قدیم صنعت و حرفت جس کے سامنے جدید سائنس بھی ماند پڑگئی

661

آج کی سائنس نے بھلے کتنی ہی ترقی کرلی ہو لیکن جدید ماہرین و سائنسدان بھی جب قدیم صنعت و حرفت یعنی قدیم زمانوں میں ایجاد کی گئی ٹیکنالیوجیز کا مطالعہ کرتے ہیں تو اُن کی بھی عقل دنگ رہ جاتی ہے اور سوال کیا جاتا ہے کہ پرانے لوگوں نے یہ کام جدید مشینوں و آلات کی عدم موجودگی میں کیسے سر انجام دیا؟۔

کئی ایسی دریافتیں ہیں جن کے بارے میں جدید سائنس تاحال الجھن کا شکار ہے۔ ذیل میں چند ایسی قدیم ٹیکنالوجیز کا ذکر کیا جارہا ہے۔

 

1) یونانی آگ

ساتویں اور بارہویں صدی کے درمیان بازنطینی سلطنت گزری ہے جو کہ اپنے وقت کی طاقتور اور سائنسی علوم کے لحاظ سے عظیم سلطنتوں میں سے ایک تھی۔

اس دور میں چونکہ فضائی جنگوں کا رواج نہیں تھا اس لئیے جنگیں بحری یا زمینی ہوتی تھیں۔ بازنطینیوں کی بحری جنگوں کے حوالے سے تاریخ میں آتا ہے کہ یہ اپنے دشمنوں پر ایک پراسرار مادے کا استعمال کرتے تھے جو پانی میں جلتا تھا۔

یہ مائع نالیوں سے آگ کی صورت میں نکلتا تھا اور دشمن اور اُن کی کشتیوں کو جلا دیتا تھا۔اس آگ کو صرف سرکہ، ریت اور پیشاب سے بجھایا جاسکتا تھا۔

سائنسدان اور ماہرین ابھی تک نہیں جان پائے کہ یہ کیمیائی ہتھیار کیا تھا اور یہ کیسے تیار ہوتا تھا؟۔

 

2) لچکدار کانچ

اس کی ایجاد کا واقعہ ہمیں قدیم مصنف پیٹرنیوس (63 AD) کی تحاریر میں ملتا ہے۔پیٹرنیوس نے ایک شیشہ ساز کے بارے میں لکھا ہے جس نے 14 تا 37 عیسوی میں شہنشاہ ٹائبیریس کو ایک شیشے کا برتن پیش کیا۔ پیش کرنے بعد اس نے شہنشاہ سے برتن واپس مانگا۔ جب شہنشاہ نے اُسے برتن واپس دیا تو شیشے ساز نے وہ کانچ کا برتن زمین پر دے مارا لیکن برتن ٹوٹا نہیں بلکہ وہ مُڑ گیا۔ شیشہ ساز نے پھر اُسے سخت چیز سے ٹھوکر مار کر دوبارہ اپنی اصلی حالت میں کردیا۔

کہا جاتا ہے کہ شہنشاہ ٹائبیریس نے ایسی قیمتی دھاتوں کی بےقدری کے ڈر سے موجد کا سر قلم کرنے کا حکم دے دیا تاکہ اس حیران کُن ایجاد کا راز اس کے ساتھ ہی ختم ہوجائے۔

3) ہر زہر کا تریاق

کہا جاتا ہے کہ تمام زہروں کے توڑ کیلئے ایک “آفاقی تریاق” تیار کیا گیا تھا جس کا سہرہ پونٹس کے بادشاہ میتھریڈیٹس ششم کو جاتا ہے جس کی حکومت کا دورانیہ 120-63 قبل مسیح ہے مگر اس تریاق کو مزید موثر شہنشاہ نیرو کے ذاتی معالج نے بنایا تھا۔

وقت کے ساتھ اس آفاقی تریاق کا اصل فارمولا کھو گیا ہے لیکن قدیم مورخین کی تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے اجزاء میں افیون ، کٹے ہوئے زہریلے سانپ، اور مختلف زہروں کے مجموعے کی مخصوص  مقدار اور ان کی دواؤں کا مجموعہ شامل تھا۔ اس تریاق کا نام بادشاہ Mithridates کے نام پر Mithridatium رکھا گیا تھا۔

 

4)  سورج کی شعائیں بطور ہتھیار

212 قبل مسیح کے مشہور معروف یونانی ریاضی دان ارشیمیدس نے اپنے ملک کیلئے سورج کی کرنوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے والا آلہ ایجاد کیا تھا۔

یہ دراصل کانسی (Bronze) کا مجوف شکل کی ایک بڑی سی گول پلیٹ ہوتی تھی جو کسی قلعے یا پہاڑ پر رکھ دی جاتی تھی اور اُس کا رُخ سورج کی طرف کردیا جاتا تھا۔جب سورج کی شعائیں اس کانسی پر پڑتی تھیں اور منعکس ہوکر دشمنوں کے جتھے پر پڑتی تھیں تو شدید گرم شعاؤں کے باعث کرنوں میں سخت تپش پیدا ہوجاتی تھی اور دشمن جل جاتے تھے۔

5) رومن سیمنٹ

ہزاروں سال تک باقی رہ جانے والی قدیم رومن تعمیرات کے ڈھانچے آج کے دور میں استعمال ہونے والی سیمنٹ کو منہ چڑاتے دکھائی دیتے ہیں جو 50 سال کے اندر اندر کھوکلے اور کمزور ہوجاتے ہیں۔

محققین نے حالیہ برسوں میں ان قدیم رومن کی تعمیرات میں استعمال ہونے والی سیمنٹ کی لمبی عمر کا سبب آتش فشاں سے پھٹنے والے لاوا کی راکھ کو بتایا ہے کہ کس طرح رومن لاوا کی راکھ کو دیگر چیزوں میں ملا کر اپنی عمارتوں کی تعمیر کرتے تھے۔

6) دمشق کی فولاد (Damascus Steel)

قرون وسطیٰ میں تیار کی جانے والی تلواریں دمشق اسٹیل نامی مادے سے تیار کی جاتی تھیں جو کہ ایشیا سے Wootz steel نامی خام مال کی برآمد سے تیار ہوتی تھی۔ یہ حیران کُن حد تک مظبوط تھی اور اس کا راز برقیاتی خردبین (Electron microscope) کی ایجاد تک راز ہی تھا کیونکہ اس فولاد کا وجود 18ویں صدی تک ناپید ہوچکا تھا۔

Electron Microscope کی مدد سے دمشق فولاد کے معائنے سے جو بات پتہ چلی وہ یہ کہ فولاد میں دیگر مادے بھی کیمیائی طریقوں سے ملائے جاتے تھے جس سے فولاد میں مزید مظبوطی آجاتی تھی۔ شامل کئیے جانے والے مادوں میں موٹی دار چینی، Milkweed پودے کے اجزا، وینیڈیم، میگنیز، کوبالٹ، نکل، کرومیم اور دیگر دھات جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کو ہندوستان سے نکالا گیا ہوگا، تھے۔