خوبی کا معیار

320

شوبز سے متعلق کوئی بھی شخصیت ابھر رہی ہو‘ اپنے عروج پر ہو یا اپنے کیریئر کے اختتام کی جانب بڑھ رہی ہو‘ سب کو میڈیا میں بہت کوریج مل رہی ہے، اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ کیا موبائل فون ہیں؟ جو آج کل ہر کسی کے ہاتھوں میں ہیں‘ اس کی وجہ فیس بک یا ٹویٹر یا کوئی سماجی پہلو؟ پرنٹ میڈیا ہو یا برقی میڈیا‘ سب جگہ انہیں ان کی اوقات سے بڑھ کوریج ملتی ہے‘ ان کے لباس‘ ان کی شادی‘ طلاق‘ طلاق کے بعد دوسری شادی‘ ان کے اطوار غرض زندگی کے ہر پہلو نمایاں پیش کیے جاتے ہیں‘ ان کے مقابلے میں کسی عالم دین‘ کسی ڈاکٹر‘ کسی انجینئر‘ کسی قومی کھلاڑی اور نمایاں کارکردگی کے حامل کسی طالب علم کو ان جیسی جگہ کیوں نہیں ملتی‘ کیا یہ سب لوگ ہیرو کا درجہ نہیں پاتے‘ یا اس قابل نہیں کہ ان کی توصیف اور تقلید کی جائے۔ یہ نکتہ اور پہلو سنجیدہ غور کے قابل ہے، اس پر میڈیا اور خود ان شخصیات کو بھی غور کرنا ہوگا جنہیں شو بز کے مقابلے میں کم اہمیت ملتی ہے۔
آج کا طالب علم اور نوجوان طبقہ کسے ہیرو مانتا ہے؟ یہ ہے وہ سوال جس کا جواب مل جانے پر ان تمام سوالوں کے جواب مل جائیں گے کہ شوبز کے لوگ کیوں اہمیت حاصل کررہے ہیں۔ تین چار عشرے قبل میڈیا کو دبائو کا سامنا تھا اور یہ دبائو تشدد میں تبدیل ہوگیا کہ کسی کا نام لیے بغیر ہی بات کرتے ہیں ہر گروپ یہ چاہتا تھا کہ اس کی خبر شائع ہو اور اس کے مخالفین کی خبر kill ہوجانی چاہیے۔ میڈیا پر یہ تشدد کم نہیں ہوا بلکہ مسلسل بڑھ رہا ہے آج بھی یہی کیفیت ہے جب میڈیا میں سیاسی شخصیات سے متعلق خبروں کی اشاعت پر پابندی لگا دی جائے گی یا ایسی کسی بھی کوشش کی ہمت افزائی نہیں ہوگی تو پھر میڈیا کو کچھ تو بیچنا تھا اور بیچنا ہے‘ لہٰذا جہاں میڈیا میں شوبز سے وابستہ لوگ بہت کم کوریج پاتے تھے سیاسی خبروں کی جگہ بھی انہیں ملنا شروع ہوگئی کیونکہ پرنٹ میڈیا کے بہت بڑے حصے کو اپنی اشاعت سے غرض تھی‘ معیار سے نہیں۔
جنرل ضیاء الحق کے دور میں ایک بار یوں ہوا کہ جنرل ضیاء الحق نے ملک کے چند بڑے اخبارات کے مدیروں کو ملاقات کے لیے بلایا اور ان سے ملاقات کے لیے مخصوص ہال کے متصل کمرے میں انہیں ’’آئینہ‘‘ دکھانے کا بھی اہتمام کیا گیا‘ ملاقات کے بعد وہ انہیں متصل کمرے میں لے گئے اور کہا کہ انہیں بتانا چاہتے ہیں کہ ملک کا میڈیا کیا کر رہا ہے‘ اس کمرے کی دیواروں پر مختلف اخبارات کے فلمی ایڈیشن چسپاں کیے گئے تھے‘ انہیں یہ سب دکھا کر اخبارات کے مدیروں سے کہا کہ میں تو ملک میں اسلام نافذ کرنا چاہتا ہوں مگر میڈیا کیا کر رہا ہے؟ وہیں کھڑے کھڑے ایک مدیر نے دوسرے کی جانب اشارہ کرکے جنرل ضیاء الحق سے کہا کہ اگر یہ صاحب فلمی ایڈیشن بند کردیں تو میں بھی بند کردوں گا‘ لیکن یہ کام بند نہیں ہوا‘ حد تو یہ ہے کہ ہمارے میڈیا میں انڈین اداکاروں کی تصاویر بھی شائع ہونا بند نہیں ہوئیں۔ ایک جانب کشمیر کے لیے درد اور دوسری جانب بھارتی اداکارائوں کی تصاویر، کشمیر کے لیے یہ کیسا درد ہے؟ وہ جیسا بھی لباس پہنیں اسی لباس والی تصویر شائع ہوجاتی ہے‘ ملکی میڈیا جسے ہم قومی میڈیا بھی کہتے ہیں‘ نہ کسی مولوی کی تصویر شائع کرے‘ نہ کسی قومی کھلاڑی اور نمایاں کارکردگی کے حامل طالب علم کی تصویر شائع کرے مگر سری نگر میں آباد قبرستانوں کی قسم کھا کر بھارتی اداکاروں کی تصاویر تو شائع کرنا بند کردیں۔ کچھ تو اپنے لیے کوئی خوبی چن لیں اور کسی خوبی کے معیار کو اپنائیں۔ تقریباً دس سال ہونے والے ہیں‘ قاضی حسین احمد نے میڈیا میں فحاشی کے فروغ کے خلاف عدالت عظمیٰ میں ایک رٹ دائر کی تھی اس کی دو چار بار سماعت ہوئی تاہم آج تک اس پر کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا‘ ان کے انتقال کے بعد تو یہ رٹ پٹیشن ویسے ہی اب کسی حدتک غیر موثر بھی ہوچکی ہے۔ ہمارے سیاست دانوں کو بھی چاہیے کہ وہ میڈیا کے لیے وہ بات کریں جس میں کوئی سبق ہو‘ رہنمائی میسر آئے‘ بیش تر سیاسی رہنمائوں نے تو وتیرہ ہی بنا لیا ہے کہ وہ مخالفین پر جملے کستے ہیں، جگت بازی کرتے ہیں، مذاق اْڑاتے ہیں، حالیہ کورونا وائرس کے بحران کو سامنے رکھ کر ملک کا ہر سیاست دان اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائے کہ اس نے سوائے جگت بازی کے قوم کی کیا رہنمائی کی ہے‘ یہ کام اگر سیاست دانوں ہی کو کرنا ہے تو پھر شوبز والے تو سیاست ہی کریں گے اور اہمیت حاصل کریں گے۔ میڈیا بھی انہی کے پیچھے بھاگے گا کہ میڈیا کو تو اپنی خبر بیچنی ہے‘ ایک خبر بیچنے کے لیے آٹھ صفحات کے اخبار کا پیٹ بھرنا ہے‘ جب خبر ہی میسر نہیں ہوگی‘ جب میڈیکل کے شعبے سے وابستہ افراد کی جانب سے کوئی معلوماتی آرٹیکل نہیں ہوگا تو میڈیا کیا کرے گا‘ اخبارات نے آٹھ صفحات تیار کرنے ہیں اور برقی میڈیا کو پینتالیس منٹ کا اپنا ٹاک شو کرنا ہے‘ کچھ تو کرے گا‘ جو دستیاب ہوگا لہٰذا وہ تو وہی پیش کرے گا۔