ماحولیاتی آلودگی انسانی زندگیوں، معیشت سے کھیل رہی ہے

51

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایف پی سی سی آئی بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئرمین ،پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی عوام اور معیشت کو نقصان پہنچا رہی ہے اور اب اس معاملہ کو مزید نظر انداز کرنا ناممکن ہو گیا ہے ورنہ اس کی بھاری قیمت ادا کرنا ہو گی۔وفاقی وصوبائی حکومتیں آمدہ بجٹ میں اس اہم شعبہ کے لیے فنڈنگ بڑھائیںتاکہ آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔میاں زاہد حسین نے عالمی یوم ماحولیات پر منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے ذمہ دار ترقی یافتہ ممالک ہیں جبکہ سزا ترقی پذیر ممالک بھگت رہے ہیں۔ ہم نے بہت سے اقسام کے جانوروں، پرندوں ،کیڑے مکوڑوں اور پودوں کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا ہے جس کے منفی اثرات دنیا بھگت رہی ہے۔اربوں افراد زراعت جبکہ کروڑوں جنگلات اور دریائوں پر انحصار کرتے ہیں مگر کسی کو ان کی پرواہ نہیں۔پیداوار پر غیر ضروری فوکس کا نتیجہ اب ماحولیاتی تبدیلی کی صورت میں سامنے آ رہا ہے اور دنیا کو صنعت، زراعت اور انسانی صحت کی مد میںسالانہ کھربوں ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے تاہم ماحولیات کے ماہرین کی وارننگز سالہا سال سے نظر انداز ہوتی رہی ہیں جس سے ماحولیاتی مسئلہ بڑھتا چلا گیاہے۔اہم ممالک کے مابین پیداوار اور جی ڈی پی بڑھانے کی دوڑ کی وجہ عالمی معاشی نظام ہے جو منفی اور کمزور بنیادوں پر استوار ہے ۔ دھواں دیتی گاڑیاں، صنعتیں، دھاتیں، نائٹریٹ، پلاسٹک اور انتہائی زہریلے فاسد مادے و کیمیائی اجزاء ،تیل کا اخراج، تیزاب، بے وقت بارش اور شہری و صنعتی فضلہ آلودگی میں مسلسل اضافے کا باعث بن رہے ہیں جبکہ مٹی کی آلودگی اسے ضروری نباتات سے محروم رکھ رہی ہے۔ فضا ء میں آلودگی صنعتوں اور کارخانوں سے نکلنے والی مختلف گیسوں، زہریلے مواد اور سلگتے ایندھن کی وجہ سے ہے۔فصلوں میں نائٹروجن کھاد کا استعمال بھی آلودگی کا سبب بن رہا ہے۔