بہاولپور کا اصل مقام

350

اقتدار میں آنے سے قبل عمران خان کہا کرتے تھے جب تک دیانت دار لوگوں کو اقتدار نہیں دیا جائے گا ملکی معیشت زوال پزیر رہے گی کیوں کے حکمران طبقہ چور ہے اور کوئی بھی چور دوسروں کے مال کی حفاظت نہیں کرسکتا چور چوری سے جا سکتا ہے ہیرا پھیری سے نہیں۔ عمران خان نے بار ہا میاں نوازشریف سے گزارش کی تھی کہ میاں صاحب جانے بھی دو ہماری باری بھی آنے دو لگتا ہے وہ کوئی مبارک گھڑی تھی۔ شرف قبولیت کا وقت تھا کہ عمران خان کی گزارش بارگاہ الٰہی میں قبول ہوگئی اور انہیں وزارت عظمیٰ مل گئی اور پھر یوں ہوا کہ لوگ بے روزگار ہونے لگے لوگوں کے سروں سے چھت چھینی جانے لگی ہر طرف نفسا نفسی کے عالم کی فضاچھا گئی۔ ہم نے بارہا انہی کالموں میں کہا ہے کہ ملک کرپشن سے نہیں بد عنوانی اور بری حکمرانی سے تباہ ہوتے ہیں۔ یہ جو ہر سال بڑی بڑی تصاویر اور لمبی لمبی خبروں کے ساتھ صنعت کاروں کے جود وسخا کے قصے سنائے جاتے ہیں اور قوم کو یہ باور کرونے کی سعی نامشکور کی جاتی ہے کہ پاکستان تو ان کے ٹیکسوں کی بیساکھیوں پر کھڑا ہے ورنہ جواہر لعل نہرو کے قول کے مطابق پاکستان 06ماہ دنیا کے نقشے سے مٹ چکا ہوتا۔
ہمارے بعض دوست صرف اس لیے خفا رہتے ہیں کہ ہم بہاولپور کی حقیقت سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ با خدا یہ تصور بالکل غلط ہے کہ ہم تاریخ کو مسخ کررہے ہیں۔ ہم تو تاریخ کے ماتھے کے جھومر کی چمک دمک کو ماند پڑنے کی روکنے کی کوشش کررہے ہیں۔ بعض دوستوں نے چیلنج کیا ہے کہ وہ صوبہ بہاولپور سے متعلق حقائق لے آئیں گے اور ہم بھی لے آئیں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے گا۔ شاید وہ یہ نہیں جانتے کہ پانی میں سے دودھ نہیں نکالاجاسکتا ہم نے کہا آپ کا ارشاد سر آنکھوں پر مگر اخباری تراشے مت لانا ریاست بہاولپور کے نوٹیفکیشن لانا کیونکہ ہم ریاست بہاولپور کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن پر ہی یقین رکھتے ہیں۔ وہ صوبہ بہاولپور کی جانب سے صرف ایک نوٹیفکیشن ہی لے آئیں ہم 1953 اور 1954 کے نوٹیفکیشن لے آئیں گے اور یہ بھی ثابت کریں گے کہ 1954تک ریاست بہاولپور نے پاکستان کے ملازمین کی تنخواہوں میں اہم کردار ادا کیا ہے قبل ازایں ہم بہاولپور صوبہ کے حوالے سے کئی کالم تحریر کر چکے ہیں مگر کسی نے صوبہ بہاولپور کا ثبوت پیش نہیں کیا بس اپنی محفلوں میں گالیوں سے نوازتے رہتے ہیں۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ صنعت کار ٹیکس دیتے ہیں مگر یہ کوئی احسان نہیں ٹیکس تو غریب آدمی بھی دیتا ہے صنعت کار ایک ارب کا ٹیکس دیتا ہے تو سبسڈی کے نام پر کئی ارب وصول کرلیتا ہے سوال یہ ہے کہ صنعت کاروں کو سبسڈی کیوں دی جاتی ہے غریبوں کے خون پسینے کی کمائی سبسڈی کے نام پر کیوں لٹائی جاتی ہے۔ مگر ازخود نوٹس لینے کی ماہر عدلیہ نے صنعت کاروں کو سبسڈی دینے کا ایکشن کبھی نہیں لیا حالانکہ عدلیہ قوم کے حقوق کی محافظ ہے اور یہ اس کی ذمے داری بھی ہے المیہ یہی ہے کہ قوم کے بارے میں سوچنا ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ صدر ایوب خان کے دور میں آٹا، چینی کی قیمتیں یکساں تھیں۔ ہر ہفتے اور ہر ماہ قیمتوں میں اضافہ ممکن نہ تھا۔ ایوب خان کی حکومت اس دن لڑکھڑا گئی تھی جس دن چینی کی قیمت میں دس پیسے کا اضافہ ہوا تھا اس وقت حکومت ڈپو پر ایک روپے کے دس پیسے دیا کرتی تھی اور مارکیٹ میں ایک روپیہ فی کلو تھی۔ عوام آٹا تو گہوں سے لیتے ہیں مگر چینی بازار سے خریدتے ہیں یہ حالات ڈپو ہولڈر کے لیے نقصان دہ تھے اس نقصان کی تلافی کے لیے مارکیٹ میں چینی کی قیمت 25پیسے بڑھا دی گئی جیسے عوام نے تسلیم نہ کیا اور یوں یہ معاملہ اتنا بڑھا کہ ایوب خان کی حکومت کو 25پیسے لے ڈوبے۔
جواہر لعل نہرو ایک دور اندیش اور بے دار مغز انسان تھے انہوں نے نوزائیدہ پاکستان کے معاشی حالات کے پیش نظر ہی کہا تھا مگر اس وقت نواب آف بہاولپور پاکستان کی انگلی نہ پکڑتے یہ اپنے پروں پر چلنے کے قابل بھی نہ ہوتا اور ساری دنیا جواہر لعل نہرو کی دوراندیشی کے گن گا رہی ہوتی۔ مگر نواب آف بہاولپور کو اس کا کیا صلہ ملا اس سے تو اس کا مقام اور اس کی حیثیت بھی چھین لی گئی پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس کا خزانہ خالی تھا زر ضمانت نہ ہونے کے باعث پاکستان اپنی کرنسی جاری نہیں کرسکتا تھا۔ یوں پاکستان کا وجود بے معنی ہوجاتا اور جواہرلعل نہرو کی پیش گوئی پوری ہوجاتی تب نواب آف بہاولپور آگے بڑھے اور 20من سونا زر ضمانت کے طور پر نوزائیدہ پاکستان کی جھولی میں ڈال دیا۔ برصغیر کی ریاستوں کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ بھارت یا پاکستان سے ساتھ الحاق کرلیں۔ سو 1955 کے بعد ریاست بہاولپور نے پاکستان کے ساتھ الحاق کر لیا یوں ریاست بہاولپور پاکستان میں ضم ہوگئی نواب آف بہاولپور نے پاکستان پر جو احسانات کیے ان کا احترام کیا جاتا نواب آف بہاولپور کے جذبات محترم سمجھا جاتا تو ریاست بہاولپور کو اہم مقام دیا جاتا مگر ریاست بہاولپور کی نیکیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے نیکی کرنے والے ہی کو دریا برد کردیا گیا حالانکہ پنجاب کے بجائے ریاست بہاولپور کو اہم مقام ملنا چاہیے تھا پنجاب کے بجائے بہاولپور کو بڑے بھائی کا رتبہ دیا جاتا اہل بہاولپور کو بے روزگاری کے عذاب سے نجات دلائی جاتی بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نواب بہاولپور 20من سونا پاکستان کو دینے کے بجائے بہاولپور کو ترقی دیتے یہاں کارخانے اور مختلف فیکٹریاں لگاتے تو آج اہل بہاولپور در بدر کی ٹھکریں نہ کھاتے مگر ان کی سوچ غلط ہے کیونکہ نواب آف بہاولپور اپنی ریاست کی بھلائی کے بارے میں سوچتے تو پاکستان پیدا ہوتے ہی جواہر لعل نہرو کی پیش گوئی کی بھینٹ چڑھ جاتا۔