سندھ کی بیورو کریسی کی ہٹ دھرمی،سیای ٹی پی منصوبے پر کام بند کرادیا

74

کراچی ( رپورٹ : محمد انور ) حکومت سندھ کی بیورو کریسی نے صنعتوں سے خارج ہونے والے گند آب کی ٹریٹمنٹ کے بڑے منصوبے ( کمبائنڈ ایفولینٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس) پر کام روک دیا ہے جس کے نتیجے میں اس منصوبے کی لاگت 11 ارب روپے سے بڑھ کر 24 ارب روپے تک پہنچ جانے کا خدشہ ہے۔ دوسری طرف زہریلے گند آب کی وجہ سے سمندری حیاتیات کو یومیہ بنیادوں پر نقصانات کا سامنا ہے بلکہ ان میں اضافہ بھی ہورہا ہے۔ خیال رہے کہ اس منصوبے پر 2018 ءسے عملی کام شروع کردیا گیا تھا اور اس کے ٹینڈرز بھی طلب کیے جاچکے تھے۔ لیکن ٹینڈرز ایوارڈ کے جانے کے بعد حکومت کے ادارے سندھ پبلک پریکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی ( سیپرا ) نے اعتراض کردیا جس پر پروجیکٹ ڈائریکٹر نے مذکورہ اعتراض کو بلاجواز قرار دے کر حکام کو رپورٹ بھیج دی تھی مگر اس کے باوجود گزشتہ سال اکتوبر سے پروجیکٹ پر کام بند کرادیا گیا اور اس کے فنڈز روک لیے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پروجیکٹ کے حوالے سے سندھ گورنمنٹ کے بعض اعلیٰ افسران اپنے کمیشن کے حوالے سے حتمی بات طے کرانا چاہتے تھے جس پر پروجیکٹ انجینئر نے بات کرنے سے انکار کردیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ڈی کی طرف سے کمیشن کی بات پر کوئی واضح جواب دینے کا نتیجہ یہ نکلا کہ سیپرا نے ٹینڈرز کی کارروائی پر اعتراض لگاکر دوبارہ ٹیندرز کرانے کی سفارش کردی تھی۔ تاہم پی ڈی نے نئے صوبائی سیکرٹری صنعت اور دیگر حکام کے ساتھ اجلاس کرکے صورتحال کی وضاحت کی تو سیکرٹری صنعت نے چیف سیکرٹری کو مذکورہ پروجیکٹ کی اہمیت کے پیش نظر جلد سے جلد دوبارہ منصوبے پر کام شروع کرانے کے لیے سمری بھیجی مگر یہ سمری بھی گزشتہ 8 ماہ سے حکام کی میز پر پڑی ہے۔ پی سی ون کے تحت یہ منصوبہ 2020 ءتک مکمل کیا جانا تھا۔ اس پر کل لاگت کا اندازہ 11 ارب 79 کروڑ 69 لاکھ روپے لگایا گیا تھا۔ منصوبے کے تحت 5 کمبائنڈ ایفولینٹ ٹریٹمنٹ پلانٹس شہر کے مختلف صنعتی علاقوں میں نصب کیے جانے ہیں جن میں سائٹ، ماری پور ٹرک اسٹینڈ کے قریب، کورنگی اور گلشن معمار صنعتی ایریا شامل ہے۔
سندھ بیورو کریسی