت کو سہارا دینے کیلئے دیوار پر لگی سلاخوں کا استعمال کریں۔

5) باآسانی کھُلنے والے ترمیم شدہ دروازوں کے ہینڈلز ، چلنے میں معاون جدید چھڑی یا walker کا استعمال کریں۔

6) بوتلوں کو کھولنے، موزے پہننے اور دیگر کام جن میں جوڑوں پر زور پڑتا ہو، ایسے کاموں کیلئے معاون آلات کا استعمال کریں۔